چنگیز خان کا انتقال اور قبر






جب چنگیز خان کا انتقال ہوا۔ تو مرنے کے بعد اس کی لاش کو چھکڑے میں لاد کر صحرائے گوبی کے پار اس کے مرکزی شہر لایا گیا ۔ راستے میں جس جگہ سے چنگیز خان کے لاش گزرتی ان راستوں پر جوبھی قافلہ یا مسافر ملتا اسے قتل کردیا جاتا تاکہ کسی کو یہ خبر نہ ہوسکے کہ چنگیز خان مر گیا ہے۔

چنگیزخان کی لاش جب اس کے مرکزی شہر لائی گئی تو اسے دفن کرنے کے لئے صلاح و مشورہ ہوا ، منگولوں کے ایک سردار کو چنگیز خان نے بتادیا تھا کہ جب وہ مر جائے تو اسے شہر کے سب سے بڑے صنوبر کے درخت کے نیچے دفن کیا جائے۔ یہ درخت بہت اونچا اور بڑا تھا، اس درخت کو دیکھ کر چنگیز خان اکثر یہ کہا کرتا تھا کہ اس کا سایہ بوڑھے کے لئے بڑے آرام کی جگہ ہے۔ اس درخت کے ارد گرد صنوبر کے اور بھی چھوٹے چھوٹے درخت تھے جنھوں نے ایک طرح سے اس بڑے صنوبر کے درخت کو گھیر رکھا تھا۔
بہرحال صنوبر کے اس درخت کے سائے تلے ایک بہت بڑی قبر کھودی گئی ۔ اس کے بعد چنگیز خان کے اس گھوڑے کو ماردیا گیا جس پر اس نے اپنے آخری دنوں میں سواری کی تھی اور اسکی ہڈیاں علیحدہ کرکے ان ہڈیوں کو جلا کر خشک اور صاف کرلیا گیا۔اور اس قبر کے اندر ایک چھوٹا خیمہ نصب کیا گیا جس میںپکا ہوا گوشت ، اناج، ایک کمان، ایک تلوار اور اس کے گھوڑے کی ہڈیاں رکھی گئیں اس کے بعد اس قبر میں چنگیز خان کو دفن کردیا گیا۔ جب تک اس قبر کے ارد گرد چھوٹے درخت نہیں اُگ آئے اس وقت تک اس قبیلہ کے لوگ باری باری چنگیز خان کی قبر پر پہرہ دیتے رہے یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا تھا کہ کسی کو اس کی قبر کا پتہ ہی نہ چلے۔بہر حال چنگیز خان جو دشمن کو شکست دے کر ان کے سروں کے مینار تعمیر کرنے کا شوقین تھا اور دشمن کے سروں کی کھوپڑیوں کے پیالے بنا کر ان میں شراب پینے کا عادی تھا اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

_(ماخوذ : تاریخ عالم کی اہم شخصیات




۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started