جب قرآن پہ پابندی لگی

:
۔”” “” “” “” “” “” “” “” “”
١٩۷٣ء جب روس میں کمیونزم کا طوطی بولتا تھا۔ بلکہ دنیا تو یہ کہہ رہی تھی کہ بس اب پورا ایشیاء سرخ ہو جائے گا۔ ان دنوں میں ہمارے ایک دوست ماسکو ٹریننگ کے لئے چلے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن میں نے دوستوں سے کہا کہ چلو جمعہ ادا کرنے کی تیاری کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ یہاں مسجدوں کو گودام بنا دیا گیا ہے۔ ایک دو مساجد کو سیاحوں کی قیام گاہ بنا دیا گیا ہے۔ صرف دو ہی مسجد اس شہر میں بچی ہیں، جو کھبی بند اور کھبی کھلی ہوتی ہیں۔ میں نے کہا آپ مجھے مساجد کا پتہ بتا دیں، میں وہیں چلا جاتا ہوں جمعہ ادا کرنے ۔ پتہ لیکر میں مسجد تک پہنچا تو مسجد بند تھی۔ مسجد کے پڑوس میں ہی ایک بندے کے ساتھ مسجد کی چابی تھی۔ میں نے اس آدمی کو کہا کہ دروازہ کھول دو مسجد کا ، مجھے نماز پڑھنی ہے۔
اس نے کہا کہ دروازہ تو میں کھول دونگا لیکن اگر آپ کو کوی نقصان پہنچا تو میں ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ میں نے کہا دیکھیں جناب میں پاکستان میں بھی مسلمان تھا اور روس کے ماسکو میں بھی مسلمان ہی ہوں، پاکستان کے کراچی میں بھی نماز ادا کرتا تھا اور روس کے ماسکو میں بھی نماز ادا کروں گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔ اس نے مسجد کا دروازہ کھولا تو اندر مسجد کا ماحول بہت خراب تھا۔ میں نے جلدی جلدی صفائی کی اور مسجد کی حالت اچھی کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ کام سے فارغ ہونے کے بعد میں نے بلند آواز سے آذان دی ۔۔۔۔۔

آذان کی آواز سن کر بوڑھے، بچے، مرد، عورت، جوان سب مسجد کے دروازے پہ جمع ہوئے کہ یہ کون ہے جس نے موت کو آواز دی ۔۔۔۔ لیکن مسجد کے اندر کوئی بھی نہیں آیا ۔۔۔۔ خیر میں نے جمعہ تو ادا نہیں کیا کیونکہ اکیلا ہی تھا، بس ظہر کی نماز ادا کی اور مسجد سے باہر آ گیا۔ جب میں جانے لگا تو لوگ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ میں نماز ادا کر کے باہر نہیں نکلا بلکہ دنیا کا کویی نیا کام متعارف کرواکر مسجد سے نکلا۔
ایک بچہ میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ ہمارے گھر چائے پینے آئیں ۔ اس کے لہجے میں خلوص ایسا تھا کہ میں انکار نہ کر سکا۔ میں ان کے ساتھ گیا تو گھر میں طرح طرح کے پکوان بن چکے تھے اور میرے آنے پہ سب بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے کھانا کھایا، چائے پی۔ ایک بچہ ساتھ بیٹھا ہوا تھا، میں نے اس سے پوچھا آپ کو قرآن پاک پڑھنا آتا ہے؟
بچے نے کہا، جی بالکل، قرآن پاک تو ہم سب کو آتا ہے۔ میں نے جیب سے قرآن کا چھوٹا نسحہ نکالا اور کہا یہ پڑھ کر سناؤ مجھے ۔۔۔
بچے نے قرآن کو دیکھا اور مجھے دیکھا پھر قرآن کو دیکھا اور ماں باپ کو دیکھ کر دروازے کو دیکھا پھر مجھے دیکھا ۔ میں نے سوچا اس کو قرآن پڑھنا نہیں آتا۔ لیکن اس نے کہا کیوں کہ اس کو قرآن پڑھنا آتا ہے ۔ میں نے کہا بیٹا یہ دیکھو قرآن کی اس آیت پہ انگلی
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ°
رکھی تو وہ فر فر بولنے لگا بنا قرآن کو دیکھے ہی ۔۔۔۔ مجھے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا کہ یہ تو قرآن کو دیکھے بنا ہی پڑھنے لگا۔ میں نے اس کے والدین سے پوچھا، حضرات یہ کیا معاملہ ہے؟
انہوں نے مسکرا کر کہا، دراصل ہمارے پاس قرآن پاک موجود نہیں۔ کسی کے گھر سے قرآن پاک کے آیت کا ایک ٹکڑا بھی مل جائے تو اس تمام حاندان کو پھانسی کی سزا دے دی جاتی ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگ قرآن پاک نہیں رکھتے گھروں میں۔
تو پھر اس بچے کو قرآن کس نے سکھایا؟ کیونکہ قرآن پاک تو کسی کے پاس ہے ہی نہیں۔ میں نے مزید حیران ہو کر پوچھا۔
ہمارے پاس قرآن کے کئی حافظ ہیں۔ کوئی درزی ہے، کوئی دکاندار، کوئی سبزی فروش تو کوئی کسان ۔۔۔ ہم انکے پاس اپنے بچے بھیج دیتے ہیں، محنت مزدوری کے بہانے ۔۔۔۔ وہ ان کو الحمد اللہ سے لیکر والناس تک زبانی قرآن پڑھاتے ہیں۔ ایک وقت ایسا آ جاتا ہے کہ وہ حافظِ قرآن بن جاتے ہیں۔ کسی کے پاس قرآن کا نسحہ ہے نہیں، اس لئے ہماری نئی نسل کو ناظرہ نہیں آتا، بلکہ اس وقت ہماری گلیوں میں آپ کو جتنے بھی بچے دکھائی دے رہے ہیں یہ سب کے سب حافظ قرآن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے اس بچے کے سامنے قرآن رکھا تو اس کو پڑھنا نہیں آیا ناظرہ کر کے، لیکن جب آپ نے آیت سنائی تو وہ فر فر بولنے لگا۔ اگر آپ نہ روکتے تو یہ سارا قرآن ہی پڑھ کر سنا دیتا ۔

