آج کچھ خاص لے کر آيا ہوں، جو کہ حقیقت ہے۔


1) ماچس کی تیلی میں سر تو ہوتا ہے، پر دماغ نھیں ہوتا۔ اسی لیے ذرا سی رگڑ سے بھڑک تو اٹھتی ھے، پر انجام۔۔۔ اپنی ہی آگ میں جل کر خاک ہو جاتی ھے۔
حاسد کا بھی، کچھ ایسا ہی حال ہوتا ہے۔

2) مینڈک کو چاہے، سونےکی بنی کرسی پرہی بیٹھادیں۔ پر وہ چھلانگ لگا کر واپس دلدل میں ہی جانا پسند کرتا ہے ۔۔۔
پس اسی طرح کے کچھ انساں ہوتے ہیں، ان کو آپ جتنی مرضی عزت افزائی دیں۔۔۔ پر انھوں نے اپنے سلوک۔۔ اخلاق۔۔۔ اپنے برتاؤ سے اپنے آپ کو کم ظرف کرکے ہی رہنا ہوتا ہے۔

3) جنازے میں شامل ہونے کے لیے لوگ دوسرے ملکوں سے بھی آسکتے ہیں، جبکہ فرض نماز کے لیے پاس کی مسجد میں بھی جانا مشکل لگتا ھے۔

4) جب انسان اپنی غلطیوں کا (وکیل) اور دوسروں کی غلطیوں کا (جج) بن جائے تو فیصلے نہیں، (فاصلے )ہونے لگتے ہیں۔

5) ہمیں تو مردہ کو بھی سلام کہنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔۔۔
پر پتہ نہیں، ہم میں یہ انا۔۔ ضد۔۔ اکڑ ۔۔ کیوں آ گئی ھے کہ زندہ لوگوں کو بھی سلام نہیں کرتے۔ اگر کرتے بھی ہیں، تو مطلب تک۔

6) سب کو خوش رکھنا ایسا ہے، جیسے زندہ مینڈکوں کو تولنا۔ ایک کو بیٹھاؤ تو دوسرا پھُدک پڑتا ہے۔

7) انسان جسم سے نہیں، اپنے اخلاق سے بڑا ہوتا ھے۔

شیطان کا ایک بہت عجب جال

شیطان کا ایک بہت عجب جال ہوتا ہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہو گیا ہے اور کسی بھی بےجا خوف کے تحت وہ ہمیں اللہ سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور وہ ہمارا اللہ جس نے بارہا کہا میرا رحم میرے غضب پر غالب ہے۔ جس نے قرآن کریم میں 113 سورتوں میں اپنی صفت رحمٰن و رحیم بتائی اور فقط ایک سورہ جس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے نہیں تو اسکا نام ہی سورۃ التوبہ ہے، جس میں معبودِ حقیقی کا مخفی پیغام ہے اے میرے عبد توبہ کر اور میں تجھے گلے لگانے کو تیار ہوں۔

