۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
انسان کے عمل کی ریکارڈنگ زمین و آسمان میں ہو رہی ہے۔ انسان کی انگلیوں اور پاؤں کے نشانات کے ذریعہ ان کے اعمال نامہ کی ریکارڈنگ ہر لمحہ ہوتی رہتی ہے۔ اللہ کی خدائی کے منکر یہ یقین کرتے ہیں کہ مر جانے اور ہڈیوں کے سڑ گل جانے کے بعد کس طرح انسان کو اللہ اپنے دعوے کے مطابق اپنے سامنے لا کھڑا کرے گا۔ اس کے جواب میں خود اللہ نے ارشاد فرمایا ہے؛
اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَہٗ ؕ﴿۳﴾ بَلٰی قٰدِرِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ ﴿۴﴾
’’کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو اکٹھی نہ کر سکیں گے؟ کیوں نہیں، ہم اس بات پر قادر ہیں کہ (پھر سے) اس کی انگلیوں کے پور پور تک درست کر دیں۔‘‘
(سورۃ القیامۃ : ٣ تا ۴)
اسی طرح سورہ یٰسٓ میں انسان کے عمل کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں ارشاد باری ہے؛
اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ نَکۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمۡ ؕ ؑ وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ فِیۡۤ اِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۲﴾
’’یقیناً ہم مُردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو انہوں نے پیچھے چھوڑا اور ہر چیز ہم نے درج کر لی ہے ایک کھلی کتاب میں ‘‘۔
(سورۃ یٰسٓ : ١٢)
شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس آیت کریمہ کی تشریح میں فرمایا ہے کہ ’’وہ قدم کے نشانات بھی شامل ہو سکتے ہیں جو کسی عبادت کے لئے چلتے وقت زمین پر پڑ جاتے ہیں‘‘۔ اس طرح بروزِ قیامت انسان کے اعمال کی گواہی ان کے الفاظ و اقوال کے ساتھ ان کے قدموں کے نشانات بھی دیں گے جن کی مکمل طور پر ریکارڈنگ زمین اور فضا میں کی جا رہی ہے۔ سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ انگوٹھوں کے نشانات اور قدموں کے عکس زمین پر، کاغذ یا کپڑوں پر یا جس جگہ بھی ثبت ہوتے ہیں وہ ایک اہم ثبوت ہوتے ہیں، اس انسان کی مکمل شناخت کے لئے جن کے انگوٹھوں اور پاؤں کے نشانات ہیں۔
ان نشانوں کی اہمیت کے بارے میں انسان کو انیسویں اور بیسویں صدی تک کچھ پتہ نہیں تھا، مگر اس کی اہمیت اللہ نے قرآن کریم میں آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے بیان فرما کر قرآن کو فرمان الٰہی ہونے کا ثبوت قطعی فراہم کر دیا تھا۔ انگوٹھا کے نشان کی اہمیت کا پتہ سب سے پہلے ایک انگریز سائنس داں Henry Faulds کے مقالہ کے ذریعہ ١٨٨٠ء میں ہوا جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انگوٹھوں کے نشان زندگی میں کبھی بھی نہیں بدلتے ہیںاس تحقیق کی بنیاد پر ١٨٨۴ء میں پہلی بار ایک مجرم کو سزا ملی اور تب سے انگوٹھوں کے نشان کو قانون کی دنیا میں جرم کو ثابت کرنے اور اصلی خطاکار کا پتہ لگانے کا حتمی ثبوت مان لیا گیا ۔ ١٩ویں صدی کے قبل دنیا یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ معمولی انگوٹھا کا نشان انسان کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے بہترین اور آخری ثبوت کی حیثیت رکھے گا۔
اسی لئے اللہ نے کہا ہے کہ ہڈیوں کو یکجا کرنے کی بات کرتے ہو۔ ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمہاری انگلیوں کے نشان تک کو یا پور تک کو درست کر دیں گے۔ یعنی تمہاری تمام خطاؤں کو تمہارے سامنے انگوٹھوں کے ثبوت کے ساتھ پیش کر دیں گے کہ یہ سب تمہارا ہی کیا ہوا جرم ہے۔ انگوٹھا کے اس کرشمہ ساز ثبوت کے بارے میں سائنس نے تحقیق کر کے ١٨٨٠ء ہی میں پتہ لگا لیا تھا۔ مگر قدموں کے نشانات بھی ایک حتمی ثبوت کا درجہ رکھتے ہیں، اس کے بارے میں گیارہویں بارہویں صدی کی سائنسی تحقیق نے بتا دیا کہ انسان جب چلتا ہے تو اس کے قدموں کے نشانات جو لہروں کے ذریعہ چیزوں پر ثبت ہوتے ہیں وہ کسی اور کے قدموں کے نشان سے بالکل میل نہیں کھاتے ہیں۔ یعنی انسان کے قدموں کے نشان ریکارڈ ہوتے ہیں، منفرد ہوتے ہیں اور بدلتے نہیں ہیں۔
