دھند کے دنوں میں وارداتیں بڑھ جاتی ہیں، درج ذیل احتیاط مناسب ہو گی


1- فیملی اور دوستوں کا Whatsapp گروپ بنائیں تاکہ ایمرجنسی میں کام آے

2- صدر دروازے اور چھت پر کیمرے لگوائیں

3-کبھی بچوں کو مین دروازہ کھولنے کے لیے باہر نہ بھیجیں

4-طلائی زیورات اور 50 ہزار سے زیادہ رقم بینک میں رکھ دیں.

5-ایک موبائل فون ایسی جگہ پر لازمی رکھیں جو عام شخص کو مل نہ سکے.

6-گھر کی اہم جگہ پر پرنٹ شدہ 15 نمبر.. تھانے کا نمبر.چسپاں کر دیں اور بچوں کو بھی ان نمبر کو استعمال کرنے کے بارے پتہ ہونا چاہیے..

7-کبھی بھی گھر سے باہر جانے کی ایک جیسی روٹین نہ رکھیں کیونکہ چور ذہین ھوتےھیں آپ کی روٹین پر نظر رکھ رہیے ہوتے ہیں.

8- اگر آپ نوکری یا کاروبار کے سلسلہ سے گھر سے باہر ہیں تو مناسب وقفے سے گھر فون کرکے خیر و عافیت پوچھ لیا کریں.

9-مالی معاملات اپنے ملازمین کے سامنے کرنے سے اجتناب کریں۔

10-کسی ایمرجنسی کی صورت میں اپنے حواس مت کھو جائیں بلکہ تحمل اور صبر کے ساتھ معاملات کو ہینڈل کریں.

اللہ تعالیٰ ھم اور آپ سب کا حامی و ناصر ھو.. آمین

ہم بڑے ہوگئے



مسکراہٹ تبسم ہنسی قہقہے۔
سب کے سب کھو گئے۔

ہم بڑے ہوگئے

ذمہ داری مسلسل نبھاتے رہے۔
بوجھ اوروں کا بھی ہم اٹھاتے رہے۔

اپنا دکھ سوچ کر روئیں تنہائی میں۔
محفلوں میں مگر مسکراتے رہے۔
کتنے لوگوں سے اب مختلف ہو گئے۔

ہم بڑے ہوگئے

اور کتنی مسافت ہے باقی ابھی۔
زندگی کی حرارت ہے باقی ابھی۔

وہ جو ہم سے بڑے ہیں سلامت رہیں۔
ان سبھی کی ضرورت ھے باقی ابھی۔
جو تھپک کر سلاتے تھے خود سو گئے۔

ہم بڑے ہوگئے

ختم ہونے کو اب زندگانی ہوئی۔
جانے کب آئی اور کیا جوانی ہوئی۔

دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گیا۔
جو حقیقت تھی اب وہ کہانی ہوئی۔

منزلیں مل گئیں۔
ہم سفر کھو گئے۔
ہم بڑے ہوگئے

مجھے یہ بتائیں، کہ سیدھا دودھ نکال کر چودہ درہم کا بک رہا ہے تو کیا ضرورت ہے پیکنگ کرکے تین درہم کا بیچنے کی؟؟



