ساری لڑائیاں، سارے جھگڑے اور ساری ناراضگیاں آپ کی چلتی سانسوں تک ہیں. آج پتا چل جائے کہ آپ زندگی کی آخری سانسوں پر ہیں، آپ کو لاحق کوئی جان لیوا بیماری اپنی آخری اسٹیجز پر ہے تو آپ کے سارے ناراض رشتہ دار، دوست احباب بھاگے چلے آئیں گے۔ ساری لڑائیاں ہوا ہو جائیں گی۔ ساری ناراضگیاں بھول جائیں گی اور آپ سب سے مقدم ہو جائیں گے.
کبھی میت کے اردگرد بین کرتے اور اونچی آواز سے روتے ہوئے افراد دیکھے ہیں، ان میں اکثر وہ ہوتے جو میت کو خون کے آنسو رلاتے رہتے ہیں، لیکن مرتے ہی سارے جھگڑے ختم اور میت کے لئے آنسو جاری ہو جاتے ہیں.
حقیقی مسئلہ جانتے ہیں کیا ہے؟ عرف عام ہے کہ کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی قدر کا احساس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی قدر کا نہیں پچھتاووں کا آغاز ہوتا ہے.
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جیسے جذبات اور احساسات کسی کے مرنے کے بعد ہمارے دل میں اس کے لئے پیدا ہو جاتے ہیں وہ اس کے زندہ ہوتے ہوئے ہمارے دلوں میں پیدا ہو جائیں. کسی کے بستر مرگ پر پڑے ہوئے جو معافیاں اس سے مانگی جاتی ہیں وہ اس کی زندگی میں ہی اپنی غلطیوں پر اس سے معافی مانگ لی جائے.
سوچیئے ذرا، اگر ایسا ہو جائے تو معاشرے اور ہماری زندگیوں میں کتنا سکون آ سکتا ہے ۔۔۔👇👇👇