مسجد کمیٹی نے اشتہار شائع کیا کہ ﺟﺎﻣﻊ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ، ﺧﻮﺍﮨﺸﻤﻨﺪ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ۔
ﺍﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﮯ؟ ﺍﻋﻼﻥ ﺷﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﺎﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ۔۔۔
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ،
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﺖ ﭘﻮﭼﮭﺌﮯ ﺟﻨﺎﺏ ! ﺁﺝ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺴﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﯽ ﺫﺍﺕِ ﺍﻗﺪﺱ۔ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﻮ، ﺣﺎﻓﻆ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ، ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﮐﺘﻨﯽ؟ ﺑﺲ ﺣﺴﺐِ ﻟﯿﺎﻗﺖ ﻭﮨﯽ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﮔﺮ ﺍﻣﺎﻡ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﮨﯽ ﺳﺴﺘﯽ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺻﻠﻮٰۃ ﺳﻨﺎ ﺩﮮ۔ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮮ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﻧﮯ ﺭﺷﻮﺕ ﻟﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ، نہ ﺩﮮ ﺗﻮ ﮔﮭﻤﻨﮉ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺯﻧﺎ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻤﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺎﺭﺍﺽ، ﺭﺷﻮﺕ ﺧﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺗﻮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﭼﺮﺍﻍ ﭘﺎ، ﺳﻮﺩ ﮐﯽ ﺣﺮﻣﺖ ﭘﺮ ﻟﺐ ﮐﺸﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭ ﻧﮯ ﺁﺳﺘﯿﻨﯿﮟ ﭼﮍﮬﺎئیں، ﻓﺮﺽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺑﺘﻼﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﭨﮫ (ﺟﻤﻌﮧ) ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﻧﺎﺭﺍﺽ، ﺷﺮﺍﺏ ﻧﻮﺷﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﯿﮍﺍ ﺗﻮ ﺳﺎﻗﯿﺎﻥِ مے خانہ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﻣﻠﯽ، ﻧﻤﺎﺯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﻃﻮﯾﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ہیں، ﺟﻠﺪﯼ ﭘﮍﮬﯽ ﺗﻮ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮨﺮﺑﺮﺍﻧﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺳﯿﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻧﺎﮐﺎﺭﮦ ﮨﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﺍﮔﺮ ﺣﺼﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑِﮏ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﻧﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﮕﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ؟ ، ﭼﻨﺪﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﻨﮕﺎ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻋﻠﻢ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺍﺳﮑﻮﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻟﻘﻤﮧ ﺧﻮﺭ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ، ﻣﺪﺭﺳﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍﺭﮮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮﻥ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﮭﭙﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ، ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﭩﯿﭽﺮ ﮨﮯ، ﻏﻠﻂ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﭨﻮﮐﮯ ﺗﻮ ﺩﻗﯿﺎﻧﻮﺱ ﺍﻭﺭ ﮐﭩﺮﭘﻨﺘﮫ ﮨﮯ، ﻧﮧ ﭨﻮﮐﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺧﺮﺍﺑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﮨﯿﮟ، ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﺍﺭﯼ ﺁ ﮔﺌﯽ ۔
ﺑﯿﭽﺎﺭﮮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﻮ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﺮنا ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻌﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ ﻧﮧ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﻓﺴﻮﺳﻨﺎﮎ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﺗﻮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﭘﺴﻤﺎﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﭨﮭﯿﮑﺮﺍ ﭘﮭﻮﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﮯ ﺳﺮ، ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﺎﮨﺎﻧﮧ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ، ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ، ﻟﯿﮑﭽﺮﺍﺭ، ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﺍﯾﺲ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﺩ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀِ ﮐﺮﺍﻡ ﭘﺮ ﺍﻣﺖ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺧﺮﺍﺑﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﭨﮭﯿﮑﺮﺍ ﭘﮭﻮﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻌﺠﺐ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺍﺛﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺻﺎﺣﺒﺰﺍﺩﮮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ، ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﻟﻮﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﻧﮑﮫ دکھاتے اور ﻏﺮﺍﺗﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺏ آپ ﮨﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺳﮯ ﺳﺴﺘﺎ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ ۔۔۔۔۔