ویسے جس کے دل میں یہ خوف ہے کہ اللہ اس سے ناراض ہے اس سے اللہ بھلا کیسے ناراض ہو سکتا ہے ۔۔ یہ تو بس تب تک ایک شیطانی جال ہے اگر یہ آپ کو اللہ کی رحمت سے ہٹا کر اسکے غضب میں ہی مبتلا رکھے، جب تک یہ خوف انسان کو اللہ سے دور رکھے اور جسے وہ سچے اشکِ ندامت بہا کر یہ کہہ کر توڑنا ہے کہ میرا گناہ میری رب کی رحمت و مغفرت سے بڑا نہیں ۔۔ وہ معاف کرنے والا ہے وہ مجھے معاف کر دے ۔۔ مجھے توفیق دے میں اسی کی رضا میں جیوں مروں اٹھوں ۔۔ اس کے لئے اسی کی توفیق سے گناہ سے بچوں اس کے لئے نیک اعمال کروں ۔۔ اسے راضی کروں ۔۔ اسکی محبت کی ٹھنڈک اس کے چین کا نور میرے دل میں ایسا ہو جیسے سخت جون جولائی کے مہیںوں میں کسی کو ٹھنڈا میٹھا پانی پی کر قرار آجاۓ ۔۔ جیسے کوئی جل رہا ہو اور ٹھنڈی بارش کی پھوار میں نہا جائے ۔۔ جیسے کوئی تنہا صحرا میں بلکتا ہو تو وہ اس کے جھلستے سر پر کسی سایہ دار ابرِ رحمت سا ہو ۔۔ شاید ناراض ہونا چاہے تو وہ ان سے ہو جنہیں وہ اپنی ذات سے غافل کر دیتا ہے ۔۔ جنہیں اس احساس سے بھی محروم کر دیتا ہے کہ کوئی ہے ۔ ۔ جس نے انہیں پیدا کیا جس کے وہ بال بال مقروض ہیں ۔۔ مگر سچ کہوں بے پرواہ وہ ان سے بھی نہیں ہوتا جو اس سے بےپرواہ ہو چلے ۔۔ ان کے ساتھ کیا کیا نہیں کر سکتا مگر نبھاہ رہا ہے کیوںکہ اس سے بڑھ کر باوفا کوئی نہیں کیوںکہ اس سے بڑھ کر صبور کوئی نہیں وہ تو انکو بھی بےبہا دے رہا ہے جو اس کا شریک اسی کی مخلوق کو ٹھہراتے ہیں ۔۔ اس پر تہمت لگاتے ہیں اسی کا کھا کر پہن کر اسی کی زمین پر چل کر اسی کے آسمان کی چادر تلے اسی پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔۔ وہ تو سب کو دیئے ہی دیئے جا رہا ہے ۔۔ بے بہا دیئے جا رہا ہے ۔۔

تو الحمد للہ اللہ ہم سے ناراض نہیں ۔۔ مگر ہاں اسکو راضی کرنا ایک الگ معاملہ ہے ۔۔ شاید ایک مسلمان کو خوف ہوتا ہے اللہ ناراض نہ ہو جائے اور مومن کو یہ فکر رہتی ہے کہ اللہ کو راضی کیسے کرنا ہے ۔۔۔ جو کہ بلاشبہ عطا ہے ۔۔ کہ اللہ انکو ہی اپنے سے راضی ہونے کی لگن دیتا ہے جو اسے اچھے لگتے ہیں ۔۔ اور بھلا کون ہے وہ تخلیق کار جسے اپنی ہی تخلیق بری لگے اور اللہ بے انتہا خوش ہوتا ہے بندے کے اپنے پاس پلٹ آنے کے لیۓ۔ بندے سے اللہ سے بڑھ کر کوئی پیار نہیں کر سکتا اور بندہ کیسا بندہ ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر سب سے پیار کرتا ہے۔۔ جانے کیوں ہم نے اللہ کو ایک عذاب دینے والی ہستی ناراض رہنے والی ہستی سمجھ لیا ہے حالانکہ وہ تو ہم سے ہماری ماں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے ۔۔ بلکہ اسی نے تو ہمیں ماں بھی دی الحمد للہ رب العالمین۔

