قرآن مجید۔۔۔۔ کا مکھی کے بارے میں حیرت انگیز چینلج ۔


” لوگو!
ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو!
اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے” (الحج)

مکھی بنانا تو خیر بہت دور کی بات ہے لیکن چیلنج کا دوسرا حصہ کافی دلچسپ ہے کہ اگر وہ کوئی چیز لے کر بھاگ جائے تو وہ بھی واپس نہیں لے سکتے ۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ واقعی ناممکن ہے ؟ بھلا کیسے ؟

شائد آپ کے علم میں نہ ہو کہ ۔۔۔۔
مکھی غالباً دنیا کا واحد جانور ہے جو خوارک اپنے منہ میں ڈالنے سے پہلے ہی ہٖضم کرنا شروع کر دیتا ہے ۔
مکھی خوراک اپنی ٹانگوں میں اٹھاتے ہی اس پر اپنے منہ سے ایک کیمائی محلول ڈالتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ الٹی کرتی ہے جو فوراً اس چیز پر پھیل کر اس کے اجزاء کو توڑ مروڑ کر تحلیل کر لیتی ہے اور اسکو ایک قابل ہضم محلول میں تبدیل کر دیتی ہے ۔۔۔
۔ یاد رہے کہ مکھی صرف کھانے پینے کی چیزیں لے کر بھاگتی ہے ۔
اس انتہائی پیچیدہ کیمیائی عمل کے بعد مکھی کے لیے آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی خوراک کو چوس لے ۔۔۔۔

۔ تب وہ اپنے منہ سے ایک ٹیوب نکالتی ہے جسکا منہ ویکیوم کلینر کی طرح چوڑا ہوتا ہے ۔ اس ٹیوب سے وہ اس چیز کو چوس لیتی ہے ۔
مکھی اپنی لے کر بھاگی ہوئی چیز کو چند ہی لمحوں میں کسی اور چیز میں تبدیل کر دیتی ہے ۔ جسکو دنیا کی جدید ترین لیبارٹریز اور سارے سائنس دان مل کر بھی اپنی اصل حالت میں واپس نہیں لا سکتے ۔
” بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے”۔۔۔۔۔
یہ قیامت تک لے لیے اللہ کا چیلنج ہے اللہ کا انکار کرنے والوں اور تمام جھوٹے خداؤوں کے لیے..!!

سمارٹ فونز نے چھین لی خوشیاں ہماری


۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
ہمارا معاشرہ اب اسمارٹ فون کا عادی ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے ہم اکثر اپنے اردگرد کی خوبصورتی کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ اب تو اکثر افراد ہی آس پاس دیکھے بغیر ہی اپنی گردن موبائل کی اسکرین پر جھکائے گزرتے نظر آتے ہیں۔ مگر اس طرح ہم بہت سی چیزوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ آئیے ایسی ہی چند چیزوں کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ کونسی چیزیں ہیں جن سے اسمارٹ فونز ہمیں بہت دور لے گئے ہیں۔

• خاموشی کیسی ہوتی ہے،
اگر ہم کچھ دیر کیلئے اپنی انگلیوں کو چلانا چھوڑ کر قدرتی ماحول کی آواز سننے کی کوشش کریں تو ہمیں پرندوں کی چہچہاہٹ اور اپنے شہر یا گاؤں کی آوازیں سنائی دیں گی، جو کہ بہت فرحت بخش ہوتی ہے۔

• ہمارے اپنے خیالات موجودہ لمحے میں؛
جب ہم ای میلز، ایس ایم ایس یا فیس بک پر جواب دینے سے رک جاتے ہیں، تو ہم خود کو اپنے خیالات کے ساتھ تنہا محسوس کرتے ہیں۔ اس وقت کو اپنے خیالات بھٹکانے کیلئے صرف کریں اور اپنے ذہن کو اس کی مرضی کے مطابق کام کرنے دیں۔ یہ معمولی مشق روزانہ کرنے سے آپ کو پرسکون رہنے اور اہم کاموں کو مکمل توجہ سے کرنے میں مدد ملے گی۔