“ﻣﻮﻟﻮﯼ” ﮔﻮﺷﺖ ﭘﻮﺳﺖ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭘﻼﺳﭩﮏ ﺍﻭﺭ ﻟﻮہے ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ہے ﺟﺲ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ہے ﻧﮧ ﺣﺎﺟﺖ، ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍہش ہے ﻧﮧ
ﺗﻤﻨﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺭﺯﻭ ہے ﻧﮧ ﺧﻮﺍﺏ، ﺟﺲ ﮐﺎ ہر ﮐﺎﻡ ﺩﻡ ﺍﻭﺭ ہر ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺩﺭﻭﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﯼ ہو ﺟﺎﺗﯽ ہے، ﺟﺲ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﭼﻮﻟﮭﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﮐﯽ نہیں، ﮐﺮﺍﻣﺖ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ہوﺗﯽ ہے، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﻗﻢ ﮐﯽ نہیں ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﻋﺪﺩ ﭼﻒ ﮐﺎﻓﯽ ہے، ﺟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻖ نہیں۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺁﺝ ﮐﮯ مہنگائی ﮐﮯ اس ﺩﻭﺭﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻧﭻ ﯾﺎ ﭼﮫ ہزﺍﺭ ﻣﯿﮟ ہماری ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎﻧﯽ ہیں، ﺍﺫﺍﻧﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﻨﯽ ہیں، ﺟﻨﺎﺯﮮ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ہیں، ﻧﮑﺎﺡ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ہیں، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﮭﺎﻧﺎ ہے، ہمیں ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﻧﮯ ہیں، ﻭﻋﻆ ﻭ ﺧﻄﺎﺑﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﯽ ہے، ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺳﻨﺖ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎنا ہے، ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﺪﺍ ہو تو ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﺍﻥ ﺑﮭﯽ کہنا ہے، ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮ رہا ہو تو ﺍﺳﮯ کلمہ ﮐﯽ ﺗﻠﻘﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﯽ ہے، ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ہو تو ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻋﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﯽ ہے، ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ہو تو ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ہے، ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﺩﮮ تو ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ہے، ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺑﭽﮧ ﮈﺭﺗﺎ ہو تو ﺍﺱ ﮐﺎ ﮈﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ہے، ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ سے ﻣﻮﺕ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﮍﮮ ﺍﻭﺭ اہم ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻭ ﻣﻮﺍﻗﻊ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻧﮯ ﻧﻤﭩﺎﻧﮯ ہیں، ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﺍﻏﯿﺎﺭﮐﮯ ﺣﻤﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﺎﻧﺎ ہے، ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻭ ﻃﺮﯾﻘﺖ ﮐﻮ ﻏﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﻼﻭﭦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﺎﻧﺎ ہے، ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺟﻐﺮﺍفیائی ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮنا ہے، ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻉ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ہے ۔۔۔۔
ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﺲ نہیں، ہم ﻧﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺴﺎﻧﯽ ہیں، ﻃﻌﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﻨﮯ ہیں، ﻃﻨﺰ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﮯ ہیں، ہر ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﺎ ﻗﺼﻮﺭﻭﺍﺭ ﺑﮭﯽ ٹھہرانا ہے، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﭘﺮ ﺗﺮﻗﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎﻧﺎ ہے، ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﺳﮑﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺳﮯ ہم ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ہیں ۔۔۔
ﺁﺝ ﺗﮏ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﺎ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻧﮯ؟ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﻠﮧ ﺍﯾﺴﺎ ہے ﺟﺲ ﮐﺎ ﺷﺮﻋﯽ ﺣﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨﺖ ﺳﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﺎﻻ ہو؟ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻻﺟﻮﺍﺏ ہوﺍ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺲ ﮐﺎﻡ ﮐﺎ ﺑﯿﮍﮦ ﺍﻭﺭ ﭨﮭﯿﮑﮧ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ہے ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ہے؟؟؟
