اشبیلیہ (Seville)


۔”” “” “” “” “” “” “
اس کو سیویا اور سیولی بھی کہتے ہیں۔ یہ شہر رومیوں کا ہسپالس ہے۔ مسلمانوں کا اشبیلیہ اور ہسپانیوں کا سیویا میرے سامنے تھا۔

مؤرخین ١۵٠٠ء سے ٢٠٠٠ء تک پانچ سو سال کی تاریخ کو دنیا کا جدید ترین دور کہتے ہیں اور سیویا اس دور کا نقطہ آغاز تھا۔ امریکا اس شہر سے دریافت ہوا۔ سگریٹ، سگار اور بیڑی نے اس شہر میں جنم لیا، مکئی، آلو اور چاکلیٹ اس شہر سے جدید دنیا میں داخل ہوئے، افریقہ کے سیاہ فام غلام پہلی مرتبہ اس شہر سے امریکا پہنچائے گئے، کافی، گھوڑے اور گنا اس شہر سے لاطینی امریکا کا حصے بنے۔

یہ وہ شہر تھا جس نے پوری دنیا میں آتشک اور سوزاک جیسی جنسی بیماریاں پھیلائیں اور یہ وہ شہر تھا جو اندلس میں مسلمانوں کے زوال کی پہلی اینٹ بنا ۔۔۔ غرض آپ جدید دنیا کو جس زاویئے، جس اینگل سے بھی دیکھیں گے سیویا آپ کو درمیان میں نظر آئے گا۔ یہ شہر کرسٹوفر کولمبس، ابن بطوطہ اور ابن خلدون کا شہر ہے۔

سیویا کا پہلا حوالہ یونان کی رزمیہ داستان ہیلن آف ٹرائے میں ملتا ہے۔ داستان کا مرکزی کردار ٹروجن ہسپالس (سیویا) میں پیدا ہوا تھا۔ دوسرا اہم حوالہ مورش مسلمان ہیں۔ طارق بن زیاد کے قدموں نے ۷١١ء میں سپین کی سرزمین کو چھوا۔ وہ بربر غلام زادہ سپین میں جس جگہ اترا وہاں طریفہ کے نام سے شہر آباد ہوا۔ یہ شہر آج بھی تیرہ سو (١٣٠٠) سال سے قائم ہے اور یہ سپین اور مراکش کے درمیان اہم بندرگاہ ہے۔ مراکش کا شہر طنجہ (تانجیر) طریفہ سے صرف بیس منٹ کے آبی سفر کے فاصلے پر واقع ہے۔ طریفہ اور طنجہ کے درمیان ہر گھنٹے بعد فیری چلتی ہے۔ یہ فیری دو تہذیبوں کے ساتھ ساتھ یورپ اور افریقہ دو براعظموں کے درمیان رابطہ بھی ہے۔ بنو امیہ کے زمانے میں موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے کمانڈر اور گورنر تھے۔ طارق بن زیاد ان کا غلام تھا۔ طارق بن زیاد نے ۷١١ء میں جبل الطارق (جبرالٹر) فتح کر لیا اور وہ سپین کے اہم ترین شہروں کے طرف بڑھنے لگا۔ موسیٰ بن نصیر کا صاحبزادہ عبدالعزیز بھی طریفہ میں اترا اور وہ ہسپالس کی طرف بڑھنے لگا۔ عبدالعزیز بن موسیٰ نے ۷١٢ء میں ہسپالس فتح کیا اور شہر کا نام تبدیل کر کے اشبیلیہ رکھ دیا۔

یہ شہر پھر ٢٣ نومبر ١٢۴٨ء عیسائیوں کے ہاتھوں ختم ہونے تک اشبیلیہ ہی رہا۔ اشبیلیہ کی فتح کے دو سو سال بعد ٢ جنوری ١۴٩٢ء کو مسلمانوں کی آخری ریاست غرناطہ بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی۔ آخری مسلمان فرمانروا ابو عبداللہ محمد اپنے ١١٣٠ لوگوں کے ساتھ مراکش پہنچا۔ فیض گیا اور یوں سپین میں اسلامی ریاست کا پرچم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہو گیا۔

سیویا کا تیسرا حوالہ کرسٹوفر کولمبس ہے۔ وہ سقوطِ غرناطہ کے وقت عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کے ساتھ کھڑا تھا۔ کولمبس ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا۔ وہ فنڈنگ کے لئے یورپ کے تین بادشاہوں کے پاس گیا، مگر انکار ہو گیا۔ وہ آخر میں غرناطہ کے اسلامی سقوط پر نظریں جما کر کھڑا ہو گیا۔ جوں ہی الحمرا سے اسلامی پرچم اتارا گیا، وہ آگے بڑھا، ملکہ ازابیلا کا ہاتھ چوما، مبارک باد دی اور فنڈنگ کی درخواست کر دی۔ ملکہ اس وقت خوشی کی انتہا کو چھو رہی تھی، اس نے کھڑے کھڑے کولمبس کا منہ موتیوں سے بھر دیا یوں کولمبس تین اگست ١۴٩٢ء کو سیویا سے روانہ ہوا اور ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرتے کرتے دنیا کو نئی دنیا سے متعارف کرا گیا اور اس کے بعد پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا۔ دنیا صرف دنیا نہ رہی حیران کن دنیا بن گئی۔

