حضرت عمرؒ بن عبد العزیز کے گیارہ بیٹے تھے اور وہ صرف اٹھارہ دینار چھوڑ کر فوت ہوئے۔ جن میں سے پانچ دینار کا وہ کفن دیئے گئے اور چار دینار سے ان کے لئے قبر خریدی گئی اور باقی دینار ان کے بیٹوں میں تقسیم کر دیئے گئے۔ جبکہ
ہشام بن عبد الملک کے ہاں بھی گیارہ لڑکے تھے جب ہشام کا انتقال ہوا تو اس نے ترکہ میں ہر لڑکے کے حصے میں دس لاکھ دینار چھوڑے۔
میں نے ایک ہی دن عمر بن عبدالعزیز کے ایک بیٹے کو دیکھا وہ اللّٰہ کی راہ میں سو گھوڑے صدقہ کر رہا تھا اور ہشام کے بیٹے کو دیکھا وہ بازاروں میں بھیک مانگ رہا تھا!!!
جب عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللّٰہ علیہ بستر مرگ پر تھے تو لوگوں نے ان سے پوچھا: “اے عمر! تم اپنے بیٹوں کے لئے کیا چھوڑے جا رہے ہو؟
انہوں نے فرمایا: “میں نے ان کے لیے اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی کا تقویٰ چھوڑا ہے. پس اگر وہ نیکو کار ہوئے تو اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی نیکو کاروں کا دوست ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ کچھ اور ہوئے تو میں ان کے لئے وہ مال ہر گز نہ چھوڑوں گا جو وہ اللّٰہ کی نافرمانی کے کاموں میں ان کا مددگار بنے۔”
۔۔۔👇👇👇