1:”پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے“
2:”وہی محترم ہوگا جو احترام کرنے والا ہوگا“۔
3:”خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے“.
4:”دوسرے کو معاف کرنا دراصل خود کو معاف کرنا ہے“.
5:”سب سے بڑی قوت، قوت برداشت ہے“.
6:”مغفرت کمائی نہیں جاتی، مغفرت مانگی جاتی ہے“۔
7:”مالک کا حکم نہ مان کر ہمیں بڑے حکم ماننے پڑتے ہیں“
8:”غم کو چھپانا اپنے ساتھ احسان کرنا ہے“
9:”اللّٰہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہمیں بھولنے کی صفت دی۔ ورنہ ایک غم ہمیشہ کے لیے غم بن جاتا“
10: “لوگوں کو معاف کرنا بھی علم کا بڑا ذریعہ ہے “.
آخری لوگ😭😭😭
1950 سے 1999 میں پیدا ہونے والے ہم خوش نصیب لوگ ہیں.
کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے مٹی کے بنے گھروں میں بیٹھ کر پریوں کی کہانیاں سنیں۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے لالٹین (بتی)کی روشنی میں کہانیاں بھی پڑھیں۔
جنہوں نے اپنے پیاروں کیلیئے اپنے احساسات کو خط میں لکھ کر بھیجا۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا۔بلکہ گھر سے بوری ، توڑا لے کر سکول جاتے اور اس پر بیٹھتے۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا۔بغیر بجلی کے ٹیوب ویل دیکھے نہائے
گاؤں کے درخت سے آم اور امرود بھی توڑ کر کھائے.
پڑوس کے بزرگوں سے ڈانٹ بھی کھائی لیکن پلٹ کر کبھی بدمعاشی نہیں دکھائی.
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جنہوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں۔اور گھر والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے عید کارڈ بھی اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بهیجے.
ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں کیونکہ
ہم وہ آخری لوگ ہیں
جو گاؤں کی ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہوئے.
ہم وہ لوگ ہیں جو گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھتے تھے۔
ہم وہ دلفریب لوگ ہیں
جنہوں نے شبنم اور ندیم کی ناکام محبت پہ آنسو بہائے اور انکل سرگم کو دیکھ کے خوش ہوئے ۔
ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے ٹی وی کے انٹینے ٹھیک کیے فلم دیکھنے کے لیے ہفتہ بھر انتظار کرتے تھے
ہم وہ بہترین لوگ ہیں
جنہوں نے تختی لکھنے کی سیاہی گاڑھی کی۔ جنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کو اعزاز سمجھا۔
ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں
جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی۔ ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں۔
ہم وہ لوگ ہیں جو۔
رات کو چارپائی گھر سے باہر لے جا کر کھلی فضاء زمینوں میں سوئے دن کو اکثر گاؤں والے گرمیوں میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر گپیں لگاتے مگر وہ آخری ہم تھے۔
کبھی وہ بھی زمانے تھے
سب صحن میں سوتے تھے
گرم مٹی پر پانی کا
چھڑکاؤ ہوتا تھا
ایک سٹینڈ والا پنکھا
بھی ہوتا تھا
لڑنا جھگڑنا سب کا
اس بات پر ہوتا تھا
کہ پنکھے کے سامنے
کس کی منجی نے ہونا تھا
سورجُ کے نکلتے ہی
آنکھ سب کی کھلتی تھی
ڈھیٹ بن کر پھر بھی
سب ہی سوئے رہتے تھے
وہ آدھی رات کو کبھی
بارش جو آتی تھی
پھر اگلے دن بھی منجی
گیلی ہی رہتی تھی
وہ صحن میں سونے کے
سب دور ہی بیت گئے
منجیاں بھی ٹوٹ گئیں
رشتے بھی چھوٹ گئے
بہت خوبصوت تھے وہ دن۔۔۔۔
۔
چنگیز خان کا انتقال اور قبر