انکشاف:
جن ممالک میں کرونا کیوجہ سے زیادہ اموات ھوئی انکا طرز خوراک کیا تھا.
چند سال پہلے کی بات ہے میں دبئی میں ہنگری یورپ کی ایک کمپنی میں کام کرتا تھا ، وہاں میرے ساتھ ہنگری کا ایک انجنئیر میرا کولیگ تھا ، اُس کے ساتھ میری کافی بات چیت تھی ،
ایک دن ہم لوگ پیکٹ والی لسی پی رہے تھے ، جسے وہاں مقامی زبان میں لبن بولتے ہیں ،
میں نے اسکو بولا کہ یہ لسی ہم گھر میں بناتے ہیں ، وہ بڑا حیران ہوا، بولا کیسے ،
میں نے اسے کہا کہ ہم لوگ دہی سے لسی اور مکھن نکالتے ہیں ، وہ اور بھی حیران ہو گیا ، کہنے لگا یہ کیسے ممکن ہے ، میں نے بولا ہم گائے کا دودھ نکال کر اسکا دہی بناتے ہیں ، پھر صبح مشین میں ڈال کر مکھن اور لسی الگ الگ کر لیتے ہیں ، یہ ہاتھ سے بھی بنا سکتے ہیں ،
وہ اتنا حیران ہوا جیسے میں کسی تیسری دنیا کی بات کر رہا، ہوں ، کہتا یہ باتیں میری دادی سنایا کرتی تھیں ،
کہنے لگا میری بات لکھ لو تم لوگ بھی کچھ سالوں تک آرگینک چیزوں سے محروم ہونے والے ہو ، میں بولا کیسے ،
کہتا ، ہنگری میں بھی ایسے ہوا کرتا تھا ، پھر ساری معیشت یہودیوں کے ہاتھ میں آ گئی ،
انتظامی معاملات بھی یہودیوں کے ہاتھ میں آگئے ،
انہوں نے کوالٹی اور صحت کے حوالے سے میڈیا پر کمپئین چلائی ، اور جتنی بھی آرگینک چیزیں تھیں انکو صحت کے حوالے سے نقصان دہ قرار دے دیا ،
جیسے کھلا دودھ ، کھلی روٹی ، گوشت ، ہوٹل ، فروٹ ، وغیرہ وغیرہ ،
اب کیا ہوا ، برانڈ متعارف ہو گئے ، جو انٹرنیشنل لیول کے میعار کے مطابق ،
گوشت سپلائی کرنے والی کمپنیاں مارکیٹ میں آ گئیں ، انکا گوشت ڈبوں میں اچھی خوبصورت پیکنگ کے ساتھ ملنے لگا ،
اور جو عام بیچنے والے تھے ، ان پر اداروں کے چھاپے پڑنے لگ گئے میڈیا پر انکو گندہ کیا جانے لگا ، نتیجہ کیا نکلا ، گوشت کا کام کرنے والے چھوٹے کاروباری لوگوں کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا ، اور جو تھوڑے سرمایہ دار تھے ، گوشت سپلائی کرنے والی کمپنیوں نے انکو اپنی فرنچائزز دے دیں ، اب وہ کمپنیوں کا گوشت فروخت کرنے لگے ،
عام قصائی گوشت والا جانور لے کر ذبح کر کے گوشت صاف کرکے بیچتا ، بڑی بے ایمانی کر تا تو ، گوشت کو پانی لگا لیتا ، اور کمپنیاں کیا کرتیں ، وہ کسی کو نہیں پتہ، پورا جانور مشین میں ڈالتے ، اسکا قیمہ قیمہ کرتے گوبر اور آنتوں سمیت ، !! پھر اس میں کیمیکل ڈال کر صاف کرتے ، اسکو لمبا عرصہ تک محفوظ کرنے کے لیے اور کیمیکل ڈالتے ، پھر اسکے مختلف سائز کے پیس بنا کر پیک کر کے مارکیٹ میں ڈال دیتے اور لوگ برانڈ کے نام پر خریدتے ، باہر رہنے والوں کو گوشت کمپنیوں کا اچھی طرح سے اندازہ ہو گا !!
پھر گدھے کے گوشت کا ڈرامہ میڈیا نے کسی کے کہنے پر رچایا ۔۔۔۔ تاکہ لوگ بڑا گوشت نہ کھائیں اور مرغی کی طرف واپس آئیں ۔۔۔۔ کیا اب ملک میں گدھے ختم ہو گئے ہیں ؟
نہیں !!! بلکہ سیلز ٹارگٹ حاصل ہو رہے ہیں ۔۔۔۔
بھینسوں کو شہروں سے کیوں نکالا ؟
تاکہ خالص، تازہ ، سستا دودھ کی جگہ ڈبہ والا دودھ فروخت ہو ۔۔۔۔ جب مطلوبہ ٹاگٹ پورے نہیں ھوئے تو کھلے دودھ کے پیچھے پڑ گئے ۔۔۔۔
اسی طرح دودھ والوں کے ساتھ بھی کیا ؛ پہلے انکو مارکیٹ میں گندہ کیا میڈیا پر کمپئین چلا کر ، پھر انکو اپنی فرنچائز دے دیں ، اور اپنا دودھ بیچنا شروع کر دیا ،
اب مجھے یہ بتائیں ، کہ جو دودھ عام اور چھوٹے فارمز سے آتا ہے ، جو کسی قسم کا کیمیکل نا تو جانور کو کھلاتا ہے ، اور نہ دودھ میں کوئی کیمیکل ڈالتا ہے ، زیادہ سے زیادہ کیا کرے گا ، پانی ڈال لے گا ،،زیادہ ڈالے گا تو وہ بھی لوگوں کو پتہ چل جائے گا ،،،
اور جو نیسلے ملک پیک اور دوسرے ٹیٹرا پیک والے ہیں وہ دودھ کو لمبے عرصہ رکھنے کے لیے کیا کیا کیمیکل ڈالتے ہیں ، اور فارموں میں کیا کیا جانوروں کو کھلاتے ہیں ،،