سیویا ہائی وے کے دونوں طرف زیتون کے باغ موجود ہیں۔ اوپر جنوبی سپین کا نیلا آسمان تنا ہوا ہے۔ شہر کی پانچ سو سال کی جدید تاریخ تین حصوں میں تقسیم ہے۔ امریکا کی دریافت کا دور، یہ دور ١۵٠٠ء سے ساڑھے ١٨۵٠ء تک محیط ہے۔ سیویا ان ساڑھے تین سو سال میں دنیا کا امیر ترین شہر اور سپین رئیس ترین ملک بن گیا۔ کارلو فائیو (چارلس فائیو) ١۵١٦ء میں سپین کا بادشاہ بنا۔ یہ دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا۔ یہ تھائی لینڈ، ایک چوتھائی ہندوستان، آدھے یورپ اور پورے امریکا کا مالک تھا۔ چنانچہ سورج چل چل کر اور جل جل کر تھک جاتا تھا، لیکن کارلو فائیو کی سلطنت ختم نہیں ہوتی تھی۔ مگر پھر بحیرۂ ہند، یورپ اور امریکا کے زیادہ تر ملک سپین کے ہاتھ سے نکل گئے۔ امریکا اور ہندوستان سے تجارت ختم ہو گئی۔ ملک طوائف الملوکی کا شکار ہو گیا اور آہستہ آہستہ یورپ کا مردِ بیمار بنتا چلا گیا۔ یوں سپین کا پہلا سنہری دور اختتام پذیرہو گیا۔

سپین کا دوسرا دور ١٩٢٩ء میں شروع ہوا۔ بادشاہ الفانسو نے سپین کی معیشت کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے امریکا اور لاطینی امریکا کے ملکوں سے رابطہ کیا۔ کولمبس کا واسطہ دیا۔ نئی دنیا راضی ہوئی اور ١٩٢٩ء کو سیویا میں جدید دنیا کی سب سے بڑی نمائش شروع ہو گئی۔ لاطینی امریکا کے تمام ملکوں نے سیویا میں اپنے قونصل خانے بنائے۔ اپنے تجارتی جہازوں کا رخ سپین کی طرف موڑا اور یوں سپین ایک بار پھر ٹیک آف کرنے لگا۔

تیسرا دور ١٩٩٢ء میں شروع ہوا۔ بارہ اکتوبر ١٩٩٢ء کو امریکا کی دریافت کے پانچ سو سال پورے ہوئے۔ سپین کے و زیرِ اعظم فلپ گونزا لیز مارکوئز نے امریکی اقوام کو ایک بار پھر راضی کیا۔ سیویا میں امریکی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی ایک اور بین الاقوامی نمائش ہوئی اور سیویا کی مہربانی سے سپین ایک بار پھر جدید دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا۔ سپین آج جو کچھ ہے اس کی وجہ ١٩٢٩ء اور ١٩٩٢ء کی نمائشیں ہیں۔ سیویا کی مرکزی شاہراہ ١٩٢٩ء کی نمائش کے لئے تعمیر کی گئی تھی ۔

لاطینی امریکا کے زیادہ تر قونصل خانے اس سڑک پر واقع ہیں۔ سیویا میں چار مقامات اہم ہیں۔ مسلمان بادشاہوں کا محل القصر، کیتھڈرل، انڈین آرکائیو اور جدید محل۔
• القصر مسلمانوں کی آخری نشانی ہے۔ محل کی بیرونی اور اندرونی دیواریں آج بھی قائم ہیں۔ ان میں اسلامی دور کی خوشبو بھی موجود ہے۔ نیلی اور سفید ٹائلیں، وہی آبنوسی لکڑی کی چھتیں اور ان چھتوں پر اسلامی نقش، وہی وزنی منقش دروازے، وہی پتھر کے فرش، وہی قدیم لکڑی کے قدیم جھروکے، وہی کمروں کے اندر فوارے اور محل کے چاروں اطراف وہی سبز باغات ۔۔۔ مسلمانوں کی پوری تہذیب آج بھی القصر میں زندہ ہے۔

