🌹🌹
*ہماری زبان کے ساتھ خوشی اور نا خوشی کا بہت تعلق ہے۔*
غصے میں خاموش ہو جایا کریں۔ ایسے جملے اور باتیں نہ کہیں جو دوسروں کو دل دکھانے والی ہوں۔
*👈🏻آخر آپ بیٹی کی ماں ہیں۔* بیٹی کو غصہ کنٹرول کرنا آپ کو ہی سکھانا ہے۔
*👈🏻جی، اور بیٹے کی ماں بھی ہیں۔* بیٹوں کو زبان کھلی چھوڑنے کی، چیخنے کی اجازت نہ دیں۔ وہ کسی کے شوہر بھی بنیں گے، ان کی تربیت بھی آپ ہی کو کرنی ہے۔
ایک اور کام آنے والی ٹِپ یہ ہے کہ *اس دنیا میں مسافر کی طرح رہیں، دنیا کو ٹارگٹ نہ بنائیں۔*
بس اپنا عقیدہ یہ بنا لیں کہ میں اس دنیا میں اس لئے ہوں کہ اصل زندگی کیلئے سامان پیک کرلوں جہاں ہمیشہ رہنا ہے، *آخرت کی فکر ہوگی تو دنیا کی فکریں خود ہی ہیچ لگیں گی۔*
کسی کی نعمتوں کے ساتھ یا کسی کے ساتھ اپنا *موازنہ، مقابلہ comparison کرنا بدنصیبی* ہے.
لوگوں سے ہمیں شکایت رہتی تو ہے لیکن ہم بعض دفعہ اپنے لئے انکو دل برا کرنے کا موقع خود دے دیتے ہیں۔
*اس لئے یاد رکھیں کہ لوگوں کی محبت اسکو ملتی ہے جو سخاوت کرتا ہو، اور تکلیف میں نہ ڈالتا ہو، اور اسکا چہرہ کِھلا رہتا ہو،* دوسروں کو تکلیف میں ڈالنا خود کیلیے مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔
*چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھا جائے* کسی کو جگہ دے دینا، مسکرا دینا،سلام کر دینا وغیرہ۔ *یہ ایکدوسرے کیلئے دل بڑا کر دیتا ہے۔*
اگر ناخوشی کے پیچھے فکر معاش ہے تو دو باتیں اپنا یقین بنا لیجئے۔
*👈🏻روزی ہمیں تلاش کرتی ہے، مل کر ہی رہے گی۔*
*👈🏻دینے سے مال گھٹتا نہیں۔ بلکہ برکت ہوتی ہے۔*
اسی یقین کے مطابق مالی معاملات چلائیں۔
بہت زیادہ لوگوں میں نہ گھلیں ملیں۔ کہ آپ بہت ایکسپوز اور فری ہو جائیں۔ لوگوں سے ذرا سا کنارہ ایک اچھے انداز سے اچھا رہتا ہے
یہ رویہ غیبت سے بچائے گا، حسد سے، لوگوں کی اذیتوں جیسا کہ بد اخلاقی، تکبر وغیرہ سے آپ کو محفوظ رکھے گا
دین سے چمٹے رہنے میں خوشی ہے کیونکہ ایسے مخلص، بے لوث دوست اور ساتھی مل جاتے ہیں۔ علم ملتا ہے تو زندگی پوزیٹیو رہتی ہے۔ توبہ کی اور زندگی کو بہتر بناتے رہنے کی موٹیویشن ملتی ہے۔
سارا جگ آئینہ ہے
💧
•
ایک بادشاہ نے ایک عظیم الشان محل تعمیر کروایا جس میں ہزاروں آئینے لگائے گئے تھے ایک مرتبہ ایک کتا کسی نہ کسی طرح اس محل میں جا گھسا رات کے وقت محل کا رکھوالا محل کا دروازہ بند کر کےچلا گیا لیکن وہ کتا محل میں ہی رہ گیا.
