۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ ١٢١١ء میں مصر کے ایک گاؤں بوصیر یا بوصیری میں پیدا ہوئے۔ اور آپ کی وفات ١٢٩۴ء میں ہوئی۔ پورا نام شرف الدین ابو عبد اللہ محمد ابن سعد البوصیری تھا یہ ایک مصری شاعر تھے جو نسلاً بربر تھے۔ آپ نے اسی گاؤں میں ابنِ حناء کی سرپرستی میں شاعرانہ کلام لکھے۔ پہلے آپ امراء کی تعریف میں بھی قصیدے لکھتے تھے، لیکن زیارت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف ہی رہا۔ اُن کا سب سے مشہور شاعرانہ کلام قصیدہ بردہ شریف ہے جو کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعت، مدحت و ثناء خوانی پر مبنی ہے اور اسلامی دنیا میں نہایت مشہور و مقبولِ عام ہے۔ اور غالباً دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا نعتیہ کلام ہے۔
یہ اپنے زمانے کے متبحر عالمِ دین، شاعر اور شہرۂ آفاق ادیب تھے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا جن کی بناء پر امراء اور سلاطینِ وقت ان کی بہت قدر و منزلت کرتے تھے۔ ایک روز جا رہے تھے کہ سرِ راہ اللہ کے ایک نیک بندے سے آپ کی ملاقات ہو گئی، انہوں نے آپ سے پوچھا : بوصیری! کیا تمہیں کبھی خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ہے؟ اس کا جواب آپ نے نفی میں دیا۔ لیکن اس بات نے ان کی کایا پلٹ دی اور دل میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و محبت کا جذبہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیال میں مستغرق رہتے اور اسی دوران کچھ نعتیہ اشعار بھی کہے۔
پھر اچانک ان پر فالج کا حملہ ہوا جس سے ان کا آدھا جسم بیکار ہو گیا۔ وہ عرصہ دراز تک اس عارضے میں مبتلا رہے اور کوئی علاج کارگر نہ ہوا۔ اس مصیبت و پریشانی کے عالم میں امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کے دل میں خیال گزرا کہ اس سے پہلے تو دنیاوی حاکموں اور بادشاہوں کی قصیدہ گوئی کرتا رہا ہوں کیوں نہ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں ایک قصیدہ لکھ کر اپنی اس مرضِ لا دوا کے لئے شفاء طلب کروں؟ چنانچہ اس بیماری کی حالت میں قصیدہ لکھا۔ رات کو سوئے تو مقدر بیدار ہو گیا اور خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے شرف یاب ہوئے۔ عالمِ خواب میں پورا قصیدہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھ کر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کے اس کلام سے اس درجہ خوش ہوئے کہ اپنی چادر مبارک ان پر ڈالی اور پورے بدن پر اپنا دستِ شفاء پھیرا جس سے دیرینہ بیماری کے اثرات جاتے رہے اور آپ فوراً شفایاب ہو گئے۔ اگلے دن صبح صبح آپ اپنے گھر سے نکلے اور سب سے پہلے جس سے آپ کی ملاقات ہوئی وہ اس زمانے کے مشہور بزرگ حضرت شیخ ابوالرجاء تھے۔ انہوں نے امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کو روکا اور درخواست کی کہ وہ قصیدہ جو آپ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں لکھا ہے مجھے بھی سنا دیں۔ امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کونسا قصیدہ؟ انہوں نے کہا : وہی قصیدہ جس کو آپ نے رات کو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سنایا تھا۔
آپ کو تعجب ہوا اور پوچھا کہ اس کا تذکرہ تو میں نے ابھی تک کسی سے نہیں کیا پھر آپ کو کیسے پتہ چلا؟ انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم جب آپ یہ قصیدہ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشی کا اظہار فرما رہے تھے تو میں بھی اسی مجلس میں ہمہ تن گوش اسے سن رہا تھا۔ جس کے بعد یہ واقعہ مشہور ہو گیا اور اس قصیدہ کو وہ شہرتِ دوام ملی کہ آج تک اس کا تذکرہ زبان زد خاص و عام ہے اور اس سے حصولِ برکات کا سلسلہ جاری ہے۔
قصیدہ بردہ کی وجہ تسمیہ بھی یہ ہی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ سے خوش ہو کر اپنی چادر مبارک ان کے بیمار جسم پر ڈالی تھی اور پھر اپنا دست شفاء بھی پھیرا تھا جس کی برکت سے وہ فوراً شفاء یاب ہوئے لہٰذا اس چادرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے اس قصیدہ کا نام ’’قصیدہ بردہ‘‘ مشہور ہوا۔ یعنی چادر والا قصیدہ۔
اور اس کی شہرت صرف مصر تک ہی نہیں رہی۔ بلکہ دنیا میں ہر جگہ ہی اس کو ذوق و شوق سے مسلمان پڑھتے ہیں۔
آپ کا انتقال ١٢٩۴ء میں ہوا اور آپ کا روضہ مصر کے شہر اسکندریہ میں ہے ۔۔۔👇👇👇