وہ دودھ صحیح ہے یا کسان والا ؟؟

دبئی میں دودھ کی ایکسپائری ڈیٹ جتنی زیادہ ہوگی اتنا زیادہ کیمیکل ہوگا ، اور اتنی قیمت کم ہوگی ،
ایک ہی کمپنی کا دودھ اگر ٹیٹرا پیک میں خریدیں گے تو، تین درہم فی لیٹر قیمت ہے ،،اسی کمپنی کی بوتل فریش والی خریدیں گے تو چھ درہم لیٹر اور آج کل آرگینک دودھ بھی مارکیٹ میں آ گیا ہے، جو چودہ درہم فی لیٹر ہے ،
مجھے یہ بتائیں ، کہ سیدھا دودھ نکال کر چودہ درہم کا بک رہا ہے تو کیا ضرورت ہے ، پیکنگ کرکے تین درہم کا بیچنے کی ،، ؟؟

لوگ اب آرگینک کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ہم بدقسمت برانڈ کے پیچھے پڑ گئے ہیں ،
اب پاکستان میں بھی بڑے بڑے ڈیری فارم بن رہے ہیں ، اور ہر دوسرے روز حکومت دودھ والوں پر چھاپے مار رہی ہوتی ہے، اور میڈیا پر دکھا رہی ہوتی ہے کہ دودھ میں یہ ملایا وہ ملایا ،، اسٹرنگ آپریشن کیے جا رہے ہوتے ہیں ،،
او بھائی ، اگر کاروائی کرنی ہے تو میڈیا پر شور مچانے کی کیا ضرورت ہے ، کیوں لوگوں کا اعتبار اٹھانے کے لیے ذہن تبدیل کر رہے ہیں.

اب آپکے ذہن میں یہ سوال لازمی آئے گا کہ دنیا کی ھر تباھی کو یہودیوں سے کیوں جوڑا جاتا ہے تو میرے بھائیوں آپنے صرف یہ کرنا ھے کہ دنیا کے سب بڑے برانڈڈ پیک فوڈ کمپنیوں کے مالک کی لسٹ نکال لیں اور بہت آسانی سے انکے نام کی پروفائل واٹس ایپ، انسٹاگرام، فیس بک پر چیک کر لیں یا پھر ان ناموں کو گوگل پر سرچ کر لیں تو ان کی پروفائل پر آپکو اننا مذہب یہودی ھی ملے گا دنیا کے ذیادہ تر کاروبار کے مالک یہی یہودی ھی ہیں کاروبار کے ساتھ ساتھ یہ لوگ انٹرنیشنل میڈیا کو بھی کنٹرول میں کیے ھوے ہیں اور جب چاہیں عوام میں پروپیگنڈا پھیلا دیتے ہیں

بہرحال اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ھم اپنی قدرتی خوراک کو اپنائیں اور شارٹ کٹ سے بنی ھوئی ھر اس خوراک سے خود بھی بچیں اور خاص طور پر اپنی اولاد کو ان سے بچائیں مثلاً پیپسی، کوک جیسی ڈرنک، پیک جوسز، پیک چپس، مختلف اسنیکس، برگر، پیزا کیوں کہ ان میں بھی پیک فروزن چکن اور پیک لوازمات استعمال کیے جاتے ہیں یاد رھے یورپ اور امریکہ کے اکثر ممالک جہاں کرونا اموات سب سے زیادہ ہے وہاں کی زیادہ تر آبادی کی خوراک یہی برگر، پیزا اور پیک فوڈز پر مشتمل ھوتی ھے