مسلمان اپنا طرز تعمیر مراکش سے لائے تھے۔ سپین کے عیسائی آرکی ٹیکٹس نے ان میں اپنا خونِ جگر ملایا۔ اور یوں دنیا میں اندلسی طرزِ تعمیر نے جنم لیا۔ آپ کو یہ طرزِ تعمیر قرطبہ میں بھی ملتا ہے، غرناطہ میں بھی اور سیویا میں بھی۔ اندلسی لوگ اونچی چھتیں بناتے تھے، دیواریں موٹی ہوتی تھیں اور ان پر مٹی میں چونا ملا کر ایک ایک انچ لیپ کیا جاتا تھا اور پھر اس لیپ پر سنگ مرمر کے ٹکڑے اور چھوٹی ٹائلیں لگائی جاتی تھیں۔ یہ ٹائلیں، سنگ مرمر اور آبنوسی لکڑی تینوں مل کر اندلسی فن بن جاتی تھیں۔

دالانوں، ڈیوڑھیوں اور کمروں کے درمیان سنگ مرمر کے فوارے لگائے جاتے تھے اور فواروں کا پانی سفید پتھروں کی نالیوں سے ہوتا ہوا صحن کے تالاب میں جا گرتا تھا۔ تالاب کے گرد سرو کے چھوٹے بڑے درخت، بوگن بیل اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں اور ان بیلوں میں رنگ برنگے پرندوں کے گھونسلے ہوتے تھے۔ یہ فن القصر میں اپنے تمام رنگوں کے ساتھ موجود تھا۔ بادشاہ کا حرم چھوٹا سا الحمرا محسوس ہوتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ عیسائی بادشاہ نے غرناطہ کے بادشاہ سے الحمرا کے معمار ادھار لئے اور محل کا یہ حصہ تعمیر کیا۔

کولمبس کا دفتر بھی القصر میں تھا۔ امریکا کی تمام تجارتی مہمات اسی دفتر سے روانہ ہوتی تھیں۔ کولمبس کے جہاز کا شناختی نشان اور کولمبس کی امریکا روانگی کی پینٹنگ دفتر کی دیواروں پر لگی ہیں ۔ پینٹنگ میں کولمبس کا دوست امریکانو ویسپیوسیو صاف نظر آتا ہے۔ امریکانو نے سرخ ٹوپی پہن رکھی تھی۔ امریکانو اطالوی تھا اور کولمبس کا دوست تھا۔ کولمبس موت تک امریکا کو انڈیا سمجھتا رہا۔ اس نے اسی لئے امریکا کے قدیم باشندوں کو ”ریڈ انڈین“ کا نام دیا تھا۔

امریکانو پہلا شخص تھا جس نے نقشے کی بنیاد پر ثابت کیا ”کولمبس نے انڈیا کا نیا راستہ نہیں بلکہ ایک نئی دنیا دریافت کی۔“ امریکانو کی تھیوری بعد ازاں سچ ثابت ہوئی چنانچہ نئے ملک کا نام امریکانو کے نام پر امریکا رکھ دیا گیا۔ بادشاہ فرڈیننڈ نے ١۵٠٨ء سیویا میں ”نیوی گیشن“ کی دنیا کی پہلی یونیورسٹی بنائی اور امریکانو کو اس کا سربراہ بنا دیا۔ یونیورسٹی کی عمارت آج تک موجود ہے۔ سپین کے تمام جہاز ران کولمبس کے اس دفتر سے اجازت لے کر امریکا جاتے تھے اور بادشاہ ان کے تجارتی سامان سے اپنا حصہ وصول کرتا تھا۔

کولمبس کے دفتر کے بعد محل کے دو ہال بہت اہم ہیں۔ پہلا کارلو فائیو کی شہزادی ازابیلا دوم کے ساتھ شادی کا ہال تھا۔ ازابیلا پرتگال کی شہزادی تھی۔ وہ ہال کے دائیں دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی جبکہ کارلو فائیو بائیں دروازے سے۔ دائیں دروازے پر آج بھی پرتگال کا جھنڈا اور شناختی نشان موجود ہے جبکہ بائیں دروازے پر سپین کا نشان اور جھنڈا تھا۔ یہ ہال خصوصی طور پر اس شادی کے لئے بنایا گیا تھا۔ دوسرا ہال تیونس کی فتح کی یادگار تھا۔

١۵٣۵ء میں ترک بادشاہ سلطان سلیمان اول تیونس تک پہنچ گیا۔ وہ سیویا فتح کر کے یورپ داخل ہونا چاہتا تھا۔ کارلو فائیو نے یورپی فوج بنائی، بحری جہازوں پر تیونس پہنچا اور عثمانی خلیفہ کو شکست دی۔ اس شکست نے فیصلہ کر دیا عثمانی خلافت شمالی افریقہ سے آگے نہیں آئے گی۔ کارلو فائیو نے فتح کے بعد یہ وکٹری ہال بنوایا۔ ہال کی تین دیواروں پر طویل قالین لٹک رہے تھے۔ قالین بافوں نے قالینوں میں جنگ اور فتح کا سارا احوال نقش کر رکھا تھا۔ یہ کارپٹ پینٹنگز تھیں اور یہ پینٹنگز ہر لحاظ سے ماسٹر پیس تھیں ۔۔۔👇👇👇

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started