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﻔﺴﺮﯾﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﺭہا ہے، ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﺩﮮ رہا ہے، ﺧﻄﺒﺎﺀ، ﻋﻈﺎﺀ، ﺻﻠﺤﺎﺀ، ﺷﺮﻓﺎﺀ ﮐﺲ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ہے ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻧﮯ؟ ہر ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ہر ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ نہیں ﮐﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻧﮯ؟؟؟
ﻟﯿﮑﻦ نہیں ۔۔۔
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ دہشت ﮔﺮﺩ مولوی ہے، ﺗﺸﺪﺩ ﭘﺴﻨﺪ بھی مولوی ہے، ﺍﮔﺮﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺗﺮﻗﯽ نہیں ہو رہی ﺗﻮ ﻗﺼﻮﺭﻭﺍﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ہے، ﺍﻣﻦ نہیں ہے ﺗﻮ ﻏﻠﻄﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﯽ ہے، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺗﻮ ﺑﺎﻟﮑﻞ نہیں، ﺑﯿﻮﯼ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﯿﺮ ﻭ ﺗﻔﺮﯾﺢ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ نہیں، ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻭ ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ ہے، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺗﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻠﮑﮧ ﭼﭩﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﺎ ہے۔
ﺍﺭﮮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﺷﺘﮧ نہیں، ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺩ ہے۔ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺍﺯﻭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻟﮓ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﭘﭽﺎﺱ ہزار ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﮮ نہیں ہو رہے، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﻮﺭﮮ ہو رہے ہیں؟؟؟👇👇👇
سلجوقی سلطنت :
۔************
سلجوقیوں کا مورث ایک شخص سلجوق بن یکاک تھا، جو ترکستان کے خان اعظم کے یہاں ملازم تھا۔ یہ لوگ فطرتاً جنگجو تھے۔ اللّٰہ نے اس غیر مسلم خاندان کو اسلام کی بقاء و سلطنت اسلامیہ کی سلامتی اور دین کی فروغ کی سعادت عطاء کرنا تھی۔
اس کا سبب یوں بنا کے سلجوق بن یکاک نے خان ترکستان کی ملازمت چھوڑ دی اور اپنے خاندان کے ساتھ بخارا چلا گیا۔ اس کا قبیلہ بھی اس کے ساتھ ہی ہجرت کر گیا۔ کیونکہ اس میں کچھ ایسے اوصاف تھے کہ قبیلہ اسے اپنا پیر و مرشد مانتا تھا۔ سلجوق اپنے اوصاف اور صلاحیتوں کو کسی بہتر اور عظیم مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ وہ یقیناً کسی ایسے عقیدے اور ایسے مذہب کی تلاش میں تھا، جو فطرتِ انسانی سے تعلق رکھتا ہو بخارا میں وہ اسلام سے متعارف ہوا اور اسلام قبول کر لیا اور اپنے خاندان اور قبیلے کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرا کے کہا کہ وہ سب مسلمان ہو جائیں۔ اس کے حکم پر پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔اس لئے اس کی نسل کو سلجوقی یا آلِ سلجوق یا سلاجقہ کہا جاتا ہے۔
سلجوقی سلطنت ١١ویں صدی سے ١۴ویں صدی عیسوی کے درمیان مشرق وسطیٰ (Middle East) اور وسط ایشیاء (Central Asia) میں قائم ایک مسلم بادشاہت تھی جو نسلاً اوغوز ترک تھے۔ مسلم تاریخ میں اسے بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ دولتِ عباسیہ کے خاتمے کے بعد عالمِ اسلام کو ایک مرکز پر جمع کرنے والی آخری سلطنت تھی۔
اس کی سرحدیں ایک جانب چین سے لے کر بحیرۂ متوسط اور دوسری جانب عدن کے ساتھ خوارزم و بخارا تک پھیلی ہوئی تھی۔
طغرل بیگ (سلجوقی سلطنت کے بانی) :
۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
سلجوقی سلطنت کی بنیاد طغرل بیگ نے رکھی طغرل بیگ سلجوق کا پوتا تھا۔ طغرل بیگ بڑی طاقتور شخصیت کا مالک تھا بڑا ذہین، بہادر، دیندار، نیک اور انصاف پرور تھا۔ اس کا بھائی چغری بیگ تھا، جس کی زیرِ قیادت سلجوقیوں نے غزنوی سلطنت سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ابتداء میں سلجوقیوں کو محمود غزنوی کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ خوارزم تک محدود ہو گئے۔ لیکن طغرل اور چغری کی زیرِ قیادت انہوں نے ١٠٢٨ء اور ١٠٢٩ء میں مرو اور نیشاپور پر قبضہ کر لیا۔ ان کے جانشینوں نے خراسان اور بلخ میں مزید علاقے فتح کئے اور ١٠٣۷ء میں غزنی پر حملہ کیا ١٠٣٩ء میں جنگ دندانیقان میں انھوں نے غزنوی سلطنت کے بادشاہ مسعود اوّل کو شکست دے دی اور مسعود سلطنت کے تمام مغربی حصے سلجوقیوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھا۔ ١٠۵۵ء میں طغرل بیگ نے بنی بویہ کی شیعہ سلطنت سے بغداد چھین لیا۔ آٹھ رمضان المبارک ۴۵۴ھ بمطابق ١٠٦٢ء کو ستر سال کی عمر میں طغرل بیگ کا انتقال ہوا ۔ اپنی وفات سے پہلے طغرل بیگ خراسان، ایران اور عراق کے شمال مشرقی علاقوں میں اپنے ہاتھ سے سلجوقی اقتدار اور غلبہ کا کام مکمل کر چکے تھے۔
سلطان محمد الپ ارسلان :
۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
