درخت کی کہانی


۔”” “” “” “” “” “”
ﻗﺪﯾﻢ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﯿﻠﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﮭﻞ ﺗﻮﮌ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، ﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻮ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ، ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﻠﻮﻧﮯ چاہئیں ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ, ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺴﮯ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﻮ ﺳﯿﺐ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﯿﭻ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺴﮧ ﺁ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺳﯿﺐ ﺗﻮﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺳﯿﺐ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮨﻮﺋﯽ ۔

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، ﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻮ۔ ﺣﺴﺐِ ﺗﻮﻗﻊ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺒﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭﮞ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ کہ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭨﮩﻨﯿﺎﮞ ﮐﺎﭦ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﭨﮩﻨﯿﺎﮞ ﮐﺎﭦ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﭨﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺩﮬﻮﭖ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺐ ﻋﺎﺩﺕ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻮ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺧﻮﺵ ﺣﺎﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﻨﺎ ﻟﻮ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﻟﻮ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺣﺎﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﺎ ﺗﻨﺎ ﮐﺎﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺍ۔ ﮐﺎﻓﯽ عرصے ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﭨﺎ۔ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﭘﮭﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ! ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﻮﮞ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺍﻧﺖ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﻣﯿﺮﺍ ﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﮐﯽ ﺗﻢ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﺳﮑﻮ۔
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍٓﻧﺴﻮ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺁﺧﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﮍﯾﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ چاہیئے ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮏ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﺟﮍ ﭨﯿﮏ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﮕﮧ ﮨﮯ۔ ﺗﺐ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، ﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮﻭ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ، ﺩﺭﺧﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﮯ۔

ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺍٓﭖ ﺧﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺐ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮨﯿﮟ۔

👈 ﻧﺼﯿﺤﺖ : ﺩﺭﺧﺖ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺑﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺩﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔۔۔👇👇👇

کستوری، دنیا کی مہنگی ترین خوشبو

کستوری، دنیا کی مہنگی ترین خوشبو ہے اور کستوری کی جائے تولید ہرن کی ناف ہے ، جس ہرن کی ناف میں یہ کستوری بنتی ہے وہ خود اس خوشبو کو سونگھ کر مسحور ہو جاتا ہے اور شنید ہے کہ بعد از طعام ہرن اپنا تمام وقت اس کستوری کو کھوجنے میں صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے ، مگر اس چیز سے لا علم رہتا ہے کہ وہ خوشبو اس کی اپنی ناف میں سے آ رہی ہے
ہرن کی لا علمی پر آپ یقینا ہنسیں یہ آپ کا حق ہے مگر خدا نے ایسا کام صرف ہرن کیساتھ ہی نہیں کر رکھا ، بلکہ گھوڑا وہ طاقت ہے جو طاقت کو ناپنے کا بھی معیار ہے ، یہ موٹر اتنے ہارس پاور کی ہے یہ تو سن رکھا ہو گا آپ نے مگر روایت ہے کہ بروز قیامت گھوڑے کو پتہ چلے گا کہ اس کے پاس کتنی طاقت تھی
آپ گھوڑے پر بھی ہنسنے میں حق بجانب ہیں مگر ایسا کام صرف گھوڑے کیساتھ بھی نہیں آپ کیساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی ، کیونکہ حدیث سرور دو عالم صلى الله عليه وآله وسلم ہے جس نے اپنے آپ کو پا لیا ، اس نے اپنے رب کو پا لیا ، مگر خود تک
کی رسائی اور معرفت نہ مجھے ہے اور نہ آپ کو۔۔

حضرت عمرؒ بن عبد العزیز

حضرت عمرؒ بن عبد العزیز کے گیارہ بیٹے تھے اور وہ صرف اٹھارہ دینار چھوڑ کر فوت ہوئے۔ جن میں سے پانچ دینار کا وہ کفن دیئے گئے اور چار دینار سے ان کے لئے قبر خریدی گئی اور باقی دینار ان کے بیٹوں میں تقسیم کر دیئے گئے۔ جبکہ
ہشام بن عبد الملک کے ہاں بھی گیارہ لڑکے تھے جب ہشام کا انتقال ہوا تو اس نے ترکہ میں ہر لڑکے کے حصے میں دس لاکھ دینار چھوڑے۔

میں نے ایک ہی دن عمر بن عبدالعزیز کے ایک بیٹے کو دیکھا وہ اللّٰہ کی راہ میں سو گھوڑے صدقہ کر رہا تھا اور ہشام کے بیٹے کو دیکھا وہ بازاروں میں بھیک مانگ رہا تھا!!!

