ہم بڑے ہوگئے



مسکراہٹ تبسم ہنسی قہقہے۔
سب کے سب کھو گئے۔

ہم بڑے ہوگئے

ذمہ داری مسلسل نبھاتے رہے۔
بوجھ اوروں کا بھی ہم اٹھاتے رہے۔

اپنا دکھ سوچ کر روئیں تنہائی میں۔
محفلوں میں مگر مسکراتے رہے۔
کتنے لوگوں سے اب مختلف ہو گئے۔

ہم بڑے ہوگئے

اور کتنی مسافت ہے باقی ابھی۔
زندگی کی حرارت ہے باقی ابھی۔

وہ جو ہم سے بڑے ہیں سلامت رہیں۔
ان سبھی کی ضرورت ھے باقی ابھی۔
جو تھپک کر سلاتے تھے خود سو گئے۔

ہم بڑے ہوگئے

ختم ہونے کو اب زندگانی ہوئی۔
جانے کب آئی اور کیا جوانی ہوئی۔

دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گیا۔
جو حقیقت تھی اب وہ کہانی ہوئی۔

منزلیں مل گئیں۔
ہم سفر کھو گئے۔
ہم بڑے ہوگئے

💞💚💞💚🌱🌱💚💞💚💞❣️👈 خاندان اور خون کی پہچان

💞💚💞💚🌱🌱💚💞💚💞❣️

👈

سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا .
سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا.
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے.
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا…. ؟
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا …. میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا…..

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا …..

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……….

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانیں، تو اسے معاف کر دیں ……..اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے …..ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا …. ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے…
بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا……..

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا …..سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو……

ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔

اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں.

🌹♥️❤️🖤💚💚🖤❤️♥️


~خوش رہیں خوشیاں بانٹیں~

♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️♻️
مـاں کبـھی خفـا نہیـں ہـوتـی🌿“




تمام دن میں انکے پیچھے
دوڑتی ہوں ۔۔۔
اور وہ دوڑتے ہیں میرے پیچھے۔۔۔۔
میں کہتی ہوں نکلو نکلو کچن سے نکلو۔۔۔۔
کام کرنا ہے مجھے ، نکلو
اور وہ میری ٹانگوں سے چپک جاتے ہیں۔۔۔
میں نکالتی ہوں ان کو کھینچ کر۔۔۔
روتے ہیں چلاتے ہیں۔۔۔
اور پھر دونوں کھیلنے لگ جاتے ہیں۔۔۔
اور پھر جیسے انہیں یاد آجاتا ہے ۔۔
ماما پاس نہیں ہیں۔۔۔۔۔
واپس کچن میں دوڑتے ہیں۔۔۔
برتن اٹھاتے ہیں ۔۔۔
پٹخ دیتے ہیں۔۔۔
نکلو نکلو۔۔۔۔۔
اور ایسے ہی شام سے
رات ہو جاتی ہے۔۔۔۔
بھئی سوتے کیوں نہیں تم دونوں
تھک چکی ہوں میں۔۔۔
کاموں میں۔۔۔ اور۔۔۔
تم دونوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے
ماما ماما ایک کہانی اور سنائیں گی؟؟؟
نہیں سو جاؤ آپ چپ کر کے۔۔۔۔
بڑے والے نے آنکھیں بند کر لی ہیں ۔۔۔
اور چھوٹی بھی نیند میں ہے۔۔۔۔۔۔
ہائے کتنی ویرانی ہے ۔۔۔۔
کتنی خاموشی ہے۔۔۔۔۔
دونوں سو چکے ہیں۔۔۔
شور نہیں ہے۔۔۔
اک سناٹا ہے۔۔۔۔
میں کبھی ایک کو دیکھتی ہوں۔۔
کبھی دیکھتی ہوں دوسری کو۔۔۔۔
یاد آتا ہے ۔۔۔ کتنا ڈانٹا ہے
سارا دن ان معصوموں کو
دل ڈوب جاتا ہےکہ اب
ان کے چپ ہونے سے
کیسی وحشت ناک خاموشی ہے!
اور میں خود کو کوسنے لگتی ہوں۔۔۔
سوری میرے بچوں
ماما کتنی ظالم ہیں !!!
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی
کاموں کی ایک لمبی فہرست۔۔۔۔
میں اور بچے۔۔۔۔ نکلو نکلو!“`