الپ ارسلان نے اپنے چچا طغرل بیگ کی وفات کے بعد زمامِ اقتدار اپنے ہاتھ میں لی ۔ اگرچہ اقتدار کی خاطر ملک میں کچھ جھگڑے ہوئے لیکن الپ ارسلان نے ان تنازعات پر بروقت قابو پا کر حالات کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔ الپ ارسلان اپنے چچا طغرل بیگ کی طرح ایک نہایت مدبر، تجربہ کار لیڈر اور جرأت مند شخصیت کا مالک مخلص قائد تھا ۔ اس نے ملکی سرحدوں کو وسیع کرنے کے لئے ایک نہایت ہی دانشمندانہ پالیسی اختیار کی، جو علاقے سلجوقی سلطنت کے زیرِ نگیں تھے پہلے ان کے استحکام کو یقینی بنایا اور اس کے بعد بیرونی دنیا کی طرف پیش قدمی کی ۔ سلطان الپ ارسلان ہمیشہ جہاد فی سبیل اللّٰہ اور اپنے پڑوسی مسیحی سلطنتوں میں اسلام کی اشاعت کے لئے بے قرار رہتا تھا ۔ اس کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ارمن اور روم کے علاقے اسلامی مملکت میں شامل ہوں ۔ دراصل وہ ایک مخلص مجاہد تھا اور اسلامی جہاد کی روح ہی وہ واحد عامل تھا جس کی بدولت الپ ارسلان کو شاندار کامیابیاں نصیب ہوئیں اور اس کی جہادی سرگرمیوں نے دینی رنگ اختیار کر لیا۔
الپ ارسلان نے ١٠٦۴ء میں آرمینیا اور جارجیا کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا ۔ مشہور مدبر نظام الملک طوسی کو اپنے باپ چغری بیگ کی سفارش پر وزیرِ سلطنت مقرر کر لیا ۔ اس کے عہد میں سلجوقی سلطنت کی حدود بہت وسیع ہوئیں ۔ پہلے ہرات اور ماوراء النہر کو اپنی سلطنت میں شامل کیا پھر فاطمی حکمران کو شکست دے کر مکہ اور مدینہ کو اپنی سلطنت میں شامل کیا ۔ اس سے اسلامی دنیا میں سلجوقیوں کا اثر و اقتدار بڑھ گیا ۔ ٢٦ اگست ١٠۷١ء کو بازنطینیوں نے حملہ کیا تو ملازکرد کے مقام پر ان کو عبرت ناک شکست دی ۔ اور قیصرِ روم رومانوس چہارم کو گرفتار کر لیا۔ قیصرِ روم نے نہ صرف تاوانِ جنگ ادا کیا اور خراج دینے پر رضا مند ہوا بلکہ اپنی بیٹی کی شادی سلطان کے بیٹے سے کر دی اور آرمینیا اور جارجیا کے علاقے اس کو دے دیئے ۔
اسلام کا یہ بطلِ جلیل اور عظیم سپہ سالار ایک باغی کے ہاتھوں شہید ہوا۔ خوارزمی ترکوں کے خلاف ایک مہم میں قیدی بنا کر لائے گئے۔ خوارزمی گورنر یوسف الخوارزمی کی تلوار سے الپ ارسلان شدید زخمی ہوئے اور ۴ دن بعد ٢۵ نومبر ١٠۷٢ء کو محض ۴٢ سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا ۔ آپ مرو کے شہر میں اپنے والد چغری بیگ کے پہلو میں دفن ہوئے اور ملک شاہ کو اپنے پیچھے جانشین چھوڑا ۔
سلطان ملک شاہ اوّل :
۔”” “” “” “” “” “” “”
الپ ارسلان کے وصال کے بعد اس کا بیٹا ملک شاہ تخت نشین ہوا ۔ آپ کے چچا جس کا نام غالباً قاورد بن جفری تھا جو کرمان کے سلجوقیوں کا حاکم تھا نے آپ کی تخت نشینی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہمدان کے قریب چچا بھتیجا میں خونریز معرکہ ہوا قاورد کو شکست ہوئی ۔ کرمان کے علاقے پر قبضہ کر کے ملک شاہ نے ۴٦۵ھ بمطابق ١٠۷٣ء میں سلطان شاہ بن الپ ارسلان کو اس علاقے پر حاکم مقرر کیا۔ سلطان ملک شاہ کے دور میں سلجوق سلطنت کو بڑی وسعت نصیب ہوئی۔ سلطان ملک شاہ اور مشہور مدبر وزیر سلطنت نظام الملک طوسی کی زیرِ قیادت سلجوقی سلطنت اپنے عروج پر پہنچ گئی ۔ یہ لائق اور بہادر باپ کا سچا جانشیں تھا اور اوصاف میں اسی کے مشابہ تھااس کا عہد سیاسی عروج، علمی ترقی اور دینی عظمت کے لحاظ سے بہت اہم تھا ۔ اس کے عہد میں ہر جگہ فارغ البالی اور امن و عافیت تھی۔ تجارت اور صنعت کو فروغ حاصل تھا۔ راستے محفوظ تھے اور اس کا عہد ہر اعتبار سے سنہری کہلانے کا مستحق تھا۔ علمی ترقی، دینی عظمت، معاشی خوشحالی اور تمدنی عروج کسی جگہ کمی نہ تھی۔ وہ بلا کا شجاع اور بہادر تھا اور جہاں رخ کیا وہاں کامیابی حاصل کی۔ ہر دشمن کو زیر کیا اور سلجوقی حکومت کو وسعت دی ۔ مشرق میں اس کی سلطنت کی سرحدیں افغانستان تک، مغرب میں ایشیائے کوچک ( اناطولیہ کا لاطینی نام) تک اور جنوب میں بلاد شام تک وسیع ہو گئیں ۔ اس کے عہد میں نہ صرف پورے دمشق کو سلجوقی حکومت میں شامل کر لیا گیا بلکہ ترکستان کو فتح کر کے خاقان چین سے بھی خراج وصول کیا گیا اور اسلامی جھنڈا ساحلِ شام تک لہرایا ۔
ملک شاہ نے دارالحکومت رے (شہر) سے اصفہان منتقل کر دیا ۔ اسی دوران نظام الملک طوسی نے بغداد میں جامعہ نظامیہ قائم کی ۔ ملک شاہ کے دور حکمرانی کو سلجوقیوں کا سنہرا دور کہا جاتا ہے ۔ ١٠٨۷ء میں عباسی خلیفہ نے ملک شاہ کو “سلطان مشرق و مغرب” کا خطاب دیا ۔ ملک شاہ کے دور میں ہی ایران میں حسن بن صباح نے زور پکڑا جس کے فدائین نے کئی معروف شخصیات کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
١٠٩٢ء میں ملک شاہ اوّل کی وفات کے بعد اس کے بھائیوں اور چار بیٹوں کے درمیان اختلافات کے باعث سلطنت تقسیم ہو گئی ۔ اناطولیہ میں قلج ارسلان اوّل ملک شاہ کا جانشین مقرر ہوا جس نے سلطنت سلاجقہ روم کی بنیاد رکھی ۔
شام میں اس کا بھائی تاج الدولہ توتش اول حکمران بنا اور اسی نے شام کی سلجوق سلطنت کی بنیاد رکھی جبکہ ایران میں اس کے بیٹے محمود اول نے بادشاہت قائم کی جس کی اپنے تین بھائیوں عراق میں برکیارق، بغداد میں محمد تپار (محمد اوّل) اور خراسان میں احمد سنجر سے تصادم ہوتا رہا ۔ توتش اوّل کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں رضوان اور دوقق کو بالترتیب حلب اور دمشق وراثت میں ملا اور ان دونوں کی نااتفافی کے باعث شام کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا، جن پر مختلف امراء کی حکومتیں تھیں ۔
سلجوقیوں کے آپس کے اختلافات ہی ١٠٩٦ء میں پہلی صلیبی جنگ میں عیسائیوں کی فتح کا باعث بنے اور انہوں نے بیت المقدس فتح کر لیا ۔
١١١٨ء میں احمد سنجر نے سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بھتیجے اور محمد تپار (محمد اوّل) کے بیٹے محمود ثانی نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور بغداد میں دار الحکومت قائم کرتے ہوئے اپنے سلطان ہونے کا اعلان کر دیا، تاہم ١١٣١ء میں بالآخر احمد سنجر نے اسے ہٹا دیا۔
