اسکندریہ


۔”” “” “”
اسکندریہ (Alexandria) مصر کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور اس کی سب سے بڑی بندر گاہ ہے۔ اسکندریہ شمال وسطی مصر میں بحیرۂ روم کے کنارے ٢٠ میل (٣٢ کلومیٹر) کے علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک تاریخی شہر اور سوئز کے راستے قدرتی گیس اور تیل کی پائپ لائنوں کے باعث اہم صنعتی مرکز ہے۔

زمانہ قدیم میں یہ شہر اسکندریہ کے روشن مینار (لائٹ ہاؤس) کے باعث مشہور تھا جو سات عجائبات عالم میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ زمانہ قدیم میں اسکندریہ کا کتب خانہ بھی اس کی وجہ شہرت تھا جو اپنے وقت کا سب سے بڑا کتب خانہ تھا۔ اس شہر کو ٣٣۴ قبل مسیح میں سکندر اعظم نے بسایا تھا اور اسی کے نام پر آج تک “اسکندریہ” کہلاتا ہے۔

مسلمانوں نے ١۴ ماہ کے محاصرے کے بعد ٦۴١ء میں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت اس شہر کو فتح کیا۔ ٦۴۵ء میں بازنطینی بحری بیڑے نے شہر کو حاصل کر لیا لیکن اگلے سال تک دوبارہ کھو بیٹھا۔

٦۴٢ء میں جنگ کے دوران لائبریری اور دیگر مشہور عمارات تباہ ہو گئیں۔ روشن مینار ١۴ ویں صدی میں زلزلے سے تباہ ہوا اور ١۷٠٠ء تک یہ شہر ایک چھوٹے سے قصبے کی صورت اختیار کر گیا۔

١٨١٠ء میں مصر کے عثمانی گورنر محمد علی پاشا نے شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا آغاز کیا اور ١٨۵٠ء تک اسکندریہ ماضی کی عظمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

جولائی ١٨٨٢ء میں شہر برطانوی بحری افواج کی بمباری کی زد میں آیا اور انہوں سے اس پر قبضہ کرلیا۔ ٢٨ فروری ١٩٢٢ء کو برطانوی افواج سے مصر کو آزادی نصیب ہوئی۔
۔۔۔👇👇👇

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started