لہذا فیصلہ ھم نے خود کرنا ھے شکریہ

ڈگری زدہ قوم اور ہنر مند قوم میں فرق

:
۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں ۔۔۔ بی ای، بی کام ، ایم کام ، بی بی اے ، ایم بی اے، انجینئیرنگ کے سینکڑوں شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں اور اس کے علاوہ چار چار سال تک کلاس رومز میں GP کے لئے خوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کونسا تیر مار رہے ہیں؟ آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر “ڈگری شدہ” انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ہیں۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک معصوم سی نوکری ہے اور بس۔

ٹیوٹا ، ڈاہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ، سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں جبکہ شیورلیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے۔ آپ اندازہ کریں اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہیں؟ آئی ٹی اور الیکٹرونکس مارکیٹ کا حال یہ ہے کہ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان کے پاس سے آتا ہے ۔

ایل جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے۔ ٢٠١۴ء میں سام سنگ کا ریوینیو ٣٠۵ بلین ڈالرز تھا۔ “ایسر” لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے۔ جبکہ ویتنام جیسا ملک بھی “ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن” کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے۔ محض ہوا ، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے۔ اور کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے والا اسپتال بھی چین سے اپنے آلات منگوا رہا ہے- خدا کو یاد کرنے کے لئے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدنے پر مجبور ہیں۔

دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ، دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو “ڈگریوں” کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں “ٹیکنیکل” کرنا شروع کر دیا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی ممالک میں نظر آئیں گے۔

وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اس وقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گذرتا ہے باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گذارتے ہیں ۔

دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں ۔۔۔

ہم اس قدر “وژنری” ہیں کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر ہر سال 200 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں، لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں۔ آپ ہمارے “وژنری پن” کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی پیک کے انتظار میں صرف اس لئے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائیں گی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائیں گے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔
آپ فلپائن کی مثال لے لیں ۔ فلپائن نے پورے ملک میں “ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی” کے شعبے کو ترقی دی ہے۔ اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں ۔ اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتٰی کے ہمارا دشمن بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جا چکا ہے۔ آئی ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں۔ جبکہ آپ کو دنیا کے تقریباً ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں۔ پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں دس دس گنا زیادہ ہوتی ہیں ۔

ایک طرف احساس کفالت پروگرام سنٹر کے باہر لوگوں کی لائنیں اور لائنوں کے لئے لڑتے جھگڑتے دیکھتا ہوں اور دوسری طرف سٹیج پر سیاستدانوں اور ٹاک شوز پر ان کے ترجمانوں کو ایک دوسرے کو للکارتے اور ڈینگیں مارتے دیکھتا ہوں تو مجھے پاکستان اور پاکستانی نوجوانوں پر ترس آنے لگتا ہے۔

چینی کہاوت ہے کہ “اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو”۔ چینیوں کو یہ بات سمجھ آ گئی۔ کاش ہمیں بھی آ جائے۔

حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ “ہنر مند آدمی کبھی بھوکا نہیں رہتا۔”
خدارا ! ملک میں “ڈگری زدہ” لوگوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ہنر مند پیدا کیجیئے ۔ دنیا کے اتنے بڑے “ہیومن ریسورس” کی اس طرح بے قدری کا جو انجام ہونا تھا وہ ہمارے سامنے ہیں- 👇👇

کاہلی اور مایوسی کا علاج



ڈاکٹر عمر عبد الکافی نے بتایا کہ ایک دن وہ ایک مسجد میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ نماز کے بعد ایک آدمی اس کے پاس آیا جس کے لمبے لمبے بالوں اور لمبی داڑھی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے ظاہر کیا کہ اسے اپنے بارے میں بالکل بھی پرواہ نہیں ہے۔
انہوں نے ڈاکٹر عمر سے کہا: “میں بہت سست ہوں ، بہت زیادہ نیند کے ساتھ۔ میں مشکل سے جاگتا ہوں ، میں صرف کھانے کے لئے جاگتا ہوں اور دوبارہ سوتا ہوں۔
میں اپنے کام ، اپنے مستقبل ، اور ہر چیز کو نظرانداز کرتا ہوں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میرے بچے سمجھتے ہیں کہ میں ایک عجیب شخص اور بہت بورنگ ہوں۔
مجھ میں جوش کی کمی ہے ، اور مجھے ہمیشہ مایوسی ہوتی ہے۔ مجھے کیا کرنا چاہئے براہ کرم میری مدد کریں۔ “