ہاں بس اسکے پیار کا طریقہ الگ ہے ۔۔ جیسے ایک چھوٹا بچہ جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا مگر اپنے تجسس اور شوق میں وہ نادانی میں آگ پکڑنے لگا یے تو ماں کیسے بھی کر کے اسکو آگ سے بچاتی ہے ۔۔ کبھی آگ اس سے دور کرتی ہے کبھی اسکو آگ سے دور کر دیتی ہے ۔۔ کبھی کسی اور کھلونے سے بہلا لیتی ہے ۔۔ اگر بچہ پھر بھی بضد ہو تو اسے ڈانٹنے یا مارنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ جانتی ہے کہ بچہ نادانی میں جو خواہش کر رہا ہے وہ خواہش اسے جلا دے گی ۔۔ تو ہمارے پیارے سے اللہ پاک ۔۔ جنہوں نے خود ہمیں اتنے پیار سے اپنے لئے بنایا، کیا وہ ہماری خواہش کو اہم نہیں جانیں گے؟ مگر ہم اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنے شوق کے ہاتھوں جس شے کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ دراصل اسکی ہمارے حق میں اور ہمارے حق میں اسکی اصل ماہیت سے نا آشنا ہوتے ہیں مگر ہمارا اللہ علیم و حکیم آشنا ہے ۔۔ تو جیسے بچہ جب برا محسوس کرتا ہے کہ اسکی ماں نے اسکو آگ سے دور کر دیا ۔۔ اسی طرح نادان انسان اللہ کی حکمت بھی نہیں سمجھ پاتا ۔۔ اور شکوے شکایات کا ایک دفتر کھول دیتا ہے ۔۔ اب بھلا کوئی بچہ آپ کے پاس منہ بسور کر آئے اور کہے میری ماما نے مجھے آگ پکڑنے پر ایک تھپڑ رسید فرمانے کی دھمکی ارشاد فرمائی ہے۔۔ تو آپ اس نادان کو کیسے دیکھیں گے ۔۔۔ یقیناۤ مسکراتے ہوئے ۔۔ اور پھر سمجھاتے ہوئے کہیں گے کہ بیٹا اس میں آپکی بہتری ہے ۔۔ اب اللہ کے فیصلوں پر اگر کوئی آپ کو بہتری کا پہلو دکھائے تو وہ یقیناۤ آپ سے مخلص ہے مگر اگر کوئی آپ کو آپکی ہی ماں کے خلاف اکسائے یا بھڑکائے تو ذرا اسکے اخلاص کے حوالے سے سوچ لیجئے ۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ کسی شے کو بس ذرا لے کر دیکھتا ہے کہ کیا اسکا بندہ اللہ کو اللہ جانتا ہے یا اپنی خواہش کو معبود مانتا ہے۔ سو بس آزماتا ہے سو اگر سرخروئی عطا ہو تو اللہ اس جہاں میں صلہ بڑھا کر عطا کرتا ہے۔ مگر اللہ وہی کرتا ہے جس میں اسے اپنے بندے کی سب سے زیادہ خیر نظر آتی ہے ۔۔

اللہ پاک ہے .. بلاشبہ بہت رحمن غفور الرحیم ہے. اور وہ صرف اپنے بندے کی نیت دیکھتا ہے. وہ سینوں کے بھید دلوں کی حقیقت نیتوں کا حال سب جانتا ہے. وہ ہماری توبہ کی حقیقت کو بھی جانچتا ہے. وہی پاک ہے وہی پاک کر سکتا ہے. ہم بس اللہ کو سچے دل سے خود سپردگی دیں اور اسے کہیں وہ ہم پر قابض ہے، وہی ہم پر قابض رہے .. پل بھر کو بھی ظالم نفس کے حوالے نہ کرے. وہ اور صرف وہی ہماری شکستہ سامانیوں کے باوجود .. ہماری کوتاہیوں زیادتیوں کے باوجود .. صرف ایک سچے رجوع پر ہمیں گلے لگانے کو تیار ہے ۔۔

ہاں اسکی عظمت بے نیازی کا خوف ہونا بھی چاہئے۔ مگر اگر ہم اسکی رضا میں تحلیل ہو جائیں تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم اسکے خوف سے اس سے دور ہوجائیں ۔۔

وہ ایک واحد ذات وہ ہے جہاں ہمیں کسی ریجیکشن کا خوف نہیں. وہ جس نے ہمیں بنایا ہے ہماری شخصی کمزوریوں سے آگاہ. صرف ہمارے سچ سے ہمارے سچے ہونے کا منتظر .. کہ اسے جھوٹ فریب دھوکہ منافقت پسند نہیں .. کہ اس میں اسکا نہیں .. ہمارا نقصان ہے .. اللہ ہمیں اپنے احسان شناسی سے مالامال کر دے اپنی محبتوں کے حصار میں ہمیں اور مضبوطی سے تھام لے۔
اللھم آمین
۔۔۔👇👇👇