جب عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللّٰہ علیہ بستر مرگ پر تھے تو لوگوں نے ان سے پوچھا: “اے عمر! تم اپنے بیٹوں کے لئے کیا چھوڑے جا رہے ہو؟
انہوں نے فرمایا: “میں نے ان کے لیے اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی کا تقویٰ چھوڑا ہے. پس اگر وہ نیکو کار ہوئے تو اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی نیکو کاروں کا دوست ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ کچھ اور ہوئے تو میں ان کے لئے وہ مال ہر گز نہ چھوڑوں گا جو وہ اللّٰہ کی نافرمانی کے کاموں میں ان کا مددگار بنے۔”
۔۔۔👇👇👇

اسکندریہ


۔”” “” “”
اسکندریہ (Alexandria) مصر کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور اس کی سب سے بڑی بندر گاہ ہے۔ اسکندریہ شمال وسطی مصر میں بحیرۂ روم کے کنارے ٢٠ میل (٣٢ کلومیٹر) کے علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک تاریخی شہر اور سوئز کے راستے قدرتی گیس اور تیل کی پائپ لائنوں کے باعث اہم صنعتی مرکز ہے۔

زمانہ قدیم میں یہ شہر اسکندریہ کے روشن مینار (لائٹ ہاؤس) کے باعث مشہور تھا جو سات عجائبات عالم میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ زمانہ قدیم میں اسکندریہ کا کتب خانہ بھی اس کی وجہ شہرت تھا جو اپنے وقت کا سب سے بڑا کتب خانہ تھا۔ اس شہر کو ٣٣۴ قبل مسیح میں سکندر اعظم نے بسایا تھا اور اسی کے نام پر آج تک “اسکندریہ” کہلاتا ہے۔

مسلمانوں نے ١۴ ماہ کے محاصرے کے بعد ٦۴١ء میں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت اس شہر کو فتح کیا۔ ٦۴۵ء میں بازنطینی بحری بیڑے نے شہر کو حاصل کر لیا لیکن اگلے سال تک دوبارہ کھو بیٹھا۔

٦۴٢ء میں جنگ کے دوران لائبریری اور دیگر مشہور عمارات تباہ ہو گئیں۔ روشن مینار ١۴ ویں صدی میں زلزلے سے تباہ ہوا اور ١۷٠٠ء تک یہ شہر ایک چھوٹے سے قصبے کی صورت اختیار کر گیا۔

١٨١٠ء میں مصر کے عثمانی گورنر محمد علی پاشا نے شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا آغاز کیا اور ١٨۵٠ء تک اسکندریہ ماضی کی عظمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

جولائی ١٨٨٢ء میں شہر برطانوی بحری افواج کی بمباری کی زد میں آیا اور انہوں سے اس پر قبضہ کرلیا۔ ٢٨ فروری ١٩٢٢ء کو برطانوی افواج سے مصر کو آزادی نصیب ہوئی۔
۔۔۔👇👇👇

کنویں کا مینڈک


۔”” “” “” “” “” “”
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی سمندر سے ایک مچھلی پکڑ کے لایا اور اسے اپنے گھر میں موجود کنویں میں ڈال دیا۔
اس کنویں میں مینڈکوں کی حکومت تھی۔ مینڈکوں نے جب ایک نئی چیز دیکھی تو پہلے تو وہ ڈرے گھبرائے دور دور گھومنے لگے۔ آخر ایک بڑے مینڈک نے ہمت دکھائی اور مچھلی کے تھوڑا قریب گیا اور پوچھا: تم کون ہو ؟
میں مچھلی ہوں ! مچھلی نے جواب دیا۔
مینڈک : تم کہاں سے آئی ہو؟
مچھلی : سمندر سے۔
مینڈک : وہ کیا ہوتا ہے؟
مچھلی : وہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ اور اس میں پانی ہوتا ہے.
مینڈک نے کہا : کتنا بڑا ؟
مچھلی : بہت بڑا۔
یہ سن کر مینڈک نے اپنے گرد چھوٹا سا گول چکر کاٹا اور پھر مچھلی سے پوچھا : کیا اتنا بڑا ہوتا ہے ؟
مچھلی مسکرائی اور بولی نہیں بڑا ہوتا ہے۔
مینڈک نے تھوڑا بڑا چکر لگایا اور کہا اتنا بڑا ؟
مچھلی ہنسی اور کہا نہیں بڑا ہوتا ہے۔
مینڈک اب جوش میں آ گیا اور اس نے آدھے کنویں کا چکر لگا کر مچھلی کی طرف دیکھا، جیسے پوچھ رہا ہو کہ اب ؟
مچھلی نے پھر نفی میں سر ہلایا۔
اب تو مینڈک نے پوری رفتار سے پورے کنویں کا چکر لگایا اور مچھلی سے کہا کہ اب اس سے بڑی تو کوئی چیز نہیں ہے۔
مچھلی مسکرائی اور مینڈک سے کہا : تمہارا قصور نہیں ہے کہ تمہاری سوچ ہی اس کنویں تک ہے۔

اسی طرح ہمارے معاشرے میں کُچھ لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جن کی سوچ اس کنویں کے مینڈک کے برابر ہوتی ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ وہی اپنے عقائد اور نظریات میں سچے اور کھرے ہیں۔ ایسے لوگوں سے لڑائی یا بحث کرنے کی بجائے ان کو ان کے حال پر چھوڑیں اور ان کی سوچ پر مسکرا کر آگے نکل جائیں۔
۔۔۔👇👇👇

Design a site like this with WordPress.com
Get started