ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال میں

تحرير

اگر کوئی ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال میں خوش رہتی ہے ۔۔۔اگر وہ اپنی بوڑھی ساس کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ کھانے کو دیتی ہے….اگر وہ سسر کے سونے پر اپنے بچوں کو شور کرنے سے روکتی ہے ۔

اگر وہ خاوند کے گھر آنے پر مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرتی ہے اور اس کی تواضع ٹھنڈے مشروب سے کرتی ہے تو

“””میرے خیال میں وہ آن پڑھ نہیں بلکہ ماسٹرز ان سائیکلوجی ہے “””

کیونکہ وہ جانتی ہے کہ شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ ایک بار پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتی اور اسے بار بار بھوک لگتی ہے ۔
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ بوڑھاپے میں غصہ جلدی آتا ہے اور نیند ٹوٹنے پر تو بےحد آتا ہے
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کا سسرال بہت سی چیزیں خریدنا افورڈ نہیں کر سکتا ،
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میرا شوہر باہر کے سرد وگرم سے نبردآزما ہوکے آ رہا ہے ۔
اگر ہر لڑکی اسی طرح اپنے سسرال میں موجود افراد کی نفسیات سمجھ لے اور مشکلات کو تدبیر سے حل کرنے لگے تو بہت سے مسائل جنم لینے سے پہلے ہی وفات پا جائیں اور خوشیوں کی پھوار ہر سمت سے برسنے لگے ۔

کیا ہم اپنے گھروں کا ماحول ایسا بنا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہم اپنی بیٹی کی تربیت اس لیول پہ کر سکتے ہیں ….؟؟؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو یاد رکھیے ۔ ایک دن اپکی بہو بھی ایسی ہی آ جائے گی ۔۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started