جب چنگیز خان کا انتقال ہوا۔ تو مرنے کے بعد اس کی لاش کو چھکڑے میں لاد کر صحرائے گوبی کے پار اس کے مرکزی شہر لایا گیا ۔ راستے میں جس جگہ سے چنگیز خان کے لاش گزرتی ان راستوں پر جوبھی قافلہ یا مسافر ملتا اسے قتل کردیا جاتا تاکہ کسی کو یہ خبر نہ ہوسکے کہ چنگیز خان مر گیا ہے۔
چنگیزخان کی لاش جب اس کے مرکزی شہر لائی گئی تو اسے دفن کرنے کے لئے صلاح و مشورہ ہوا ، منگولوں کے ایک سردار کو چنگیز خان نے بتادیا تھا کہ جب وہ مر جائے تو اسے شہر کے سب سے بڑے صنوبر کے درخت کے نیچے دفن کیا جائے۔ یہ درخت بہت اونچا اور بڑا تھا، اس درخت کو دیکھ کر چنگیز خان اکثر یہ کہا کرتا تھا کہ اس کا سایہ بوڑھے کے لئے بڑے آرام کی جگہ ہے۔ اس درخت کے ارد گرد صنوبر کے اور بھی چھوٹے چھوٹے درخت تھے جنھوں نے ایک طرح سے اس بڑے صنوبر کے درخت کو گھیر رکھا تھا۔
بہرحال صنوبر کے اس درخت کے سائے تلے ایک بہت بڑی قبر کھودی گئی ۔ اس کے بعد چنگیز خان کے اس گھوڑے کو ماردیا گیا جس پر اس نے اپنے آخری دنوں میں سواری کی تھی اور اسکی ہڈیاں علیحدہ کرکے ان ہڈیوں کو جلا کر خشک اور صاف کرلیا گیا۔اور اس قبر کے اندر ایک چھوٹا خیمہ نصب کیا گیا جس میںپکا ہوا گوشت ، اناج، ایک کمان، ایک تلوار اور اس کے گھوڑے کی ہڈیاں رکھی گئیں اس کے بعد اس قبر میں چنگیز خان کو دفن کردیا گیا۔ جب تک اس قبر کے ارد گرد چھوٹے درخت نہیں اُگ آئے اس وقت تک اس قبیلہ کے لوگ باری باری چنگیز خان کی قبر پر پہرہ دیتے رہے یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا تھا کہ کسی کو اس کی قبر کا پتہ ہی نہ چلے۔بہر حال چنگیز خان جو دشمن کو شکست دے کر ان کے سروں کے مینار تعمیر کرنے کا شوقین تھا اور دشمن کے سروں کی کھوپڑیوں کے پیالے بنا کر ان میں شراب پینے کا عادی تھا اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
_(ماخوذ : تاریخ عالم کی اہم شخصیات
۔
لڑکیوں پرپابندیاں لگانے کی کیا وجہ ہے
ایک بار ایک لڑکی نے صاحب سے کہاکہ ایک بات پوچھوں؟؟😐😐
صاحب نےفرمایا؛ بولو بیٹی کیا بات ھے؟؟😊😊
لڑکی نے کہا ہمارے سماج میں لڑکوں کو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے !! وہ کچھ بھی کریں؛ کہیں بھی جائیں، اس پر کوئی خاص روک ٹوک نہیں ہوتی!👍👍
اس کے بر عکس لڑکیوں کو بات بات پر روکا جاتا ہے۔ یہ مت کرو! یہاں مت جاو! گھر جلدی آجاؤ !!..٠٠😐😐
یہ سن کر صاحب مسکرائے اور فرمایا !!..
بیٹی آپ نے کبھی لوہے کی دکان کے باہر لوہے کے گودام میں لوہے کی چیزیں پڑیں دیکھیں ہیں ؟ یہ گودام میں سردی ٠گرمی ٠ برسات ٠رات٠ دن٠ اسی طرح پڑی رہتی ہیں ٠٠ اس کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگڑتا اور ان کی قیمت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا٠٠😇😇
لڑکوں کی کچھ اس طرح کی حیثیت ہے سماج میں!👍👍
اب آپ چلو ایک سنار کی دکان میں۔ ایک بڑی تجوری اس میں ایک چھوٹی تجوری اس میں رکھی چھوٹی سُندر سی ڈبی میں ریشم پر نزاکت سے رکھا چمکتا ہیرا٠۔۔☺☺
کیو نکہ جوہری جانتا ہے کی اگر ہیرے میں ذرا بھی خراش آ گئی تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہے گی۔۔😑😑
اسلام میں بیٹیوں کی اہمیت بھی کچھ اسی طرح کی ھے🌹🌹🌹
۔ پورے گھر کو روشن کرتی جھلملاتے ہیرے کی طرح ذرا سی خراش سے اس کے اور اس کے گھر والوں کے پاس کچھ نہیں بچتا 😓😓
بس یہی فرق ہے لڑکیوں اور لڑکوں میں ٠😊
پوری مجلس میں خاموشی چھا گئ اس بیٹی کے ساتھ پوری مجلس کی آنکھوں میں چھائی نمی صاف صاف بتا رہی تھی لوہے اور ہیرے میں فرق ٠٠ 😇😇😇
آپ سے التجا ہے کہ یہ پیغام
اپنی بیٹیوں بہنوں کو ضرور
سنائیں، دکھائیں اور پڑھائیں👍
👍👍 دوستوں چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ….!