سلطان احمد سنجر :
۔”” “” “” “” “” “” “”
سلطان احمد سنجر سلجوقی سلطنت کا عظمت و شان والا بادشاہ تھا۔ سلطان ملک شاہ کا تیسرا بیٹا تھا اس کی حکومت خراسان، غزنہ، خوارزم اور ماوراءالنہر تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کا نام خطبہ میں ایران، آرمینیا، آذر بائیجان، موصل، دیار ربیعہ، دیار بکر اور حرمین تک پڑھا جاتا تھا ۔ ١٠٩٢ء میں خراسان پر قابض ہوا۔ اس کے بعد فارس کا بادشاہ بھی تسلیم کیا گیا ۔ سلطان احمد سنجر نے غزنوی خاندان کے بادشاہ بہرام شاہ کو خراج گزار بنا لیا۔ علاؤ الدین بادشاہ غور نے بہرام شاہ کو شکست دی اور غزنی لے لیا۔ اور یہی علاؤ الدین بھی سلطان سنجر کا مطیع ہوا ۔ سلطان احمد سنجر کو عالم اسلام میں بہت بلند مرتبہ حاصل ہوا اسے ’’سلطان اعظم‘‘ کا لقب دیا گیا۔ اس کی شان و شوکت اور عظمت کی مثال دی جاتی تھی ۔ ٨ مئی ١١۵۷ء کو سلطان احمد سنجر کا انتقال ہوا ۔ سلطان احمد سنجر مرو میں مدفون ہیں ۔ خوارزم شاہی سلطنت نے ١١۵۷ء سے سلجوقی سلطنت کے بیشتر اکثر حصے پر قبضہ کر لیا اور اغوز ترکیوں نے خراسان پر قبضہ کر لیا- اور ١١٩۴ء میں سلجوقی سلطنت کے آخری چشم و چراغ طغرل سوم کی وفات کے بعد سلاجقہ روم اس خاندان کے واحد نمائندے کے طور پر بچے۔
علامہ اقبال نے سلطان احمد سنجر کی عظمت و شان کو سراہا ہے۔
شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقر جنید و بایزید تیرا جمال بے نقاب ۔
(بال جبریل)
جب نہیں کہ مسلمان کو پھر عطا کر دیں
شکوہ سنجر و فقر جنید و بسطامی ۔
(بال جبریل)
سلاجقہ روم (اناطولیہ پر قائم سلجوق سلطنت) – ( یہ وہی سلجوق سلطنت ہے جس کا ذکر ڈرامہ دریلش ارتغرل میں کیا گیا ہے ) :
۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
سلاجقۂ روم ١٠۷۷ء سے ١٣٠۷ء تک اناطولیہ میں قائم رہنے والی ایک سلطنت تھی۔ اور طغرل بیگ کی قائم کردہ سلطنت کی منتقل شاخ تھی. اس سلطنت کے علاقے بازنطینی سلطنت کے مفتوحہ رومی علاقوں پر مشتمل تھے ۔ ١٠۷٠ء کی دہائی میں سلطان ملک شاہ اول کے قریبی عزیز سلیمان ابن قتلمش نے مغربی اناطولیہ میں قوت حاصل کرنا شروع کی اور ١٠۷۵ء میں بازنطینی شہر نیسیا (موجودہ:ازنک) اور نکومیڈیا (موجودہ ازمت) فتح کر لئے ۔
١٠۷۷ء میں اس نے سلطان ملک شاہ اول کے مقابلے میں خود کو سلطان قرار دے دیا اور نیسیا کو اپنا دار الحکومت بنا لیا ۔ سلطنت وسیع ہوتی رہی لیکن ١٠٨٦ء میں سلیمان کو شام کے سلجوق حکمران توتش اول نے انطاکیہ میں قتل کر دیا اور اس کے بیٹے قلج ارسلان کو قیدی بنا لیا۔
١٠٩٢ء میں سلطان ملک شاہ اول کی وفات کے بعد قلج ارسلان رہائی پا گیا اور اپنے والد کی سلطنت کو بحال کرتے ہوئے تمام علاقوں کو دوبارہ فتح کیا۔ (اناطولیہ پر سلجوقیہ سلطنت کو دوباره بحال کرنے والے سلطان محمد قلیج الپ ارسلان تھے اور سلجوقیہ سلطنت کے بانی طغرل بیگ کے قبیلہ سے تھے) ۔ بالآخر اسے ١٠٩۷ء میں صلیبیوں کے ہاتھوں شکست ہو گئی جو فلسطین کو فتح کرنے کے لئے اناطولیہ کے راستے جا رہے تھے۔ حالانکہ قلج ارسلان نے صلیبیوں کو کئی جنگوں میں شکست دی اور ان کے ابتدائی لشکروں کو نیست و نابود کیا لیکن لاکھوں کے عظیم لشکروں کو شکست دینا اس کے بس کی بات نہ تھی ۔ صلیبیوں کے ہاتھوں شکست کے بعد اناطولیہ کے کئی علاقوں سلاجقہ کے ہاتھ سے نکل گئے، لیکن قلج ارسلان نے قونیہ کے گرد حکومت قائم رکھی۔ ١١٠۷ء میں اس نے موصل فتح کیا لیکن اسی سال اس کا انتقال ہو گیا ۔
اس کے بعد کئی سال اس کے بیٹے اور ان کی اولادوں کی حریف اقوام کے ساتھ کشمکش جاری رہی اور بالاخر ١١٩٠ء میں تیسری صلیبی جنگ کے دوران جرمن دستوں نے قونیہ پر قبضہ کر لیا اور آرمینیائے کوچک کی صلیبی ریاست قائم کر ڈالی۔
غیاث الدین کیخسرو اول نے ١٢٠۵ء میں قونیہ کو دوبارہ فتح کر کے خود کو سلطان قرار دیا۔ کیخسرو اور اس کے دو صاحبزادے عزالدین کیقاؤس اور عزالدین کیقباد اول کے دور میں سلاجقہ روم اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ کیخسرو کی سب سے بڑی کامیابی ١٢٠۷ء میں بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع انطالیہ کی بندرگاہ پر قبضہ تھا ۔
سلطان علاؤ الدین کیقباد اول :
۔”” “” “” “” “” “” “” “” “”
سلطان علاؤ الدین کیقباد سلاجقہ روم کے آخری بااثر حکمران تھے۔ آپ ہی کے دور میں سلطنت عثمانیہ کے بانی غازی عثمان اول کے والد ارطغرل غازی نے بازنطین کے بہت سے معرکے سر کئے ۔ بے شمار قلعوں پر اپنے قبیلے اور سلطنت سلجوقیہ کا پرچم لہرایا۔ جس سے سلجوقی بڑی حد تک صلیبیوں اور بازنطینی لشکر سے بچا رہا۔
کیقباد نے ١٢٢١ء سے ١٢٢۵ء کے دوران بحیرۂ روم کے ساحلوں سے بازنطینیوں کا خاتمہ کر دیا۔
١٢٢۵ء میں اس نے بحیرۂ اسود کے پار کریمیا کی جانب بھی ایک مہم بھیجی اور فتح حاصل کی۔
غیاث الدین کیخسرو دوم کے دور میں ١٢٣٩ء میں ایک معروف مبلغ بابا اسحاق کی زیر قیادت بغاوت ہو گئی اور تین سال کے اندر اندر سلطنت بدانتظامی کا شکار ہو گئی، کریمیا ہاتھ سے نکل گیا اور ریاست اور افواج کمزور پڑ گئیں۔ لیکن اس سے بھی بڑا خطرہ سلطنت کے سر پر منڈلا رہا تھا، یہ منگولوں کا طوفان تھا جو مشرق وسطیٰ کو روندتے ہوئے اب اناطولیہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ پے در پے حملوں کے بعد ایک جنگ میں سلطان ١٢۴٦ء میں شہید ہو گئے۔
سلطنت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی، جن پر منگولوں کے زیر انتظام کٹھ پتلی حکمران بیٹھے تھے۔ اور بالآخر سلجوقیوں کی حکومت صرف قونیہ کے ارد گرد رہ گئی۔