کتے نےجب چاروں جانب نگاہ دوڑائی تو اسےچاروں طرف ہزاروں کی تعداد میں کتے نظر آئے اسے ہر آئینے میں ایک کتا دکھائی دے رہا تھا اس کتےنےکبھی بھی اپنے آپ کو اتنےدشمنوں کے درمیان پھنسا ہوا نہیں پایا تھا اگر ایک آدھ کتا ہوتا تو شائد وہ اس سےلڑ کر جیت جاتا لیکن اب کی بار اسےاپنی موت یقینی نظر آ رہی تھی ۔۔ کتا جس طرف آنکھ اٹھاتا اسے کتے ھی کتے نظر آتے تھے اوپر اور نیچےچاروں طرف کتے ہی کتےتھے۔۔ کتے نے بھونک کر ان کتوں کو ڈرانا چاہا
*دھیان رہے آپ جب بھی کسی کو ڈرانا چاہتے ہیں آپ خود ڈرے ہوئے ہیں ورنہ کسی کو ڈرانےکی ضرورت ہی کیا ہے؟*
جب کتے نے بھونک کر ان کتوں کو ڈرانےکی کوشش کی تو وہ لاکھوں کتے بھی بھونکنے لگے اس کی نس نس کانپ اٹھی اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ وہ چاروں طرف سےگھر چکا تھا آپ اس کتے کا درد نہیں سمجھ سکتےجب صبح چوکیدار نے دروازہ کھولا تو محل میں کتےکی لاش پڑی تھی اس محل میں کوئی بھی موجود نہ تھا جو اسے مارتا محل خالی تھا لیکن کتے کے پورے جسم میں زخموں کے نشان تھے وہ خون میں لت پت تھا اس کتے کے ساتھ کیا ہوا ؟؟؟؟ خوف کےعالم میں وہ کتا بھونکا جھپٹا دیواروں سے ٹکرایا اور مر گیا ۔۔
آپ نے کبھی غور کیا کہ آپ کےسبھی تعلقات سبھی حوالے آئینوں کی مانند ہیں ان سب میں آپ اپنی ہی تصویر دیکھتے ہیں غور کریں اور دیکھیں ؟
کہ نفرت سے بھرا آدمی یہ دیکھ رہا ہے کہ سب لوگ اس سےنفرت کرتے ہیں لالچی آدمی کو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب اس کو لوٹنےکےمنصوبےبنا رہے ہیں وہ اپنے لالچ کی تصویر دنیا کے آئینہ خانے میں دیکھتا ہے شہوانیت کا مریض سوچتا ہے کہ ساری دنیا اسے جسم پرستی کی دعوت دے رہی ہے فقیر کہتا ہے کہ ساری دنیا ایک ہی اشارہ کر رہی ہے کہ چھوڑ دو سب کچھ بھاگ جاؤ دنیا سے۔۔
آپ جو کچھ بھی ہیں وہی کچھ آپ کو اپنے چاروں طرف دکھائی پڑتا ہے اور سارا جگ آئینہ ہے جس میں آپ کو اپنا آپ ہی دکھائی پڑ رہا ہوتا ہے
خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں
🌹♥️
ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا جس سے وہ
ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا جس سے وہ بے حد پیار کر تی تھی ،سانپ تقریباً سات فٹ لمبا تھا جس نے اچانک ایک دن کھانا پینا بند کردیا..
خاتون نے کئی ہفتوں سانپ کو کھانا کھلانے کی کوشش جاری رکھی لیکن وہ ناکام رہی جس پر خاتون اپنے پالتو سانپ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئی..
خاتون نے ڈاکٹر کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا جس پر ڈاکٹر نے سوال کیا کہ کیا ہر رات سانپ آپ کے ساتھ سوتا تھا؟
خاتون نے جواب دیا جی ہاں..
ڈاکٹر نے پھر سوال کیا ‘ جب سے اس نے کھانا پینا چھوڑ ہے کیا یہ آپ کے جسم کے بے حد قریب لیٹ کر اپنے جسم کو اکٹراتا تھا؟
جس پر خاتون نے برجستہ جواب دیا‘ جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے اور مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں اپنے سانپ کو بہتر محسوس کرانے کیلئے اس کی کوئی مدد نہیں کر پار ہی ہوں..
ڈاکٹر نے خاتون کا جواب سننے کے بعد کہا ‘محترمہ آپ کا سانپ بیمار نہیں ہے بلکہ یہ آپ کو کھانے کی تیاری کر رہاہے‘سانپ آپ کی جسامت کا روزانہ اندازہ لگاتا رہا ہے اور اس نے کھانا پینا اس لیے بند کر دیا ہے کہ آپ کو کھانے کیلئے وہ جگہ بنا سکے..
خاتون ماہر کی یہ بات سن کر سکتے میں آ گئی..
اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے ارد گرد موجودسانپوں کو پہچاننا ہے جوکہ آپ کے نہایت قریب ہیں اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آپ کے بارے میں اچھے خیالات رکھتے ہیں..
ضروری نہیں کہ آپ کے آس پاس پھرنے والے لوگ آپ کے ساتھ کھانے پینے اوراٹھنے بیٹھنے والے تمام لوگ آپ کے ہمدرد ہیں ‘ بس آپ نے ان کو پہچاننا ہے..