سنڌ جي تعليم کاتي۾ PST,JEST استادن جي ڀرتي لاءِ ضرورت مطابق ضلعي،تعلقي ۽ يونين ڪاؤنسل ۾ نوڪرين جو تعداد ۽ تفصيل ھيٺ ڏنل

سنڌ جي تعليم کاتي۾ PST,JEST استادن جي ڀرتي لاءِ ضرورت مطابق ضلعي،تعلقي ۽ يونين ڪاؤنسل ۾ نوڪرين جو تعداد ۽ تفصيل ھيٺ ڏنل آهن ضلع ھي آهن

بدين_تعداد:
پي ايس ٽي 750
جي ايس ٽي سائنس 212
جي ايس ٽي جنرل 163

دادو_تعداد:
پي ايس ٽي 460
جي ايس ٽي سائنس 53
جي ايس ٽي جنرل 53

حيدرآباد_تعداد :
پي ايس ٽي 190
جي ايس ٽي سائنس 95
جي ايس ٽي جنرل 32

ٺٽو_تعداد:
پي ايس ٽي 657
جي ايس ٽي سائنس 77
جي ايس ٽي جنرل 416

ميرپور_خاص_تعداد:
پي ايس ٽي 420
جي ايس ٽي سائنس 166
جي ايس ٽي جنرل 137

ٿرپارڪر_تعداد:
پي ايس ٽي 1172
جي ايس ٽي سائنس 137
جي ايس ٽي جنرل223

سانگھڙ_تعداد:
پي ايس ٽي 184
جي ايس ٽي سائنس 128
جي ايس ٽي جنرل 65

ڪراچي_تعداد:
پي ايس ٽي 1057
جي ايس ٽي سائنس 876
جي ايس ٽي جنرل 592

لاڙڪاڻو_تعداد:
پي ايس ٽي 988
جي ايس ٽي سائنس 118
جي ايس ٽي جنرل 71

شڪارپور_تعداد:
پي ايس ٽي 195
جي ايس ٽي سائنس 170
جي ايس ٽي جنرل 93

خيرپور_ميرس_تعداد:
پي ايس ٽي 917
جي ايس ٽي سائنس 524
جي ايس ٽي جنرل 218

نوابشاهه_تعداد:
پي ايس ٽي 974
جي ايس ٽي سائنس 391
جي ايس ٽي جنرل 76

سکر_تعداد:
پي ايس ٽي 146
جي ايس ٽي سائنس 312
جي ايس ٽي جنرل 191

ميرپور_ماٿيلو_تعداد:
پي ايس ٽي 524
جي ايس ٽي سائنس 77
جي ايس ٽي جنرل 86

عمرڪوٽ_تعداد:
پي ايس ٽي 925
جي ايس ٽي سائنس 162
جي ايس ٽي جنرل 138

مٽياري_تعداد:
پي ايس ٽي 151
جي ايس ٽي سائنس 52
جي ايس ٽي جنرل 66

ٽنڊو_الهيار_تعداد:
پي ايس ٽي 82
جي ايس ٽي سائنس 73
جي ايس ٽي جنرل 55

ٽنڊو_محمد_خان_تعداد:
پي ايس ٽي 358
جي ايس ٽي سائنس 75
جي ايس ٽي جنرل 114

ڪنڌڪوٽ_ڪشمور_تعداد:
پي ايس ٽي 469
جي ايس ٽي سائنس 48
جي ايس ٽي جنرل 35

قمبر_تعداد:
پي ايس ٽي 444
جي ايس ٽي سائنس 151
جي ايس ٽي جنرل 99

شاعری

پیار کر کے وفا طلب کرنا
یہ تو لالچ ہے ، مت کیا کیجئے۔💙✌️


خاموشیوں کو سمجھنا سیکھیں جناب 💞💞
ٹوٹے ہوئے لوگ لفظوں کا استعمال نہیں کرتے 💞


جب انسان کی آنکھوں سے ندامت کے آنسو بہتے ہیں تو اس پر رب کی رحمت برستی ہے

اپنی چاہت کی مٹھاس ملا دیجیے
تھکاوٹ بہت ہے ایک کپ چائے پلا دیجیے…!!! 😍😘
__ ” ✨❤🥀

وقت انسان کو سکھا دیتا ہے عجب عجب چیزیں…،🙃
پھر کیا نصیب، کیا مقدر، کیا ہاتھ کی لکیریں…!🖤🥀