١٣٠۷ء میں قرہ مانیوں نے غیاث الدین مسعود ثالث کو شکست دے کر ہمیشہ کے لئے سلاجقہ روم کا خاتمہ کر دیا۔
یہ ہے سلجوقیوں کا ایک مختصر سا اور دین اسلام کی خدمت میں ان کے کردار کا تذکرہ ٫ سلجوقی سلطنت ہی وہی سلطنت تھی جس نے مشرقی اسلام کو تین سو سال بعد ایک مرکز پر جمع کیا۔ یہی وہ مسلم سلطنت تھی جس نے عالم اسلام کی عظیم ترین سلطنت خلافت عثمانیہ اور موجودہ ترکی کے قیام کی راہ ہموار کی اور موجودہ ایشیائے کوچک اور ترکی کو مسلم حیثیت دی۔ بغداد کی خلافت عباسیہ کو بنی بویہ کے قبضے سے آزاد کروایا اور مشرقی عالم اسلام میں سائنس اور علم و دانش کو اس انداز میں ترقی دی جس کا نتیجہ اسلامی تاریخ کی عظیم ترین شخصیات جیسا کہ عمر خیام ٫ امام غزالی اور نظام الملک طوسی جیسی شخصیات کے ظہور پزیر ہونے کی صورت میں ہوا ۔
بلاشبہ یہ جھوٹ اور بہتان ہو گا، اگر ہم ان چند لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر کان دھریں جو ان جوانمرد اور شجاع مجاہدینِ اسلام کے بارے بے سروپا باتیں کرتے ہیں ۔ جیسے چند لوگوں نے ان کی طرف کئی من گھڑت باتیں منسوب کر کے ان کی سیرت کو داغدار کرنے کی مذموم کوشش کی ہے ۔۔۔👇👇👇
قوم سے جھوٹ :
۔”” “” “” “” “” “”
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “مفتاح دار السعادۃ” میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔
ایک دن علامہ ابن قیم ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک چیونٹی کو دیکھا جو ایک ٹڈی کے پَر کے پاس آئی اور اس کو اٹھا کر لے جانے کی کوشش کی مگر نہیں لے جا سکی۔ کئی بار کوشش کرنے کے بعد اپنے کیمپ (بل) کی طرف دوڑی، تھوڑی ہی دیر میں وہاں سے چیوٹیوں کی ایک فوج لے کر نمودار ہوئی اور ان کو لے کر اس جگہ آ گئی جہاں پَر ملا تھا۔ گویا وہ ان کو لے کر پر لے جانا چاہتی تھی۔ چیونٹیوں کے اس جگہ پہنچنے سے پہلے ابن قیم نے وہ پر اٹھا لیا تو ان سب نے وہاں اس پر کو تلاش کیا مگر نہ ملنے پر سب واپس چلے گئے۔
مگر ایک چیونٹی وہیں رہی اور ڈھونڈنے لگی جو شاید وہی چیونٹی تھی۔ اس دوران ابن قیم نے وہ پر دوبارہ اسی جگہ رکھ لیا جبکہ اس چیونٹی کو دوبارہ وہی پر مل گیا تو وہ ایک بار پھر دوڑ کر اپنے کیمپ میں چلی گئی اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیر کے بعد پہلے کے مقابلے میں کچھ کم چیونٹوں کو لے کر آئی، گویا زیادہ تر نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا۔ اس بار بھی جب وہ ان کو لئے اس جگہ کے قریب پہنچی تو علامہ نے وہ پر پھر اٹھا لیا اور سب نے اس کو دوبارہ کافی دیر تک تلاش کیا مگر نہ ملنے پر سب واپس چلے گئے اور حسب سابق ایک ہی چیونٹی وہاں اس پر کو ڈھونڈتی رہی، اس دوران علامہ نے ایک بار پھر وہی پر اسی جگہ رکھ لیا، تو اسی چیونٹی نے اس کو ڈھونڈ لیا اور اپنے کیمپ کی طرف ایک بار پھردوڑ کر گئی۔ مگر اس بار کافی دیر کے بعد صرف سات چیونٹیوں کو لے کر آئی۔ تب ابن قیم نے اس پر کو پھر اٹھا لیا اور چیونٹیوں نےکافی دیر تک پر کو تلاش کیا اور نہ ملنے پر غصے سے اسی چیونٹی پر حملہ آور ہوئے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔ گویا وہ جھوٹ بولنے پر اس سے ناراض ہو گئے تھے۔ تب ابن قیم نے وہ پر ان چیونٹیوں کے درمیان رکھ دیا۔ جونہی ان کو پر ملا سارے پھر اس مردہ چیونٹی کے پاس جمع ہو گئے۔ گویا وہ سب افسرہ اور شرمندہ تھے کہ انہوں اس بے گناہ کو قتل کیا۔
ابنِ قیم کہتا ہے کہ یہ سب دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا اور میں نے جا کر یہ واقعہ ابو العباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو بتایا۔ انہوں نے کہا اللہ تجھے معاف کرے ایسا کیوں کیا؟ دوبارہ کبھی ایسا مت کریں۔
سبحان اللہ جھوٹ سے نفرت فطرت کا حصہ ہے۔ کیڑے مکوڑے بھی جھوٹ سے نفرت کرتے ہیں اور قوم سے جھوٹ بولنے پر سزائے موت دیتے ہیں۔
(مصدر : مفتاح دار السعادہ/ علامہ ابن قیم)
آج ہم نے جھوٹ کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ جھوٹ کے بغیر ہم بات ہی نہیں کر سکتے۔ کیا ہم ان حشرات سے بھی گئے گذرے ہیں؟
۔۔۔👇👇👇
محبت
*”“* 💞💞💞
سکول کالج یونیورسٹی اسکی ساری تعلیم مکمل ہو چکی تھی بس آخری سمیسٹر کا رزلٹ آنا باقی تھا آجکل اسے کوٸی کام نہیں تھا سواۓ بواۓ فرینڈ کے ساتھ فون پر لمبی چوڑی خوش گپیاں کرنے کے یونیورسٹی میں وہ کسی کو دل دے بیٹھی تھی محبت کر بیٹھی تھی روگ لگا بیٹھی تھی
پچھلے کچھ دنوں سے اسکا بواۓ فرینڈ اسے گھر سے بھاگ کر شادی کرنے پر قاٸل کر رھا تھا محبت کے واسطے لمبی چوڑی دلیلیں گھڑ رہا تھا اپیلیں کر رہا تھا وہ بالکل پاگل ہو چکی تھی ویسے بھی تو ماں باپ نے بھی میری شادی کرنی ہی ھے تب بھی تو مجھے گھر چھوڑنا ہی ھے ویسے بھی اب میں میچور ہوں اعلی تعلیم یافتہ ہوں عاقلہ بالغہ ہوں اپنے فیصلے خود کر سکتی ہوں ویسے بھی وہ لڑکا میری محبت ھے والدین کو بتا بھی دوں تو بھی وہ میری شادی اس سے کبھی نہیں ہونے دینگے کیونکہ وہ تو میرے لیے میرے کزن کو پسند کرتے ہیں
اس نے گھر سے بھاگنے کا بڑا فیصلہ کر لیا تھا فیصلے سے اپنے بواۓ فرینڈ کو آگاہ کیا وہ خوشی سے چلایا یہ ہوٸی نہ محبت
گھر سے بھاگنے کے لیے پچھلی رات کا وقت طے پا گیا وہ چوری چھپے اپنے چند ضروری کپڑے اور چھوٹی موٹی چیزیں بیگ میں پیک کر کے مقررہ وقت کا بے چینی سے انتظار کرنے لگی اس دوران بواۓ فرینڈ کی کال آ گٸ کہنے لگا ماں نے کوٸی زیور شیور بھی بنایا ہو گا وہ بھی ہاتھ میں کر لو مشکل وقت میں کام آۓ گا