• ٹریفک اشارے
ایس ایم ایس کرتے ہوئے چلنا بہت نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران راہ گیروں کے زخمی ہونے کی شرح میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ان میں بڑی اکثریت 30 سال سے کم عمر افراد کی ہوتی ہے۔

• اچھے کھانے کا مزہ،
انسٹاگرام پر اپنے کھانے شیئر کرنے کے مقابلے میں اپنے اسمارٹ فون کو کھانے کی میز سے دور رکھیں، اس کے بغیر ہی آپ منہ میں پانی بھر دینے والی مہک، ماحول اور کھانے کے ذائقے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

• بدلتے موسموں کی خوبصورتی
اگر آپ کے پاس فطرت کو سراہنے کیلئے وقت ہو، تو جب ہی آپ سرما کی ٹھنڈ، بہار کے سرسبز مناظر اور دیگر موسموں سے لطف اٹھا سکیں گے۔ جب ہی آپ ایک گلاب کی مہک سے بھی صحیح معنوں سے اپنی روح سرشار کر سکیں گے۔

• پیاروں کا ساتھ
جب بھی آپ تعطیلات پر ہوں تو اپنے پیاروں کیساتھ باہر گھومنے یا گھر میں ٹیلیویژن دیکھ کر وقت گزاریں۔ اس وقت چاہے آپ زیادہ بات چیت نہ بھی کریں مگر پھر بھی یہ لمحات ناقابل فراموش ہوں گے۔

• اپنے محلے کے رنگ برنگ مناظر دیکھنا،
اسٹریٹ آرٹ کسی کی ذہنی صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، تو کچھ وقت رک کر انہیں دیکھنے اور سراہنے میں گزاریں۔ اس سے آپ کو تخلیقی خیالات میں مدد ملے گی یا آپ کی چہل قدمی کو ہی دلچسپ بنا دے گی۔

• کسی کو بتانا کہ آپ اس کیلئے موجود ہیں
یہ بات تو اب عام ہو چکی ہے جب کوئی بات کر رہا ہو تو دوسرا شخص موبائل فون میں مصروف ہو جاتا ہے، تو اس بات کی اہمیت سمجھیں کہ دوسرا آپ کو کیا بتانے کی کوشش کر رہا ہے اور کتنی بے تابی سے چاہتا ہے کہ آپ اس کی بات سنیں کیونکہ ایس ایم ایس تو انتظار کر سکتا ہے مگر سامنے بیٹھا شخص معمولی سی عدم توجہ پر جتنا دلبرداشتہ ہوتا ہے اس کا اندازہ آپ کر بھی نہیں سکتے۔ 👇👇

خاندان اور خون کی پہچان



سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا .
سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا.
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے.
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا…. ؟
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا …. میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا…..

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا …..

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……….

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانیں، تو اسے معاف کر دیں ……..اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے …..ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا …. ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے…
بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا……..

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا …..سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو……

ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔ اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں.

_ﺳﺎﺋﻨﺲ_ﺍﻭﺭ_ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ



ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺭﺵ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﺟﺎﺗﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ھﮯ ؟

ﺁﺝ ﮨﻢ ﺁﭖ ﮐﻮﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﭽﮫ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔

ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺳﻮﺭۃ ﻧﻤﻞ ﮐﯽ ﺁﯾﺖ ﻧﻤﺒﺮ 17 ﺍﻭﺭ 18 ﻣﯿﮟ اللّٰہ پاک ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ھے ﮐﮧ :

” ﺍﻭﺭ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥؑ ﻧﮑﻠﮯ ، ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ، ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ،ﺟﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﺎﻧﻮﺭﺗﮭﮯ ، ﻓﻮﺝ ﺑﻨﺪﯼ کئیے ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮔﺰﺭﮮ ﻭﺍﺩﯼ ﻧﻤﻞ ﺳﮯ ،ﺟﻮ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺍﺩﯼ ﺗﮭﯽ ، ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ، ﺍﮮ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺲ ﺟﺎﺅ ،ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺟﯿﮟ ﭘﯿﺲ نہ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ – حضرت ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ؑ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﺱ ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﯽ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭﺍﭘﻨﮯ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﺎ ﺭﺥ ﻣﻮﮌ ﻟﯿﺎ ۔

ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﺎﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ؑ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ اللّٰہ تعالٰی ﻧﮯ حضرت ﺳﻠﯿﻤﺎﻥؑ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ۔ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎﺋﯽ ، آج ﮐﯽ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﯽ ھے ﮐﮧ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﺴﭩﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻋﻘﻞ ﺩﻧﮓ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ھﮯ ۔

ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﺎﮞ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮈﯾﭩﺎ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎﻃﺮﯾﻘﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ھے ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺍﺩ ﻧﮑﺎﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﭼﭙﮑﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔

ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮈﯼ ﮐﻮﮈ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺘﯽ ھے ۔ ﺍﺱ لئیے ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﺎﮞ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮎ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺁﮔﮯ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ، ﯾﮧ ﻭﮦ ﻋﻤﻞ ﮨﻮﺗﺎ ھے ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮈﯾﭩﺎ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔
#سبحان_اللّٰہ
ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﭼﮑﯽ ھﮯ ﮐﮧ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﺎﮞ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺭﺵ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮﮔﻮﻝ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ، ﺗﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺁﺳﮑﮯ ۔

ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﻨﺴﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﺎ ھے ، ﺟﺴﮯ ﮨﺎﺋﯿﮉﺭﻭ ﻓﻮﻟﮏ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﺐ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﮐﺎ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ھے ﺗﻮ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﺳﻨﺴﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ھے ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ھﮯ ۔ ﺍﺱ لئیے ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﺎﮞ ﺑﺎﺭﺵ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻟﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔

ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻣﻮﺳﻤﯿﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺩﮬﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﮐﺎ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﻧﻮﭦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﮨﯿﮟ ۔

ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮔﻮﺍﮦ ھے ﮐﮧ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ غوروفکر ﮐﯿﺎ ، ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﺣﺠﻢ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ھے ؟ چنانچہ جہاز کے سب سے پہلے موجد مسلمان ہی ہیں ۔

ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﺭوﻓﮑﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩﺍﺕ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺴﻞ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ۔
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ھے ﮐﮧ
“کائنات ﻣﯿﮟ ﻋﻘﻞ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ لئیے ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ۔

اندھیر دنیا ایک سچی کہانی ۔۔۔



وہ نابینا ہوکر بھی دال چاول کی ریڑھی لگاتا اور شام تک اتنا ہوجاتا کہ بیوی بچوں کیلئے کچھ حاصل کرلیتا
کبھی تو حیرت ہوتی کہ یہ شخص اتنی محنت کیوں کر رہا ہے۔؟
تو کیا اسے بھیک مانگنی چاہیے؟
نہیں،نہیں اسے یونہی محنت کرنی چاہیے۔

ایک دن اس کی ریڑھی پر کھڑے ہوئے اور دال چاول بنانے کا کہا۔
اس نے کمال مہارت سے پلیٹ اٹھائی اور چمچہ دیگ میں ڈال کر اندازے سے چاول نکالنے لگا میری لیے یہ منظر کافی حیرت کا باعث تھا۔!
دال چاوال ذائقہ میں بے مثال تھے، اس کی ریڑھی پر کافی رش تھا کھانے والوں کا۔
پیسے وصول کرنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ مختلف جیبیں بنائی ہوئی تھیں جن میں ہزار پانچسو سو اور پچاس کے نوٹ رکھے ہوتے وہیں سے اندازے سے نکالتا۔!