قائدِ اعظم محمد علی جناح کی حیات ایک نظر میں



پردادا: میگھ جی
دادا: پونجا بھائی
والد: جناح پونجا
والدہ: مٹھی/شیریں بائی
کاسٹ:شیخ
پیدائش: 25 دسمبر 1876 اتوار
جائے پیدائش: کراچی (کھارادر)
تعداد بہن بھائی: 4بہنیں +2بھائی(محمد علی سب سے بڑے)
عقیقہ: پانیلی درگاہ پہ 5 ماہ کی عمر میں کیا
میٹرک: 1892سندھ مدرسۃ لاسلام(16سال کی عمر میں)
بیرسٹر: 1896لندن(20 سال کی عمر میں)
پاسپورٹ کا اجراء: 4 جولائی1936
پاسپورٹ نمبر: 400878
*ازدواجی زندگی*
پارسی مذہب کے امیر ماں باپ کی بیٹی سے ہوئی
مریم کی پیدائش: 20 فروری 1900
قبولِ اسلام: 18 اپریل 1918 جمعرات
(رتی قبولِ اسلام کر کے خاندان اور ساری جائیداد جناح کی خاطر در کر دی)
شادی: 19 اپریل 1918 جمعہ
(رتی مریم سے مریم جناح ہوئیں)
نکاح خوان: مولانا نظام احمد نقشبندی
نکاح نامہ: فارسی زبان میں لکھا
نکاح رجسٹرار: مولانا حسن نجفی
مقامِ نکاح: ساؤتھ کورٹ ماؤنٹ بمبئ
حق مہر: 1000 روپے
گفٹ: 125000 روپے
گواہ مریم: حاجی شیخ ابو القاسم نجفی
گواہ جناح: راجہ محمد علی خان
انگوٹھی برائے مریم جناح: راجہ محمد علی خان نے ہیرے کی انگوٹھی تحفے میں دی
گھریلو ملازم جناح: وسن
بیٹی کی پیدائش: 14 اگست 1919
بیٹی کا نام: دینا جناح
وفات مریم جناح: 20 فروری 1929 (بوجہ کینسر)
تدفین: 22 فروری 1929
قبرستان: آرام باغ بمبئ
کانگرس میں شمولیت: 1906
مسلم لیگ میں شمولیت: 1913
کانگرس سے علیحدگی: 1920
مسلم لیگ کا نعرہ:
*”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ”*
1938 سے محمد علی جناح بیمار رہنے لگے
سب سے پہلے مولانا مظہرالدین نے جناح کو قائدِ اعظم کا لقب دیا
1940 کو قراردادِ پاکستان منظور ہوئی اس میں قائدِ اعظم نے 1 گھنٹہ 40 منٹ خطاب کیا
لاکھوں قربانیوں کے بعد قائدِاعظم اور دیگر رہنماؤں کی ان تھک محنت کے نتیجے میں 27 رمضان بمطابق 14 اگست 1947 براز جمعہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا
جھنڈا سلائی: امیر الدین قدوائی
اسبلی میں منظوری: 11 اگست 1947
پہلی پرچم کشائی:14-13 اگست کی درمیانی شب 12 بجے
گورنر جنرل: 15 اگست 1947
حلف برداری: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ
قرانِ مجید انگلش ترجمہ زیرِ مطالعہ رکھتے سورۃ الفیل کثرت سے مطالعہ کرتے
بیماری کی وجوہات:
1-وقت پہ کھانا نہ کھانا
2-کثرتِ سیگریٹ نوشی
3-جلسے جلوس کی کثرت
ڈاکٹرز:
1-کرنل الٰہی بخش
2-ڈاکٹر ریاض علی شاہ
3-ڈاکٹر ایس-ایس عالم
بیماری کی تشخیص: پیلوریسی
قد: 5 فٹ 10.5 انچ
وزن: صرف 70 پاؤنڈ رِہ گیا تھا
حلوہ پوری نہایت پسند تھی
سیگریٹ: سُگار+ کارواں
قائد اعظم کے آخری الفاظ:
آئین…. میں اسے جلدی…. مکمل کروں گا…. مہاجرین…. انہیں ممکن…. امداد دیجئے…. پالستان….
(پھر فاطمہ جناح کو اشارہ کر کے اپنے پاس بلایا اور کہا)
فاطی…. خدا حافظ…. لاالٰہ الاللّٰہ محمدالرسولاللّٰہ
وفات: 11 ستمبر 1948 ہفتہ رات 10:25 کراچی
جنازہ: 12 ستمبر 1948 اتوار دوپہر 2:30
جنازہ و تدفین: پرانی نمائش گاہ
قبر کی کھدائی: یوسف ہارون اور ساتھی
نمازِ جنازہ: مولانا شبیر احمد عثمانی
کل عمر: 71 سال 8 ماہ 4 دن
پاکستان بننے کے بعد 1 سال 27 دن زندہ رہے
جنازے میں شرکاء: 5 لاکھ سے زائد
*انسانی تاریخ میں پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو فوج کی مدد کے بغیر معرضِ وجود میں آیا فوج کے بغیر قوم کو مستحکم کیا اور پاکستان قائم کر کے دکھایا*