اچھا کچھ کرتی ہوں اسے پتہ تھا کے ماں نے اسکے لیے سونے کے زیورات بنا رکھے ہیں وہ ماں کے کمرے سے زیورات نکالنے کی ترکیب سوچنے لگی وقت بہت کم تھا وہ جیسے ہی ماں کے کمرے کیطرف بڑھی ماں کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آگٸی ایک لمحے کے لیے وہ ماں کو سامنے دیکھ کر سکتے میں چلی گٸی
میری شہزادی اتنی رات گۓ تم جاگتی پھرتی ہو اور یہ تیار ہو کر کہاں جا رہی ہو وہ ہی تو بتانے آ رہی تھی رات لیٹ فون آیا تھا یونیورسٹی والوں نے ایمرجنسی کچھ کام سے بلایا ھے میری کچھ دوست بھی جا رہی ہیں آپ سو رہی تھیں ڈسٹرب نہ ہوں اس لیے آپکو اس وقت نہیں بتایا اس نے خود کو سنبھالتے ہوے جھوٹ گھڑ دیا تھا
اچھا تم میرے کمرے میں ہی بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ بنا کر لاتی ہوں
ماں کچن میں چلی گٸی وہ ماں کے کمرے میں داخل ہوٸی بہت اچھا موقع مل گیا ھے اس نے یہ سوچتے ہوے جلدی سے پیٹی کا دروازہ کھولا تو سب سے پہلے اسکی نظر اپنے لیے بنے لال رنگ کے بہت پیارے لہنگے پر پڑی جو اسکی ماں نے خاص طور پر شادی والے دن کے لیے اسکی پسند سے بنوایا تھا ماں اکثر کہتی رہتی تھی جب میری بیٹی اسے پہن کر دلہن بنے گی شہزادی لگے گی شہزادی ایک سے بڑھ کر ایک اچھا سوٹ بہترین بستر ڈنر سیٹ ٹی سیٹ اور نہ جانے کیا کیا سامنے آ رہا تھا بہت سی قیمتی اور خوبصورت چیزیں تو ایسی تھیں جو ماں نے چوری چوری بنا رکھیں تھیں جنکا علم اُسے آج ہو رہا تھا
چیزیں الٹ پلٹ کرتے کرتے آخر زیورات اس نے ڈھونڈ ہی نکالے لیکن اسکا دل و دماغ چکرا کر رہ گیا تھا زیورات اس سے اٹھاۓ نہیں جا رھے تھے
اس نے کمرے میں نظریں دوڑاٸی تو دیکھا فریج مشینیں برتن سب کچھ اسکے لیے رکھا پڑا تھا ایک ماں کے کمرے میں ایک دلہن کے کمرے میں ایک دلہن کا مکمل سامان پڑا تھا
ضمیر نے اسے جھنجوڑا وہ سوچوں میں گم گٸی ماں کی کوکھ سے جنم لینے سے لیکر اب تک ماں باپ نے میرے لیے کیا نہیں کیا کھانا پینا پہناوا پڑھاٸی لکھاٸی چھوٹی بڑی سب خواہشات اپنا خون پسینہ ایک کر کے سب ادھورا پورا کیا میرے اگلے گھر کا سامان تک بنا دیا
اور میں بے فیض بے وفا کیا کرنے جا رہی ہوں مار کر اپنے ماں باپ کو خود مرنے جا رہی ہوں
محبت کا سمندر گھر میں ھے اور میں محبت کا دریا سر کرنے جا رہی ہوں
اسکی آنکھیں بھیگ گٸی تھیں اسے اپنی اعلی تعلیم اپنی حماقتوں پر خوب رونا آ رہا تھا اس دوران ماں آ گٸی
یہ لو میری شہزادی اپنا پسندیدہ پراٹھا کھاٶ اتنا سفر ھے یونیورسٹی کا میری شہزادی کو بھوک لگ جاتی ویسے بھی آخری دفعہ یونیورسٹی جا رہی ہو سکول سے لیکر کالج یونيورسٹی تک تیری ماں نے آجتک تجھے بغیر ناشتے کے نہیں بھیجا آج اگر تو بغیر ناشتے کے چلی جاتی تو تیری ماں کو مرتے دم تک اس بات کا دکھ رہتا
ماں کی بات سن کر بے اختیار وہ ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ماں نے ماتھا چوم کر آنسو صاف کرتے ہوے پوچھا میری شہزادی کیوں رو رہی ھے
وہ نظریں چراتے ہوے کہنے لگی ماں مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو ناں؟ یہ بھی کوٸی بات ہوٸی اب ماں سے بڑھکر بھی بھلا کوٸی محبت کر سکتا ھے؟
اس دوران اسکے موبائل کی گھنٹی بار بار بجنے لگی اس نے کال کاٹتے ہوے میسج لکھا
سوری میں نہیں آ سکتی اور کبھی نہیں آ سکتی کیونکہ مجھے میری محبت میرے گھر سے ہی مل گٸی ھے
یہ جو ماں کی محبت ہوتی ھے نہ
یہ محبتوں کی ماں ہوتی—— ھے
تمہارا دلہن والا لہنگا تمہاری دلہے والی شیروانی تمہارے گھر میں ہی پڑی ھے اسے منہ کالا کر کے کورٹ کچہریوں میں پہننے کیبجاۓ اپنے ماں باپ کے گھر سے ہی پہنا کرو کیونکہ تم پر انکا حق ھے جو بالکل برحق ھے.
انسان انسانیت سے ہے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔
ورنہ اطاعت کےلئے کم نہ تھے کروبیاں۔
ایک گھر کے موبائل نمبر پر رانگ نمبر سے کال
ایک گھر کے موبائل نمبر پر رانگ نمبر سے کال آئی۔۔ گھر میں ایک عورت نے موبائل کو رسیو کیا تو آگے سے غیر انجانی آواز سن کر عورت نے کہا سوری رانگ نمبر ھے- اور فون بند کردیا- لڑکے نے جب ہیلو کی آواز سن لی تو وہ سمجھ گیا کہ یہ کسی لڑکی کا نمبر ھے-
اب اس رانگ نمبر کو ملانے والا لڑکا مسلسل اسی نمبر پر کال کرتا رہتا، لیکن وہ عورت فون نہ اٹھاتی- پھر وہ میسج کرتا کہ جانو بات کرو ناں۔ موبائل کیوں نہیں رسیو کرتی؟
یاد رھے عورت کی ساس بڑی مکار اور لڑائی جھگڑے والی خاتون تھی اس کی وجہ ایک یہ بھی تھی کہ اس کی بیٹی اس عورت کے بھائی کے نکاح میں تھی اور وہ اپنے خاوند کے گھر میں خوش نہیں تھی.. نتیجتا اس کا سارا زور اپنی بہو پر نکلتا تھا وہ اس بچاری بہو کو بہانے بنا کر ہر وقت جھگڑے کیا کرتی تھی۔۔
اس واقے کے ایک دن بعد موبائل پر رنگ ٹون بجی تو ساس نے موبائل رسیو کیا آگے سے لڑکے کی آواز سن کر ساس خاموش ہو گئی ‘ لڑکا بار بار کہتا رہا کہ جانی مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی میری بات تو سنو پلیز، تمہاری آواز نے مجھے پاگل کر دیا ھے. بلاہ بلاہ بلاہ
ساس نے خاموشی سے سن کر موبائل بند کر دیا۔۔
اب جب رات کو عورت کا شوہر گھر آیا تو ساس نے علیحدہ بلا کر اپنے بہو پر بد چلنی اور نامعلوم لڑکے سے یارانے کا الزام لگایا۔۔
شوہر نے اسی وقت جاہلیت کا کردار ادا کرکے بیوی کی ایک بھی نہیں سنی اور بیوی کو رسی سے باندھ کر بے انتہا تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ جب وہ تشدد سے فارغ ہوا تو ساس نے موبائل ہاتھ میں تھما دی اور کہا کہ یہ نمبر ھے تمہاری بیوی کے یار کا۔۔
شوہر نے موبائل کالز چیک کیں اور اس کے بعد میسج چیک کئیے تو لڑکے کے تمام میسجز موجود تھے جس میں کہا گیا تھا کہ جانی کیسی ہو جانی بات کرو ناں جانی تمہاری آواز نے مجھے پاگل کر دیا ھے
.