ہیں سخت جان لیوا یہ دسمبر کی شامیں
بس اوڑھنے کو غم ہیں اور پینے کو چائے

یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں
کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

خیال رکھا کرو اپنا ___!!!
بہت دعاؤں سے مانگا ہے تمہیں___!!!.


نخرے وہ برداشت کرے جنہیں
لالچ ہو
ھم یہ نخرے منہ پر دے مارتے


ھیں
تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی
خود کو اتنی بھی اذیّت نہیں دی جا سکتی♥️🥀


چھوٹ گئی ہیں سب بری عادتیں دل کی..🙂
اب تجھے دیکھ کر بھی محبت نہیں ہو گی مجھے..🖤


بے وقت، بے وجہ، بے حساب مُسکرا دیتا ہوں
آدھے دُشمنوں کو تو یونہی ہرا دیتا ہوں

سینہ حاضر مگر پھر بھی نہیں مارتے
(دنیا والے)
کیوں پیچہے سے وار کرتے ہیں

جو ہم سے نفرت کرتے ہیں وہ ذرا شوق سے کرے…🔥
کیونکہ
_�ہم ہر کسی کو محبت کے قابل نہیں سمجھتے–🙏
# مجھے ضرورت نہیں وقت سے بدلنے کی

# خاندانی شہزادہ ہو وقت ہی بدل دوں گا
پہلے معیار تو بناؤ 😀

پھر مقابلہ بھی کر لینا🔥
#Zahid_bhai😇
اخلاق ہی بنا دیتا ہے انسان کو❤️
خوبصورت بھی بدصورت بھی❣️
اپنی مستی کی ہم کیا مثال دیں
لوگ مشہور ھو گۓ ہمارے ساتھ چلتے چلتے
بڑی ٹھوکریں کھا کر سمجھدار ہوئے ہیں⁦☺️⁩🖤



*💔Writer’s Me اداسᷤـͤـꙷـͤــں ہیͩـͣـᷤــر💔*
نا جانے کس کس ___کی بد دعا کام آئی____

آخر وہ شخص___بچھڑ ہی گیا مجھ سے___💔
مانا موت بر حق ہے لیکن
مرنے تک تو جینے دو💔

💟😢امتـیاز کـی ڈائيـری✍️💟
منافق نہیں ہوں ، مکار نہیں ہوں____🔥❤✌

اسی لیے شائد کسی کا یار نہیں ہوں💯
💟😢امتـیاز کـی ڈائيـری✍️💟
👈🌹ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﻮ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ

ﺩﺭﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ میں زمانہ ہے..!!👈🌹
حقیقتوں سے واقف ہوں میں سب کی
جھوٹ سننے کیلئے خاموش رہتا ہوں 🔥💔
– ” ツ
آخر گزر ہی جائے گی حیات…
یہ کوئی تاحیات تھوڑی ہے…
اعتماد.. انسان میں روح کا درجہ رکھتا ہے،،
اگر ایک بار نکل جائے تو دوبارہ نہیں پلٹتا،،💯🔥
میں نے اپنوں کو جھیلا ہے
تم عذابوں کی بات کرتے ہو
_____’. 🙂💯🥀🔥
اور انسان اس وقت تنہائی پسند ہو جاتا ہے جب لوگوں کی حقیقتیں سامنے آنے لگتی ہیں۔ 😊💯
🌚🖤
لفظ واپس پلٹ نہیں سکتے،،💫
کتنا مشکل ہے گفتگو کرنا😟
💔—🔥
لوگ کہتے ہیں بھول جاؤ اُسے
کـتنـا آسـاں ہـے مشـورہ دینا
🥺🤯🔥🖤
ہر بات دل سے لگاؤ گے تو روتے رہ جاؤ گے
جو جیسا ہے اُس کے ساتھ ویسا بننا سیکھو. 💔