وہ نوجوان کہتا ہے کہ میں نے قرآن کا ایک نہیں کئی ہزار معجزے اس دن دیکھے۔ جس معاشرے میں قرآن پہ پابندی لگا دی گئی تھی رکھنے پہ ، اس معاشرے کے ہر ہر بچے بوڑھے مرد عورت کے سینوں میں قرآن حفظ ہو کر رہ گیا تھا۔ میں جب باہر نکلا تو کئی سو بچے دیکھے اور ان سے قرآن سننے کی فرمائش کی تو سب نے قرآن سنا دیا ، میں نے کہا، لوگو ۔۔۔۔۔! تم نے قرآن رکھنے پہ پابندی لگا دی، لیکن جو سینے میں قرآن مجید محفوظ ہے اس پہ پابندی نہ لگا سکے ۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اللہ پاک کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے،
إِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ °
بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔”
(سورۃ الحجر : ٩)
۔۔۔👇👇👇

ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺍﺑﻠﯿﺲ

ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺍﺑﻠﯿﺲ
۔”” “” “” “” “”
ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﺁﺳﻤﺎﻥِ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ اللہ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻋﺎﺑﺪ ﮨﻮﺍ ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺯﺍﮨﺪ ﺑﻨﺎ، ﭘﮭﺮ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺭﻑ، ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﻟﯽ، ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﯽ، ﭼﮭﭩﮯﻣﯿﮟ ﺧﺎﺷﻊ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﻋﺰﺍﺯﯾﻞ ﻧﺎﻡ ﮨﻮﺍ ۔ ﻣﮕﺮ ﻟﻮﺡِ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﭘﺮ ﺍﺱﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍپنے ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﺎ۔

ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﻓﺮﺳﺘﻮﮞ نے ﺳﺠﺪﮦ ﮐﯿﺎ، ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯿﺎ ۔ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺒﺮ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﮍ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺪﺕ ﺗﮏﺳﺠﺪﮦ ﮐﺌﮯ ﺭﮐﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﺠﺪﮦ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ۔ ﯾﮧ ﺑﺪ ﺑﺨﺖ ﺍﮐﮍﺍ ، ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻨﮫ ﭘﮭﯿﺮﮮ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ۔ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﻧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺍ ۔ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﻮﭘﺎﺋﮯ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮧ ﺑﮍﮮ ﺍﻭﻧﭧ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﻨﺪﺭ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ آﻧﮑﮭﯿﮟ ﻟﻤﺒﻮﺗﺮﯼ ﭘﮭﭩﯽ ﭘﮭﭩﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺘﮭﻨﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺌﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﺍﮌھ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺮ ﺩﯼ ۔ ﭘﮭﺮ ﺩﺍﮌھ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺑﺎﻝ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺸﺖ ﺑﺪﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺁﺑﺎﺩ ﺯﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﯾﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﮕﺎ ﺩﯾﺎ ۔ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﻟﻌﻨﺖ ﻭ ﭘﮭﭩﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ ﻭہ ﻣﻠﻌﻮﻥ ﻭ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ۔

ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﮑﺎﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭ ﭘﮍﮮ ( ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ۔ ) ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮ؟
ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ؛ ﮨﻢ ﺗﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻟﻌﻨﺖ ﻭ ﺑﺪﺑﺨﺘﯽ ﺁ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ؛ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻓﮑﺮﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ۔
ﺍﺏ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺗﻮ ﻧﮯ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻨﺖ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮ۔
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ؛ ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻂ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﮐﮯ۔
ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺑﻮﻻ؛ ﺍﻭﺭ ﺗﺴﻠﻂ ﺩﮮ دیجیئے۔
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻭ ﮨﻮں گے ۔
ﺑﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﺴﻠﻂ دیجیئے۔
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ ؛ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﮑﻦ ﮨﻮ گا، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﮮ ﮔﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ دیجیئے ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ؛ ﺗﻮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﭼﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺴﺎﺗﮫ ﮨﻮ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﻏﻠﻂ ﺣﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺪ ﻋﻤﻞ ﭘﺮ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔
ﺍﺏ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؛ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، ﺍﺏ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﭽﺎ ﺟﺎﺋﮯ گا ۔
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ؛ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﮞ ﺟﻮ ﺑﭽﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ۔
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؛ ﻣﺰﯾﺪ ﻋﻄﺎ کیجیئے۔
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ؛ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺑﻨﯽ ﺁﺩﻡ ﮐﯽ ﺍﺭﻭﺍﺡ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﻮں گی، ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ اﻥ ﭘﺮ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ۔
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻄﺎ کیجیئے،
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ؛ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﻮﮞ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ؛ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺏ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ۔

ﺍﻣﺎﻡ ﻏﺰﺍﻟﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺍللہ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ مکاشفة ﺍﻟﻘﻠﻮﺏ ﺳﮯ ﺍﻗﺘﺒﺎﺱ ۔۔۔👇

غریب نائی

ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا، جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا۔ مشکل سے گزر بسر ہو رہی تھی۔ اس کے پاس رہنے کو نہ گھر تھا۔ نہ بیوی تھی نہ بچے تھے۔ صرف ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی۔ جب رات ہوتی تو وہ ایک بند سکول کے باہر چادر بچھاتا، تکیہ رکھتا اور سو جاتا۔

ایک دن صبح کے وقت گاؤں میں سیلاب آ گیا۔ اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور و غل تھا۔ وہ اٹھا اور سکول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا۔ چادر بچھائی، دیوار کے ساتھ تکیہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے لگا ۔

لوگ اپنا سامان، گھر کی قیمتی اشیاء لے کر بھاگ رہے تھے۔ کوئی نقدی لے کر بھاگ رہا ہے، کوئی زیور، کوئی بکریاں تو کوئی کچھ قیمتی اشیاء لے کر بھاگ رہا ہے۔
اسی دوران ایک شخص بھاگتا آ رہا تھا اس نے سونے کے زیور پیسے اور کپڑے اٹھا رکھے تھے۔ جب وہ شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اور اسے سکون سے لیٹے ہوئے دیکھا تو غصے سے بولا، اوئے ساڈی ہر چیز اجڑ گئی اے۔ ساڈی جان تے بنی اے، تے تو ایتھے سکون نال لما پیا ہویا ایں۔
یہ سن کرنائی بولا، لالے اج ای تے غربت دی چس آئی اے۔

جب میں نے یہ کہانی سنی تو ہنس پڑا۔ مگر پھر ایک خیال آیا کہ شاید روزِ محشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہو گا۔ جب تمام انسانوں سے حساب لیا جائے گا۔ ایک طرف غریبوں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔ دو وقت کی روٹی، کپڑا، حقوق اللہ اور حقوق العباد ۔ ایک طرف امیروں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔ پلازے، دکانیں، فیکٹریاں، گاڑیاں، بنگلے، سونا اور زیوارات، ملازم، پیسہ، حلال حرام، عیش و آرام، زکوٰۃ، حقوق اللہ، حقوق العباد ۔۔۔۔
اتنی چیزوں کا حساب کتاب دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔

تب شاید اسی نائی کی طرح غریب ان امیروں کو دیکھ رہے ہو گے۔ چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور شاید دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔!

“اج ای تے غربت دی چس آئی اے۔“ دعا ہے کہ ہمیں ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی اور اللہ کی رضا کے مطابق استعمال اور تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب
۔۔۔👇

Design a site like this with WordPress.com
Get started