جاہل شوہر تمام میسج پڑھ کر اور بھی سیخ پا ہوا اور ادھر ساس نے بہو کے بھائی کو فون کرکے بتایا کہ تمہاری بہن کو ہم نے اپنے یار کے ساتھ موبائل پر بات کرتے ہوئے اور میسج کرتے ہو پکڑ لیا ہیں۔۔
جس نے ہماری عزت خاک میں ملا دی ھے
.
اسی وقت اس لڑکی کی بھائی اور ماں فورأ اپنی بیٹی کی گھر آئے ادھر لڑکی کی ساس اور شوہر نے اس کے بھائی اور ماں کو طعنے دے کر کہ تمہاری بہن بد چلن ھے زانی ھے اور یہ اپنے یار کے ساتھ موبائل پر گپ شپ لگاتی اور ہماری عزت خاک میں ملاتی ھے.
اس لڑکی کی بھائی نے بھی زمانہ جاہلیت کو مات دی اور اپنے بہن کو بالوں سے پکڑ کر خوب زدو کوب کیا۔۔
لڑکی قسمیں کھا کر اپنے صفائی پیش کرتی رہی لیکن جاہل اور شیطان ساس اور شوہر کے آگے بے بس رہی۔۔
لڑکی کی ماں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ نہا دو کر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنی صفائی پیش کرو لڑکی نے نہا دھو کر قران پاک پر بھی سب کے سامنے ہاتھ رکھ لیا لیکن شیطان ساس نے اس کو بھی ٹھکرا دیا اور کہا کہ جو لڑکی اپنے شوہر سے غداری کر سکتی ھے تو اس کے لئے قرآن پاک پر ہاتھ رکھنا بھی کوئی مشکل کام نہی ھے.
اور اس کے ساتھ لڑکی کے جاہل شوہر نے وہ سارے میسجز لڑکی کے بھائی کو دکھا دئیے جو لڑکے نے لڑکی کو ایمپریس کرنے کے لئے کئیے تھے۔۔
لڑکی کی ساس نے جلتی پر تیل چھڑکا کر کہا کہ تمہاری بہن چالاک اور مکار ھے.
جس پر لڑکی کے بھائی کو غیرت آئ اور اس نے طیش میں آکر اپنی بہن کی ایک بھی نہ سنی اور پستول نکال کر اپنے بہن کے سر میں چار گولیاں پیوست کر دیں.
اور یوں ایک رانگ نمبر کی وجہ سے ایک خاندان اجڑ گیا 6 بچے یتیم ہو گئے۔۔
جب لڑکی کے دوسرے بھائی کو خبر ہوئی تو اس نے اپنے بھائی اور بھابی اور بہن کی شوہر اور ساس پر اور نامعلوم نمبر پر ایف آئ آر کٹوا دی.
جب پولیس نے اس موبائل کے ڈیٹا کو چیک کیا- تو معلوم ہوا کہ لڑکی نے صرف ایک دفعہ رانگ نمبر کو رسیو کیا تھا۔۔ اور پھر وہ رانگ نمبر مسلسل میسجز اور کالز کے ذریعئے سے اس لڑکی کو پھنسانے کے چکر میں لگا رہا۔۔
موبائل فون کی ڈیٹا رپورٹ منظر عام پر آنے سے لڑکی کے جس بھائی نے بہن کو گولی ماری تھی اس نے اسی وقت جیل میں خودکشی کی اور رانگ نمبر ملانے والے لڑکے کو پولیس نے گرفتار کرکے جیل میں ڈالا۔۔
یوں ایک رانگ نمبر نے 3 دنوں کے اندر ایک پاک دامن عورت کو اس کے 6 بچوں سے پوری زندگی کے لئے جدا کردیا. اور 10 دنوں کے بعد لڑکی کے بھائی نے خودکشی کر کے ایک اور عورت کو بیوہ اور اس کے 4 بچوں کو یتیم کردیا۔۔
یوں 13 دنوں کے اندر 9 بچے یتیم اور 2 خاندان تباہ و برباد ہو گئے.
ذرا سوچیئے اور بتائیں قصوروار کون۔۔؟
قصور وار کون؟
۱ بے غیرت رانگ کال والا
۲ مکار ساس
۳ شکی و جاہل خاوند
۴ ہمارا معاشرہ
————————————————
صاحب! اگر آپ اخلاص کے ساتھ اس سوال کا جواب سننا چاہتے ہیں تو سن لیں کہ اسکے ذمہدار آپ ہیں۔ اگر آپکو یہ اچھا نہیں لگے تو اسکا ذمہدار میں ہوں۔
یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ برے کاموں سے بچے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں، اگر معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو دور کرنے کی کوشش میں اپنا جان و مال اور وقت نہیں لگا رہے ہوں تو وہ بھی مجرم ہیں۔ برے کام کرنے والے برے کاموں کی وجہ سے مجرم اور برے کام نہ کرنے انکو برا کام کرنے سے نہ صرف روکتے نہیں بلکہ تماشائی بن کر مزے لینے والے اپنے جرم کی وجہ سے مجرم۔
کل اگر قیامت کے دن اللہ نے ہم سے پوچھا کہ میرا کلمہ پڑھنے والے بڑے بڑے کبیرہ گناہوں میں مبتلا تھے تم نے انکو ان برائیوں سے بچانے کے لیئے کیا محنت کی؟
تو اسکا جواب ہمارے پاس کیا ہے؟
ہم عام طور سے معاشرے میں پھیلی برائیوں کا ذمہدار غیر تعلیم یافتہ طبقے کو ٹہراتے ہیں جیسے آپنے جاہل خاندانوں میں پھیلی ہوئی برائیوں کا تو ذکر بڑے آرام سے کردیا لیکن ذرا یہ تو بتائیں کہ ہمارے تعلیم یافتہ خاندانوں میں پھیلی برائیوں کا کیا حال ہے انکا تو کچھ ذکر کریں کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔ اور اسکے ساتھ جو سب سے ضروری بات ہے وہ یہ کہ ان برائیوں سے بچنے اور بچانے کیلئیے آپکے پاس کوئی لائحہ عمل بھی ہے یا صرف برائیاں ہی برائیاں