حضرت شیخ سعدیؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’ گلستان ‘‘ میں ایک قصّہ لکھا ہے کہ
میں ایک مرتبہ سفر کر رہا تھا۔
سفر کے دوران ایک تاجر کے گھر رات گزارنے کیلئے قیام کیا، اس تاجر نے ساری رات میرا دماغ چاٹا، وہ اس طرح کہ اپنی تجارت کے قصّے مجھے سُناتا رہا کہ فلاں ملک میں میری یہ تجارت ہے، فلاں جگہ میری اس چیز کی دُکان ہے، فلاں ملک سے یہ چیز درآمد کرتا ہوں، یہ چیز برآمد کرتا ہوں۔
ساری رات قصّے سُنا کر آخر میں کہنے لگا کہ میری اور سب آرزوئیں تو پوری ہوگئی ہیں اور میری تجارت بھی پروان چڑھ گئی ہے، البتہ اب صرف ایک آخری سفر کرنے کا ارادہ ہے، آپ دُعا کریں کہ میرا وہ سفر کامیاب ہوجائے تو پھر اس کے بعد قناعت کی زندگی اختیار کر لوں گا اور بقیہ زندگی اپنی دُکان پر بیٹھ کر گزاروں گا۔
شیخ سعدیؒ نے پوچھا کہ وہ کیسا سفر ہے ؟
اس تاجر نے جواب دیا کہ میں یہاں سے فارسی گندھک لے کر چین جاؤں گا، اس لیے کہ میں نے سُنا ہے کہ وہ چین میں بہت زیادہ قیمت پر فروخت ہوجاتی ہے، پھر چین سے چینی. برتن لے کر روم میں فروخت کروں گا، وہاں سے رومی کپڑا لے کر ہندوستان میں فروخت کروں گا اور پھر ہندوستان سے فولاد خرید کر حلب (شام) میں لے جا کر فروخت کروں گا ، حلب سے شیشہ خرید کر یمن میں فروخت کروں گا، پھروہاں سے یمنی چادر لے کر فارس آجاؤں گا …….. غرض یہ کہ اس نے ساری دنیا کے ایک سفر کا منصوبہ بنا لیا اور شیخ سعدیؒ سے کہا کہ بس ! اس ایک آخری سفر کا ارادہ ہے ، اس کے لیے آپ دُعا کریں، اس کے بعد میں قناعت سے اپنی دُکان پر بقیہ زندگی گزاروں گا، اس وقت بھی یہی خیال ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی باقی زندگی دُکان پر ہی گزارلے گا۔
شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اس سفر کی روداد سُنی تو میں نے اس سے کہا ……!
آن شنیدستی کہ در صحرائے غور
بارسالارے بیفتا دازستور
گفت چشم تنگ دنیا دار را
یاقناعت پرکند یا خاک گور
فرمایا کہ تم نے یہ قصّہ سُنا ہے کہ ’’ غور ‘‘ کے صحرا میں ایک بہت بڑے سوداگر کا سامان اس کے اونٹ سے گرا ہوا پڑا تھا، ایک طرف اس کا اونٹ بھی مرا پڑا تھا اور دوسری طرف وہ خود بھی مرا پڑا تھا، اس کا وہ سامان زبان حال سے یہ کہہ رہا تھا کہ دنیا دار کی تنگ نگاہ یا تو قناعت پر کرسکتی ہے یا قبر کی مٹی ہر کر سکتی ہے ، اس کے پُر کرنے کا کوئی تیسرا ذریعہ نہیں ہے۔
یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد شیخ سعدیؒ بیان فرماتے ہیں کہ جب دنیا انسان کے اوپر مسلط ہوجاتی ہے تو پھر اس کو کسی اور چیز کا خیال بھی نہیں آتا ، یہ ہے دنیا کی محبت جس سے منع کیا گیا ہے۔
اگر یہ محبت نہ ہو اور پھر حق تعالیٰ اپنی رحمت سے مال دے دے اور اس کے ساتھ دل اٹکا ہوا نہ ہو اور وہ مال حق تعالیٰ کی پیروی میں رکاوٹ نہ بنے اور وہ مال شریعت کے احکام بجا لانے میں صرف ہو اور اس کے ذریعے انسان جنت کمائے تو وہ مال دنیا نہیں ہے، وہ مال بھی آخرت کا سامان ہے، لیکن اگر اس مال کے ذریعے آخرت کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی تو وہ دنیا ہے، جس سے روکا گیا ہے
دنیا میں صرف آگاہی کو فضیلت ہے۔اور واحد گناہ جہالت ہے ۔
“ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا شیوانا (قبل از اسلام کے ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی، معصوم سی بہن کو قربان کر دے۔ آپ مہربانی کر کے اُس کی جان بچا دیں۔”
شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے۔ بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا۔ شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے۔ مگر اِس کے باوجود معبدکدے کے بُت اور کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے۔
شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے۔ عورت نے جواب دیا: “کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں۔”
شیوانا نے مسکرا کر کہا: “مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے؟ اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے۔ تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو۔ یہ بُت احمق نہیں ھے، وہ تمہاری عزیزترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے۔ تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے۔”
عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی۔ مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا۔ کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا۔
اِس سے بڑا دُکھ اور کوئی نہیں کہ ھم جس پر اعتماد کرتے ھیں وہ ھمیں دھوکہ دے جائے۔”
۔
مولانا جلال الدّین محمّد بلخی رومی کی کتاب “مثنویؑ معنوی” سے ایک حکایت