ڈاکٹر عمر نے اسے ایک دن میں کم سے کم 100 مرتبہ “استغفر اللہ ” کہہ کر اللہ سے معافی مانگنے اور ایک ہفتہ کے بعد اس کے پاس واپس آنے ، اس کا نتیجہ بتانے کے لئے کہا۔

اس شخص نے کہا: “میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ میں سست ہوں ، میں دن میں 15 گھنٹے سے زیادہ سوتا ہوں۔ میں اپنی دعاؤں، اپنے بچوں اور اپنے کاموں کو نظرانداز کر رہا ہوں ، اور آپ مجھے اللہ سے معافی مانگنے کا کہہ رہے ہو؟”

ڈاکٹر عمر نے کہا:
“آؤ بیٹا ، ہم گوشت اور خون ہیں۔ ہم انسان اپنے پروردگار کی نافرمانی کرنے اور گناہ کرنے کا انکشاف کرتے ہیں۔ یہ گناہ ہمارے جسموں پر بھاری ہوجاتے ہیں اور ہمیں سست بناتے ہیں۔ وہ ہمارے جوش و جذبے کو کم کرتے ہیں ، اور ہمیں سستی اور سختی کا درس دیتے ہیں۔ میرے مشوروں کو سنو اور اس کے نتیجے پر آپ حیران رہ جائیں گے۔ “

6 دن کے بعد وہ شخص ڈاکٹر عمر کے پاس آیا ، اور اس سے کہا: “میں آپ کا ہاتھ چومنا چاہتا ہوں۔
اب میں کبھی کبھی ایک دن میں 100 مرتبہ یا 400 بار یا 1000 بار استغفار کرتا ہوں۔
اللہ نے میرے دل میں سرگرمی اور الہام پیدا کیا ہے۔ میں 7 گھنٹے سے بھی کم سوتا ہوں اور یہ میرے لئے کافی ہے۔ میں اپنے کام کی جگہ کی ہر سرگرمی میں خود کو شامل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں نے ایک نئی شراکت داری پر اتفاق کیا ہے اور میں نے 4 دن سے بھی کم عرصے میں معاہدہ کرلیا ہے۔ ان دنوں میں کبھی بھی اپنی دعاؤں سے محروم نہیں ہوں ، اور میں اپنے بچوں کے ساتھ بہت قریب ہوں۔
استغفار میرے لئے ایک محرک دواؤں ، جیسے انرجی ڈرنک ، بجلی کے چارج کی طرح بن گیا ہے۔ “

استغفار ایسے ہاتھ کی طرح ہے جو انسان کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہ ہمارے پروردگار کی طرف سے ایک طاقت ہے۔
بالکل اسی طرح جیسے چھتری ہمیں سورج اور بارش سے بچاتی ہے۔ استغفار اس ہاتھ کی طرح ہے جو ہماری راہ میں آنے والی کسی بھی مشکل سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔

اپنی زندگی کی کسی بھی ناکامی ، یا جب آپ کو تکلیف ہو ، یا مایوسی ہو ، یا بیماری میں مبتلا ہو ، یا کسی پریشانی کے لئے استغفار کا استعمال کریں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی نشست کے دوران 70 سے زیادہ مرتبہ “استغفر اللہ” کہتے تھے۔

استغفار کے ساتھ ہمارا پروردگار ہر طرح کی مشکلات سے ہماری حفاظت کرے گا۔
مسلم اسکالرز نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ استغفار انسان کو ہر چیز میں کامیاب ہونے میں مدد دیتا ہے۔
اب آپ کتنے خوش قسمت ہیں ، کیوں کہ کوئی آپ کی وجہ سے “استغفر اللہ” کہے گا۔ کیونکہ آپ نے یہ علم شیئر کیا ہے ، اور آپ نے اس نیکی کو کرنے میں رہنمائی کی ہے۔

استغفار ہمارے لئے اللہ کی رحمت ہے۔
اللہ ہمارے استغفار کو ہماری بیماری ، اور ہماری خوشی ، اور ہماری زندگی کو بہترین زندگی میں بدلنے کا شفا بخش بنائے۔
آمین …

Design a site like this with WordPress.com
Get started