اسود عنسی (کاذب)


۔”” “” “” “” “” “” “”
اسود عنسی کاذب سب سے پہلا جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ جس کی شعبدہ بازی کے دور دور تک چرچے تھے۔ کہانت میں کوئی اس کا ثانی نہ تھا۔ لوگ اس کے شعبدوں کو دیکھ کر اس قدر مانوس ہو چکے تھے کہ جب اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تو بہت سے اس کے پیروکار بن گئے۔ یہاں تک کہ نجران اور مذجج جیسے قبائل بھی اس کے دھوکے میں آ گئے اور اس نے اپنی جھوٹی نبوت کا پرچار یمن کے قبیلوں میں شروع کر دیا۔

یہ عنس بن قدجح سے منسوب تھا اس کا نام عیلہ تھا ۔اسے ”ذوالخمار” بھی کہتے تھے اور ذوالحمار بھی۔ ذوالخمار کہنے کی وجہ تو یہ تھی کہ یہ اپنے منہ پر دوپٹہ ڈالا کرتا تھا، جبکہ ذوالحمار کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ کہا کرتا تھا کہ جو شخص مجھ پر ظاہر ہوتا ہے وہ گدھے پر سوار ہو کر آتا ہے۔

ارباب سیر کے نزدیک یہ کاہن تھا اور اس سے عجیب و غریب باتیں ظاہر ہوتی تھیں۔ یہ لوگوں کو اپنی چرب زبانی سے گرویدہ کر لیا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ دو ہمزاد شیطان تھے جس طرح کاہنوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔

اس کا قصہ یوں ہے کہ فارس کا ایک باشندہ باذان ، جسے کسرٰی نے یمن کا حاکم بنایا تھا، نے آخری عمر میں توفیق اسلام پائی اور سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اسے یمن کی حکومت پر برقرار رکھا۔ اس کی وفات کے بعد حکومت یمن کو تقسیم کر کے کچھ اس کے بیٹے شہر بن باذان کو دی اور کچھ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو مرحمت فرمائی اس علاقے میں اسود عنسی نے خروج کیا اور شہر بن باذان کو قتل کر دیا اور مرزبانہ جو کہ شہر کی بیوی تھی اسے کنیز بنا لیا۔ فردہ بن مسیک نے جو کہ وہاں کے عامل تھے اور قبیلہ مراد سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ایک خط لکھ کر مطلع کیا۔ حضرت معاذ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما اتفاق رائے سے حضر موت چلے گئے۔

جب یہ خبر سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس جماعت کو لکھا کہ تم اکٹھے ہو کر جس طرح ممکن ہو اسود عنس کے شر و فساد کو ختم کرو۔ اس پر تمام فرمانبردارانِ نبوت ایک جگہ جمع ہوئے اور مرزبانہ کو پیغام بھیجا کہ یہ اسود عنسی وہ شخص ہے جس نے تیرے باپ اور شوہر کو قتل کیا ہے، اس کے ساتھ تیری زندگی کیسے گزرے گی؟ اس نے کہلوایا میرے نزدیک یہ شخص مخلوق میں سب سے زیادہ دشمن ہے۔ مسلمانوں نے جواباً پیغام بھیجا کہ جس طرح تمہاری سمجھ میں آئے اور جس طرح بن پڑے، اس ملعون کے خاتمہ کی سعی کرو۔ چنانچہ مرزبانہ نے دو اشخاص کو تیار کیا کہ وہ رات کو دیوار میں نقب لگا کر اسود کی خواب گاہ میں داخل ہو کر اسے قتل کر دیں۔ ان میں سے ایک کا نام فیروز دیلمی تھا جو مرزبانہ کا چچا زاد اور نجاشی کا بھانجا تھا۔ انہوں نے دسویں سال مدینہ منورہ حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا رضی اللہ عنہ۔ اور دوسرے شخص کا نام دادویہ تھا۔ بہر حال جب مقررہ رات آئی تو مرزبانہ نے اسود کو خالص شراب کثیر مقدار میں پلا دی، جس سے وہ مدہوش ہو گیا۔ فیروز دیلمی نے اپنی ایک جماعت کے ساتھ نقب لگائی اور اس بدبخت کو قتل کر دیا۔ اس کے قتل کرتے وقت گائے کے چلّانے کی طرح بڑی شدید آواز آئی۔ اس کے دروازے پر ایک ہزار پہرے دار ہوا کرتے تھے۔ وہ آواز سن کر اس طرف لپکے، مگر مرزبانہ نے انہیں یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ خاموش رہو، تمہارے نبی پر وحی آئی ہے۔ ادھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے صحابہ کو مدینہ میں پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آج رات اسود عنسی مارا گیا ہے اور ایک مرد مبارک نے جو کہ اس کے اہلبیت سے ہے، اس نے اسے قتل کیا ہے۔ اس کا نام فیروز ہے اور فرمایا؛ ”فاز فیروز ‘ یعنی فیروز کامیاب ہوا۔
(مدارج النبوۃ مترجم ج دوم ص ۵۵۴ )
۔۔۔👇👇👇

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started