اندھیر دنیا ایک سچی کہانی ۔۔۔



وہ نابینا ہوکر بھی دال چاول کی ریڑھی لگاتا اور شام تک اتنا ہوجاتا کہ بیوی بچوں کیلئے کچھ حاصل کرلیتا
کبھی تو حیرت ہوتی کہ یہ شخص اتنی محنت کیوں کر رہا ہے۔؟
تو کیا اسے بھیک مانگنی چاہیے؟
نہیں،نہیں اسے یونہی محنت کرنی چاہیے۔

ایک دن اس کی ریڑھی پر کھڑے ہوئے اور دال چاول بنانے کا کہا۔
اس نے کمال مہارت سے پلیٹ اٹھائی اور چمچہ دیگ میں ڈال کر اندازے سے چاول نکالنے لگا میری لیے یہ منظر کافی حیرت کا باعث تھا۔!
دال چاوال ذائقہ میں بے مثال تھے، اس کی ریڑھی پر کافی رش تھا کھانے والوں کا۔
پیسے وصول کرنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ مختلف جیبیں بنائی ہوئی تھیں جن میں ہزار پانچسو سو اور پچاس کے نوٹ رکھے ہوتے وہیں سے اندازے سے نکالتا۔!

مجھے کچھ تجسس ہوا، رش چھٹا تو میں میں نے اسے مخاطب کیا کہ یہ کام کب سے کر رہے ہیں۔؟
مسکرا کر کہنے لگا جب سے نابینا ہوا ہوں۔!
تو پہلے کیا کرتے رہے۔؟
اس نے اپنی کہانی سنائی کہ سنگر بننا چاہ رہا تھا، گلوکار بننے کا شوق تھا ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں آنکھوں کی روشنی چلی گئی اور نوبت یہاں تک آگئی !

اس نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ بینا تھا تو ایک لڑکی اسے پسند کرگئی تھی جس نے نابینا ہونے کے بعد مجھ سے شادی کیلئے حامی بھری۔!
میں نے اسے کہا بھی کہ میں نابینا ہوں کیسے گزارو گی زندگی؟
لیکن وہ پاگل لڑکی نہیں مانی اور یوں ہماری شادی ہوگئی اب الحمدللہ چار بچے ہیں دال چاول وہی بنا کر دیتی ہے اور میں یہاں آکر کھڑا ہوجاتا ہوں، اچھا گذراہ ہوتا ہے۔!

یہ کہانی ہے کاشف نامی شخص کی جو اسی شہر کے ایک کونے میں ریڑھی پر کھڑا سمجھا رہا ہے کہ ناامیدی شیطان کا دھوکہ ہے۔!
کاشف سے اس ملاقات کے بعد شناسائی بڑھی تو اکثر اس کی ریڑھی پر جا کھڑے ہوتے اور دال چاول کھاتے۔
اسے آواز پہچاننے کا ملکہ حاصل تھا، آواز پہچان کر نام لیتا کہ آگئے بڑے بھائی۔؟

ایک دن اس کے مقام پر پہنچے تو کاشف دکھائی نہیں دیا اگلے دن بھی دکھائی نہیں دیا۔!
پھر ایک ہفتہ بعد جانا ہوا تو کاشف کھڑا اپنی ریڑھی پر گاہکوں کو نمٹا رہا تھا۔!
رش کچھ چھٹا تو سلام کلام کیا ۔ کاشف کچھ خاموش خاموش سا تھا۔!
کہاں تھے اتنے دن کاشف بھائی۔؟
بیوی مرگئی میری۔!
کیا؟ گھر والی؟
ہاں گھر والی چلی گئی۔
آنکھیں تو اندھی تھیں دنیا بھی اندھیر ہوگئی۔!

کیسے ہوا یہ سب۔؟
اس دن میں گھر پر تھا وہ کپڑے دھو رہی تھی اور اسے کرنٹ نے پکڑ لیا وہ چلانے لگی، مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہی تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔!
میں نے بڑے ہاتھ پاؤں مارے۔
ادھر ادھر دیواروں سے ٹکرایا لیکن اس کے پاس نہیں پہنچ سکا۔!
میں کچھ نہیں کر پایا مجھے مین سوئچ کا ہی نہیں پتہ تھا کہ میرے گھر میں مین سوئچ کہاں لگا ہے۔!
اور جب تک میں اس کے پاس پہنچا اس کی چیخیں آنا بند ہوچکیں تھی۔!
وہ مرگئی تھی میرے ہوتے بھی وہ مر گئی۔!
میں اس کی کوئی مدد نہیں کر سکا میں اسے دیکھ بھی نہیں پایا۔!
مجھے اپنے نابینا ہونے کا کوئی افسوس نہیں لیکن کاش میں اس وقت بینا ہوتا میں اس عورت کو بچا سکتا جس نے مجھے بچوں کی طرح پالا جس نے مجھے کبھی یہ احساس نہیں دلایا کہ میں ناکارہ فرد ہوں۔!

بس اللہ کی مرضی تھی کیا کریں۔!
تم کھاؤ گے دال چاول؟
اس اللہ کی بندی نے ایک دن کہا تھا کہ کب تک میں مصالحہ جات ڈالتی رہونگی فلاں فلاں مصالحہ ہے وہ ڈال دیا کرنا۔!
میں نے آج وہی مصالحے ڈالے ہیں دیکھو ذرا تم ذائقہ پہلے والا ہی ہے کہ نہیں۔؟
نفس امارہ

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started