چھوڑ کر جانے والا کیا جانے
یادو کا بوجھ کتنا بھاری ہوتا ہے۔۔😢😢


تجھے کچھ ہوا نہیں، ، ،
دیکھ میں بھی مرا نہیں ۔ ۔ ۔


: کمال _ کی _ محــــــبـــت _ کی تـــــم _ نے رضوی””
جـــــان _ جـــــان _ کہتے _ کہتے _ انجــــــان _ بنا _ ديــــــــــا ❤
💔💔💔💔💔


ﺑﺮﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯﺑﺮﺍ ﺳﻤﺠﮭﺎ
ﮨﻢ ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﻮ ﮐﺘﻨﮯﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﮯ…..💓💯

پھر کسی کے ساتھ نہیں جُڑتے
وہ جو اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں💔

💯🥀
‏ڈوب کر سورج نے اور بھی تنہا کر دیا مجھے
میرا سایہ بھی الگ ہو گیا میرے اپنوں کی طرح

💯〽
آیا خیال جسم کے کھنڈرات دیکھ کر⚡
کیسے حسین شخص محبّت نے کھا لیے🔥

‏ہر چیز کو ضد سے حاصل کرنے والے جب ہر چیز پر صبر کر لیں تو اس سے بڑی کوئی اذیت نہیں🖤


💯〽
حسن تیرا قیامت ہو گا
مگر سن۔۔۔
مسکراہٹ ہم بھی جان لیوا رکہتے ہیں🔥

سب_کہتے_ہیں_اپنا_وقت_آئے_گا ……..
وقت_آتا_نہیں_وقت_لانا_پڑتا_ہے…🔥

جو زُبان سے بیان نہیں ہو تے 😕
انہی لفظوں سے اشک بنتے ہیں۔⚫

زندگی سے تھوڑی وفا کیجئے۔۔🔥
جو نہیں ملتا اسے دفع کیجئے۔۔✌️

بہت مان تھا کبھی اُن کی باتوں پے- – !!
مگر !! آخر باتیں باتیں ہی رہ گئی- -!!

نہ جانے کونسا ایسا رشتہ چھپا ھے تمہارے اور میرے درمیاں..
ہزاروں اپنے ھیں مگر_________یاد بس تم آتے ھو.. 💕💖💞

‏منزلیں بہادروں کا استقبال کرتی ہیں،
بزدلوں کو تو راستوں کا خوف مار دیتا ہے

ہمیں کوئی پہچان نہ پایا قریب سے..🔥
کچھ اندھے تھے..!! کچھ اندھیروں میں تھے🥀

بس تو اپنی بارگاہ میں بلند رکھ مولا..!!☝
دنیا نظر سے گراۓ یا آسمان سے ہمیں کوئ فرق نہیں پڑتا.

✍️بھول سکتے ہو تو،،،،بھول جاؤ اجازت ہیں تمھیں
نہ بھول پاؤ تو لوٹ آنا،،،ایک اور اجازت ہے تمھیں

بڑا شوق ھے نہ تمہیں احساس دلانے کا________
آ بیٹھ میرے پاس اور بتا کس موڑ پہ وفا کی تونے

دنیا کا سب پہلا خونی غار


۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا سب سے پہلا انسانی قتل حضرت ہابیل کا کیا گیا تھا۔ جس غار میں قابیل نے حضرت ہابیل کو قتل کیا تھا وہ آج بھی شام کے شہر دمشق میں موجود ہے۔ آئیے اس خونی غار کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔

