حکایات_رومیؒ (پختہ ایمان)



حضرت انسؓ کے مہمان خانے میں چند مہمانوں نے کھانا کھایا،کھانا کھا لینے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ شوربے سے دستر خوان کا رنگ زردی مائل ہو گیا۔ آپ نے خادمہ کو بلایا اور اسے دستر خوان دے کر فرمایا کہ اسے جلتے ہوئے تندور میں ڈال دو،خادمہ نے حسبِ حکم ایسا ہی کیا اور اس دستر خوان کو جلتے ہوۓ تندور میں پھینک دیا۔

مہمان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ آگ نے دستر خوان کو چھوا تک نہیں خادمہ نے اسے تندور سے صحیح سلامت باہر نکالا اس وقت وہ نہایت صاف اور سفید ہو چکا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے دھو دیا ہو۔ دوست احباب نے جب یہ ماجرا دیکھا تو حضرت انسؓ سے پوچھا: ” اے صاحبِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ کیا وجہ ہے کہ دستر خوان آگ سے محفوظ رہا اور پھر صاف بھی ہو گیا؟”

گفت زانکہ مصطفےٰ دست ودھاں
بس بمالید اندریں دستار خواں
حضرت انسؓ نے فرمایا “اس کا سبب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس دستر خوان سے بارہا اپنے دست مبارک اور لب مبارک کو صاف کیا اس لیے اسے آگ نہیں جلا سکتی۔”

رومیؒ فرماتے ہیں:
اے دل ترسندہ از نار و عذاب
باچناں دست و لبے کن اقتراب
” اے دل اگر تجھے آتشِ دوزخ سے نجات پانے کی فکر ہے تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قرب حاصل کر،جب ان کے دستِ مبارک کو مس کرنے کی وجہ سے ایک بے جان جلنے سے محفوظ رہا تو جو ان کا عاشقِ زار ہو گا وہ کیسے جلے گا؟”

پھر مہمانوں نے خادمہ سے پوچھاکہ تو نے بلا تامل دستر خوان آگ میں ڈال دیا؟ کیا تو ڈری نہیں کہ یہ جل جائے گا؟ اس نے جواب دیا “میں حکم کی غلام ہوں اور مجھے اس بات کا کامل یقین ہے کہ جو میرے آقا حضرت انسؓ حکم دیں گے وہ کبھی نقصان پہنچانے والا نہیں ہو گا۔

رومیؓ نصیحت فرماتے ہیں کہ:

“اگر کسی شخص کا دل جہنم کی آگ سے خوف ذدہ ہو اس کوچاہیے کہ ایسے مبارک لبوں اور ہاتھوں کے قریب ہو جائے جو قرب والے ہیں۔

خدا کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ جس چیز کو مس کر دیں تو وہ آگ میں نہیں جل سکتی،تو جو امتی عشق مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ سے عقیدت رکھتا ہو گا تو اسے کیا کچھ عطا ہو گا؟

رومی رحمتہ اللہ علیہ نصیحت کرتے ہوۓ فرماتے ہیں اے عزیزم! صدق اور پختگی میں(اُس) عورت سے کم نہ ہو مردانِ خدا اولیاء اللہ کا دامن تھام لے ، ان کی نسبت سے تم کندھن بن جاؤ گے اور تمہیں بھی اللّٰه تعالیٰ اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور قربت حاصل ہو جاۓ گی۔

حکایاتِ رومی رحمتہ اللّٰہ علیہ ص: 100

درس حیات: جو کوئی عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا طالب ہے اسے چاہیے کہ وہ اولیا اللہ کی ہمنشینی اختیار کرے ان کی صحبت اور نگاہ سے عشق کا وہ رنگ نصیب ہو گا کہ وہ دونوں جہان میں لا یحتاج ہو جائے گا۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started