مسکراہٹ تبسم ہنسی قہقہے۔
سب کے سب کھو گئے۔
ہم بڑے ہوگئے
ذمہ داری مسلسل نبھاتے رہے۔
بوجھ اوروں کا بھی ہم اٹھاتے رہے۔
اپنا دکھ سوچ کر روئیں تنہائی میں۔
محفلوں میں مگر مسکراتے رہے۔
کتنے لوگوں سے اب مختلف ہو گئے۔
ہم بڑے ہوگئے
اور کتنی مسافت ہے باقی ابھی۔
زندگی کی حرارت ہے باقی ابھی۔
وہ جو ہم سے بڑے ہیں سلامت رہیں۔
ان سبھی کی ضرورت ھے باقی ابھی۔
جو تھپک کر سلاتے تھے خود سو گئے۔
ہم بڑے ہوگئے
ختم ہونے کو اب زندگانی ہوئی۔
جانے کب آئی اور کیا جوانی ہوئی۔
دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گیا۔
جو حقیقت تھی اب وہ کہانی ہوئی۔
منزلیں مل گئیں۔
ہم سفر کھو گئے۔
ہم بڑے ہوگئے