شام کے شہر دمشق کی ایک سائیڈ پر جبل قاسیون ہے۔ یہ پہاڑ یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں مذاہب میں مقدس مانا جاتا ہے۔ حضرت ہابیل اور قابیل کے درمیان لڑائی اسی پہاڑ پر ہوئی تھی۔ جبل قاسیون میں آج بھی وہ غار موجود ہے جس میں قابیل نے پتھر مار کر حضرت ہابیل کو قتل کر دیا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کے درمیان ایک خاتون کے لئے لڑائی ہوئی تھی۔ دونوں ایک ہی لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتے تھے اور دنوں کے انتخاب کے لئے ایک منت کی شرط رکھی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہابیل کی منت قبول کر لی۔ کیونکہ وہ لڑکی قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی اور وہ اس دور کے حساب سے قابیل کی بہن تھی۔ لیکن حُسن میں اس لڑکی سے زیادہ خوبصورت تھی جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی۔ یہ خوب صورتی اور رقابت کا خوفناک جذبہ قابیل کو حکمِ خداوندی ماننے سے بھی انکار کرا دیتا ہے۔ چنانچہ حضرت ہابیل جب جبل قاسیون کے ایک غار میں آرام فرما رہے تھے تو قابیل آیا، پتھر اٹھایا اور حضرت ہابیل کے سر پر دے مارا۔ آپ انتقال کر گئے۔ قابیل نے اس کے بعد حضرت ہابیل کی لاش اٹھائی اور جبل قاسیون پر مارا مارا پھرنے لگا۔ کوے نے مدد کی، زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا۔ قابیل کو آئیڈیا مل گیا۔ اس نے بھی زمین کھودی اور حضرت ہابیل کو دفن کر دیا۔ ہابیل اور قابیل کی لڑائی کا غار اور حضرت ہابیل کا مزار یہ دونوں آج تک سلامت ہیں۔ یہ غار آج بھی ”خونی غار“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ جبل قاسیون کی چوٹی پر ہے۔ غار میں آج بھی وہ پتھر موجود ہے، جس سے قابیل نے حضرت ہابیل کا سر کچلا تھا۔ غار کی چھت سے قطرہ قطرہ پانی ٹپکتا رہتا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے غار ہزاروں سال سے حضرت ہابیل کے قتل پر آنسو بہا رہا ہے۔ حضرت ہابیل کا آلہ قتل بظاہر ڈیڑھ دو کلو گرام کا چھوٹا سا پتھر ہے لیکن یہ خاصا بھاری ہے۔ آپ اسے آسانی سے اٹھا نہیں سکتے۔ یہ غار انبیاء کرام اور اولیاء اللہ میں بہت مقبول رہا۔ حضرت ذکریاؑ، حضرت یحییٰؑ، حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ بھی یہاں قیام فرما چکے ہیں اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمة الله عليه بھی اس مقام پر جا چکے ہیں۔ اس غار میں تقریباً چالیس اولیاء کرام اور عیسائی سینٹ بھی جا چکے ہیں۔ حضرت ہابیل کا مزار جبل قاسیون کے ایک کونے میں پہاڑ کی چوٹی پر قائم ہے۔ مزار کی دوسری طرف گہری کھائی ہے اور کھائی کے آخر میں زبدانی کا قصبہ ہے۔ دمشق کو پانی زبدانی سے سپلائی ہوتا ہے۔ یہ علاقہ مری سے ملتا جلتا ہے، درخت بلند ہیں، پہاڑی چشموں کی بہتات ہے اور فضا میں ایک طراوت، ایک خوشبو پائی جاتی ہے۔ یہ علاقہ چند ماہ پہلے تک باغیوں کے قبضے میں تھا۔ باغیوں نے چند دنوں کے لئے دمشق کا پانی بھی بند کر دیا تھا لیکن یہ اب واپس حکومت کے قبضے میں آ چکا ہے۔ حضرت ہابیل کی قبر عام قبروں سے لمبی ہے۔ یہ ان کے اس دور کے انسانوں کے قد کے مطابق ہے یعنی حضرت ہابیل کے قد آور ہونے کی نشاندہی کرتی ہے ۔۔۔👇👇👇

Design a site like this with WordPress.com
Get started