جزاک اللہ خیرا کثیرا
امام بوصیری رحمة اللہ علیہ
۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ ١٢١١ء میں مصر کے ایک گاؤں بوصیر یا بوصیری میں پیدا ہوئے۔ اور آپ کی وفات ١٢٩۴ء میں ہوئی۔ پورا نام شرف الدین ابو عبد اللہ محمد ابن سعد البوصیری تھا یہ ایک مصری شاعر تھے جو نسلاً بربر تھے۔ آپ نے اسی گاؤں میں ابنِ حناء کی سرپرستی میں شاعرانہ کلام لکھے۔ پہلے آپ امراء کی تعریف میں بھی قصیدے لکھتے تھے، لیکن زیارت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف ہی رہا۔ اُن کا سب سے مشہور شاعرانہ کلام قصیدہ بردہ شریف ہے جو کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعت، مدحت و ثناء خوانی پر مبنی ہے اور اسلامی دنیا میں نہایت مشہور و مقبولِ عام ہے۔ اور غالباً دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا نعتیہ کلام ہے۔
یہ اپنے زمانے کے متبحر عالمِ دین، شاعر اور شہرۂ آفاق ادیب تھے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا جن کی بناء پر امراء اور سلاطینِ وقت ان کی بہت قدر و منزلت کرتے تھے۔ ایک روز جا رہے تھے کہ سرِ راہ اللہ کے ایک نیک بندے سے آپ کی ملاقات ہو گئی، انہوں نے آپ سے پوچھا : بوصیری! کیا تمہیں کبھی خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ہے؟ اس کا جواب آپ نے نفی میں دیا۔ لیکن اس بات نے ان کی کایا پلٹ دی اور دل میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و محبت کا جذبہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیال میں مستغرق رہتے اور اسی دوران کچھ نعتیہ اشعار بھی کہے۔
پھر اچانک ان پر فالج کا حملہ ہوا جس سے ان کا آدھا جسم بیکار ہو گیا۔ وہ عرصہ دراز تک اس عارضے میں مبتلا رہے اور کوئی علاج کارگر نہ ہوا۔ اس مصیبت و پریشانی کے عالم میں امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کے دل میں خیال گزرا کہ اس سے پہلے تو دنیاوی حاکموں اور بادشاہوں کی قصیدہ گوئی کرتا رہا ہوں کیوں نہ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں ایک قصیدہ لکھ کر اپنی اس مرضِ لا دوا کے لئے شفاء طلب کروں؟ چنانچہ اس بیماری کی حالت میں قصیدہ لکھا۔ رات کو سوئے تو مقدر بیدار ہو گیا اور خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے شرف یاب ہوئے۔ عالمِ خواب میں پورا قصیدہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھ کر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کے اس کلام سے اس درجہ خوش ہوئے کہ اپنی چادر مبارک ان پر ڈالی اور پورے بدن پر اپنا دستِ شفاء پھیرا جس سے دیرینہ بیماری کے اثرات جاتے رہے اور آپ فوراً شفایاب ہو گئے۔ اگلے دن صبح صبح آپ اپنے گھر سے نکلے اور سب سے پہلے جس سے آپ کی ملاقات ہوئی وہ اس زمانے کے مشہور بزرگ حضرت شیخ ابوالرجاء تھے۔ انہوں نے امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کو روکا اور درخواست کی کہ وہ قصیدہ جو آپ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں لکھا ہے مجھے بھی سنا دیں۔ امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کونسا قصیدہ؟ انہوں نے کہا : وہی قصیدہ جس کو آپ نے رات کو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سنایا تھا۔
آپ کو تعجب ہوا اور پوچھا کہ اس کا تذکرہ تو میں نے ابھی تک کسی سے نہیں کیا پھر آپ کو کیسے پتہ چلا؟ انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم جب آپ یہ قصیدہ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشی کا اظہار فرما رہے تھے تو میں بھی اسی مجلس میں ہمہ تن گوش اسے سن رہا تھا۔ جس کے بعد یہ واقعہ مشہور ہو گیا اور اس قصیدہ کو وہ شہرتِ دوام ملی کہ آج تک اس کا تذکرہ زبان زد خاص و عام ہے اور اس سے حصولِ برکات کا سلسلہ جاری ہے۔
قصیدہ بردہ کی وجہ تسمیہ بھی یہ ہی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ سے خوش ہو کر اپنی چادر مبارک ان کے بیمار جسم پر ڈالی تھی اور پھر اپنا دست شفاء بھی پھیرا تھا جس کی برکت سے وہ فوراً شفاء یاب ہوئے لہٰذا اس چادرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے اس قصیدہ کا نام ’’قصیدہ بردہ‘‘ مشہور ہوا۔ یعنی چادر والا قصیدہ۔
اور اس کی شہرت صرف مصر تک ہی نہیں رہی۔ بلکہ دنیا میں ہر جگہ ہی اس کو ذوق و شوق سے مسلمان پڑھتے ہیں۔
آپ کا انتقال ١٢٩۴ء میں ہوا اور آپ کا روضہ مصر کے شہر اسکندریہ میں ہے ۔۔۔👇👇👇