مجھے کچھ تجسس ہوا، رش چھٹا تو میں میں نے اسے مخاطب کیا کہ یہ کام کب سے کر رہے ہیں۔؟
مسکرا کر کہنے لگا جب سے نابینا ہوا ہوں۔!
تو پہلے کیا کرتے رہے۔؟
اس نے اپنی کہانی سنائی کہ سنگر بننا چاہ رہا تھا، گلوکار بننے کا شوق تھا ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں آنکھوں کی روشنی چلی گئی اور نوبت یہاں تک آگئی !

اس نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ بینا تھا تو ایک لڑکی اسے پسند کرگئی تھی جس نے نابینا ہونے کے بعد مجھ سے شادی کیلئے حامی بھری۔!
میں نے اسے کہا بھی کہ میں نابینا ہوں کیسے گزارو گی زندگی؟
لیکن وہ پاگل لڑکی نہیں مانی اور یوں ہماری شادی ہوگئی اب الحمدللہ چار بچے ہیں دال چاول وہی بنا کر دیتی ہے اور میں یہاں آکر کھڑا ہوجاتا ہوں، اچھا گذراہ ہوتا ہے۔!

یہ کہانی ہے کاشف نامی شخص کی جو اسی شہر کے ایک کونے میں ریڑھی پر کھڑا سمجھا رہا ہے کہ ناامیدی شیطان کا دھوکہ ہے۔!
کاشف سے اس ملاقات کے بعد شناسائی بڑھی تو اکثر اس کی ریڑھی پر جا کھڑے ہوتے اور دال چاول کھاتے۔
اسے آواز پہچاننے کا ملکہ حاصل تھا، آواز پہچان کر نام لیتا کہ آگئے بڑے بھائی۔؟

ایک دن اس کے مقام پر پہنچے تو کاشف دکھائی نہیں دیا اگلے دن بھی دکھائی نہیں دیا۔!
پھر ایک ہفتہ بعد جانا ہوا تو کاشف کھڑا اپنی ریڑھی پر گاہکوں کو نمٹا رہا تھا۔!
رش کچھ چھٹا تو سلام کلام کیا ۔ کاشف کچھ خاموش خاموش سا تھا۔!
کہاں تھے اتنے دن کاشف بھائی۔؟
بیوی مرگئی میری۔!
کیا؟ گھر والی؟
ہاں گھر والی چلی گئی۔
آنکھیں تو اندھی تھیں دنیا بھی اندھیر ہوگئی۔!

کیسے ہوا یہ سب۔؟
اس دن میں گھر پر تھا وہ کپڑے دھو رہی تھی اور اسے کرنٹ نے پکڑ لیا وہ چلانے لگی، مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہی تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔!
میں نے بڑے ہاتھ پاؤں مارے۔
ادھر ادھر دیواروں سے ٹکرایا لیکن اس کے پاس نہیں پہنچ سکا۔!
میں کچھ نہیں کر پایا مجھے مین سوئچ کا ہی نہیں پتہ تھا کہ میرے گھر میں مین سوئچ کہاں لگا ہے۔!
اور جب تک میں اس کے پاس پہنچا اس کی چیخیں آنا بند ہوچکیں تھی۔!
وہ مرگئی تھی میرے ہوتے بھی وہ مر گئی۔!
میں اس کی کوئی مدد نہیں کر سکا میں اسے دیکھ بھی نہیں پایا۔!
مجھے اپنے نابینا ہونے کا کوئی افسوس نہیں لیکن کاش میں اس وقت بینا ہوتا میں اس عورت کو بچا سکتا جس نے مجھے بچوں کی طرح پالا جس نے مجھے کبھی یہ احساس نہیں دلایا کہ میں ناکارہ فرد ہوں۔!

بس اللہ کی مرضی تھی کیا کریں۔!
تم کھاؤ گے دال چاول؟
اس اللہ کی بندی نے ایک دن کہا تھا کہ کب تک میں مصالحہ جات ڈالتی رہونگی فلاں فلاں مصالحہ ہے وہ ڈال دیا کرنا۔!
میں نے آج وہی مصالحے ڈالے ہیں دیکھو ذرا تم ذائقہ پہلے والا ہی ہے کہ نہیں۔؟
نفس امارہ

Design a site like this with WordPress.com
Get started