فجر ميں نہیں اُٹھتے ناں آپ؟



نہیں کُھلتى نا آنکھ نماز کے ليے؟

اور اگر کبھى کُھل بھى جائے تو سُستى ہوتى ہے،،، ہے ناں؟

اذان کى آواز کان ميں پڑ بھى جائے تو کروٹ بدل کر پھر سے نيند کى واديوں ميں کھو جاتے ہيں ناں؟

پتہ ہے ايسا کرنے سے آپ کو کيا ملتا ہے؟

تھوڑى دير کى ميٹھى نيند،،، بس
اور پتہ ہے آپ کيا کچھ کھو ديتے ہيں؟؟؟

آپ وہ کھو ديتے ہيں جس کے بارے ميں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا:
“فجر کی دو رکعت (سنت) پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے بہتر ہیں.” (صحیح مسلم)

سوچيں ذرا کيا کچھ کھو ديا صرف ذرا سى نيند کے ليے؟
ہم تو اللّٰه سے شکوے کرتے ہيں کہ ہمارے کام نہیں بن رہے، ہميں کاميابى نہیں مل رہى ليکن جب دن کى شروعات سے پہلے صدا آتى ہے کہ آؤ کاميابى کى طرف اُس وقت کہاں ہوتے ہيں ہم ؟؟؟

ہم تو ميٹھى نيند ميں گُم ہوتے ہیں نا؟

ہم فجر کى دو سُنتوں کو چھوڑ کر پتہ ہے کيا کرتے ہیں؟

*دنيا و مافيا سے بہتر کھو ديتے ہيں.*
کاميابى کے دروازے خود پر خود ہى بند کروا ليتے ہيں.

نقصان ہمارا ہى ہوتا ہے ….

ليکن اگر آپ فجر ميں اُٹھ جائیں
تو پتہ ہے کيا کچھ مل جائے گا آپ کو ؟؟؟
آپ کو وہ دو سُنّتيں مل جائيں گى جو دنيا و مافيا سے بہتر ہیں.
اور اگر سنتوں کا اتنا اجر ہے تو فرض کا کتنا اجر ہوگا؟

آپ کو اللّٰه کى رحمتیں، مہربانياں مل جائيں گى،
آپ کو کاميابياں مل جائيں گى،
پھر آپ کے سارے مسئلے خود حل ہوتے چلے جائيں گے
اللّٰه آپ کے سارے کام خود ہى بنا ديں گے
*اور آپ کا نام يقينا فرمانبرداروں ميں لکھ ديا جائے گا…*

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started