اس لئے اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ جو کچھ انسان مرنے سے قبل اپنے اعمال کو یکجا کرتا ہے، وہ سب کے سب ریکارڈ کئے جاتے ہیں ۔ قرآنی آیات کی تفسیر میں یہ بات آتی ہے کہ انسان کے اعمال ان کے قدموں کے نشانات کے ذریعہ بھی یکجا ہوتے ہیں، ریکارڈ ہوتے ہیں۔ قدموں کے عکس کے بارے میں گزشتہ دنوں کافی اطلاعات شائع ہوئی ہیں، جو قاری کی نگاہ سے گزری ہوں گی۔ ملک اور بیرون ملک کے مختلف روزناموں اور جریدوں میں اس کی اطلاع شائع ہوئی ہے ۔ سائنسی تحقیق کے مطابق ’’چونکہ پسینوں کے غدود کی نالیاں برادمہ (Epidermis) کی اُبھاروں کی چوٹیوں پر کھلتی ہیں، اس لئے جب کسی ہموار چیزوں کو چھوا جاتا ہے تو اسی پر انگلیوں یا پاؤں کے نشانات ثبت ہو جاتے ہیں۔ مگر اب تو یہاں تک ثابت کیا جا رہا ہے کہ انگلیوں، پاؤں، جسموں کی لہروں کے ذریعہ نشانات ثبت یا عکس درج ہو جاتے ہیں۔
میڈیکل ویب سائٹ MED کی رپورٹ کے مطابق جاپان کی ’’شن شو یونیورسٹی‘‘ کے ڈاکٹر جناب ’ تادپاتا سکی‘ جو اس طرح کی تحقیق کے اہم فرد ہیں، کہتے ہیں کہ ’’پاؤں ہمارے جسم کا ایسا واحد حصہ ہیں جو چلنے کے دوران اپنے ماحول سے براہِ راست رابطے میں آتے ہیں۔ چنانچہ معجزاتی طور پر پاؤں اپنی مخصوص چال کے نشان زمین پر منتقل کرتے ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے ہم اپنے جاننے والوں کو ان کی چال کی بناء پر دور سے ہی پہچان لیتے ہیں۔ چاہے وہ دور سے صاف طور پر دکھائی بھی نہ دے رہے ہوں ۔
ماہرین نے اپنے تجربات کے دوران ١٠۴ انسانوں کو ’فٹ میٹ طرز کے ایسے پلیٹ فارم پر سے گزرنے کو کہا جس میں ہزاروں سینسر نصب کئے گئے تھے۔ انہوں نے ہر انسان کے دس قدموں کا ڈیٹا ریکارڈ کر کے اس کا تجزیہ کیا جس سے پتہ چلا کہ ہر شخص کے قدموں کا الیکٹرانک گراف دوسرے شخص سے بالکل مختلف ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر پاتا سکی نے اپنے ریسرچ میں کہا ہے کہ ١٠۴ افراد کے ایک ہزار چالیس قدموں کے نشانات سے جو نتائج حاصل ہوئے ہیں، ان میں صرف ٣ غلطیاں تھیں جسے سُدھارا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو مختلف افراد کے پاؤں کے نمبر، جسمانی ساخت اور وزن چاہے ایک جیسا ہی کیوں نہ ہو مگر ان کے پاؤں زمین پر ایک دوسرے سے بالکل مختلف انداز میں دباؤ ڈالتے ہیں۔
اب تک کے تجربات میں ماہرین نے ننگے پاؤں چال کا الیکٹرانک گراف حاصل کیا ہے، لیکن ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی “لیور پول یونیورسٹی“ کے الیکٹریکل انجینئرنگ کے سائنسداں ڈاکٹر جان گولر ماس کہتے ہیں کہ انہیں توقع ہے کہ جلد ہی ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کر لیا جائے گا جس سے جوتے اتارنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی، کیونکہ جوتے کا سول اور اس کا ڈیزائن چاہے ایک جیسا ہی کیوں نہ ہو، زمین پر اس کے دباؤ کا انحصار اس پر ہے کہ وہ کس کے پاؤں میں ہے۔
ان سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ہر انسان زمین پر ایک مخصوص انداز میں اپنا قدم رکھتا ہے جس کی وجہ سے مختلف پاؤں زمین پر الگ الگ انداز میں الگ الگ دباؤ ڈال کر بالکل ایک دوسرے سے منفرد نتائج پیدا کرتے ہیں۔ انسان کے پاؤں میں (تلوے میں) ایک لاکھ سے زیادہ ایسے مختلف حصے ہیں جن کی وجہ سے زمین پر پاؤں ڈالنے کا دباؤ الگ الگ ڈھنگ سے اور طریقہ سے پڑتا ہے اور ان کی نشانیاں محفوظ ہو جاتی ہیں، جنہیں دوبارہ ریکارڈ کے ذریعہ دیکھا جا سکتا ہے اور اس آدمی کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے جدید سائنسی دور میں چال اور قدموں کے نشانات کی اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے اور کسی بھی فردِ واحد کے قدموں کے نشان کے ریکارڈ سے جسمانی طور پر انسان کو روکے بغیر اور انہیں چیک کئے بنا اس کی شناخت ہو سکتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پرانے زمانے میں کھوجی یا تفتیش کنندہ مجرموں کی تلاش میں انسانوں اور جانوروں کے پاؤں کے نشانات سے کام لیتے تھے اور مجرموں کے راہ گذر کا پتہ لگا لیتے تھے۔ کھوجی یا جاسوس اتنے ماہر ہوتے تھے کہ وہ جانوروں کے کُھروں کے نشان دیکھ کر ان کے بارے میں غیر معمولی حد تک درست اندازہ لگا لیا کرتے تھے۔ مثلاً یہ کہ گھوڑے، ہرن یا کسی دوسرے جانور کی جسامت کیسی ہے، وزن کتنا ہے، اس کے چلنے کا قدرتی انداز کیا ہے اور یہ کہ اس پر سوار شخص اسے کس انداز میں چلانے کی یا دوڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر یہ نشانات تو زمین پر بظاہر نظر آ جاتے تھے، اب سائنس نے تحقیق کر کے یہ بتا دیا ہے کہ انسان کی جسمانی لہریں فضا میں ثبت ہو کر اپنا ثبوت عکس کر دیتی ہیں، جنہیں ریکارڈ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اس وقت حساس مقامات پر مشکوک افراد کی نگرانی کے لئے ویڈیو کیمرے وغیرہ لگا کر مجرموں کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ ’ڈاکٹر گرلرماس‘ کا کہنا ہے کہ اگر ایسے حساس مقامات کے راستوں یا گزرگاہوں پر پریشر پوائنٹ ریکارڈ کرنے والے فٹ میٹ بچھا دیئے جائیں تو وہاں سے گزرنے والے ہر شخص کی شناخت کمپیوٹر اپنے ڈیٹا ریکارڈ کر کے اطلاع بہم پہنچا دے گا اور اس طرح مجرم کی اپنی ذاتی اطلاع کے بغیر یا ان کو بھنک لگے بغیر انہیں گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔ یعنی انسان جہاں کہیں بھی جاتا ہے، اٹھتا بیٹھتا ہے، چلتا پھرتا ہے۔ ان تمام جگہوں پر اپنے پاؤں کے نشانات کے ذریعہ اپنے حق میں یا اپنی مخالفت میں ثبوت پیدا کرتا جاتا ہے ۔
یہ تمام ثبوت زمین پر اور فضاؤں میں ثبت ہو جاتے ہیں، لہٰذا قرآنی تشریح کے مطابق انسان جو کچھ عمل آگے بھیجتا ہے یا جو کچھ عمل وہ پیچھے چھوڑتا ہے وہ سب کے سب ایک محفوظ کتاب میں درج کر لئے جاتے ہیں ۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ بندہ جو کچھ بولتا ہے، عمل کرتا ہے یا جہاں جہاں اپنے قدموں سے چل کر جاتا ہے وہ سب کے سب ریکارڈ ہو رہے ہیں اور یہ تمام ثبوت انسان کے حق میں یا ان کے خلاف ریکارڈ کی شکل میں بروز حشر پیش کئے جائیں گے۔ سائنس نے اس بات کی توثیق کردی ہے کہ
• انگوٹھوں کے نشانات ایک مکمل ثبوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
• قدموں کے نشان بالکل نا قابلِ تنسیخ ثبوت ہیں۔
• انسان کے تمام حرکات و سکنات کی ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔
• زمین اور فضا میں تمام ثبوت ریکارڈ کئے جا رہے ہیں۔
اللہ نے اپنی کتاب میں فرما دیا ہے کہ ہر ایک ذی روح کے لئے نگراں اور محافظ مقرر ہے جو ان کی کارکردگی کا لیکھا جوکھا تیار کرتا رہتا ہے۔ زمین انہیں ریکارڈ کو اپنی زبان سے خدا کے حضور بیان کرے گی، جیسا کہ سورہ زلزال میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سورہ طارق میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کی تشریح کے مطابق انسان کا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ ہم نے مکمل ایمان کی وجہ سے ان دیکھے خدا کے غیب کی تمام باتوں پر یقین کیا ہے۔ یہی ایمانی تقاضہ ہے۔ وہ جو ان سب باتوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے سائنسی تحقیق ببانگ دہل اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ قرآن کریم اللہ اور صرف اللہ کی کتاب ہے جو درست اور سچ ہے ۔۔۔👇👇👇