ہو اگر خود نگرو خود گرو خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

حوالہ کتاب:
*رہبرِ ملت: قائد اعظم محمد علی جناح*
مصنف:
*پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی*

انتخاب: اے۔ بی۔ احمد

NTS_FTS_MCQS SCIENCE—✍️



*The enemia is due to deficiency of:*
A. Calcium
B. Iron●●●✔
C. Iodine
D. Vitamins

*Tuberculosis is disease caused by:*
A. Virus
B. Bacteria●●●✔
C. Protozoans
D. Worms

*Osteoarthritis is a:*
A. Bacterial diseases
B. Viral disease
C. Degenerative disease●●●✔
D. Protozoan disease

*Sickle cell anaemia is a disease caused by :*
A. Abnormal gene●●●✔
B. Bacteria
C. Virus
D. Fungus

*Noise is considered as sound beyond*
A. 30 Decibels
B. 50 Decibels●●●✔
C. 80 Decibels
D. 10 Decibels

*The most safe and cheap source of energy is*
A. Nuclear energy
B. Hydroelectric
C. Petroleum
D. Coal●●●✔

*The most frequent pathogenic fungi are…………*
A. Dermatophytes●●●✔
B. Smuts
C. Rusts
D. Aspergillus

*The cutting of forest is called……………*
A. Afforestation
B. Deforestation●●●✔
C. Neoforestation
D. None of them

*The kidney of man is about…………….long .*
A. 8cm
B. 10 cm●●●✔
C. 12 cm
D. 14 cm

*Normal set point of human body temp. Is*
A. 37°F
B. 98.6°F●●●✔
C. 30°C
D. 37°C

*The most abundant component of urine:*
A. Urea
B. Water●●●✔
C Ammonia
D. Uric Acid

*The excretory organs of annelids are*
A. Flame cells
B. Nephridia●●●✔
C. Kidneys
D. Livee

*The warm blooded animals are called…………….*
A. Poikilotherms
B. Homoiotherms●●●✔
C. Homiostate
D. Isotherms

*The kidneys excrete about…………….liters of urine.*
A. 1-2 liters●●●✔
B. 2-3 liters
C. 2-4 liters
D. 2-5 liters

*Kidneys are…………shaped organs*
A. Been●●●✔
B. Rod
C. Oval
D. None of them

*The outer dark part of kidneys is called……………..*
A. Cortex●●●✔
B. Medulla
C. Pelvis
D. Ureter
*—🌻🌺🌻🌺🌻🌺🌻🌺🌻—*

Design a site like this with WordPress.com
Get started