کمی کہاں ہے

۔ اَلسَّـلاَمُ عَلَيكُـم وَرَحمَةُاللهِ وَبَرَكـَاتُهُ🌹

کمی کہاں ہے,,,!!

لوگ لمبی لمبی نمازیں پڑھنے کے بعد بھی کہتے ہیں ہمیں سکون نہیں ملتا ہماری مشکلیں کم ہی نہیں ہوتیں ہماری تو دعائیں بھی قبول نہیں ہوتی تو کیا ہماری عبادتوں میں کمی ہے؟
کیا رب ہم سے راضی نہیں ؟ دراصل کمی عبادتوں میں نہیں بلکہ ہمارے اخلاق میں ہوتی ہے جو ہم کسی کو اپنے آگے ہیچ سمجھتے ہیں نا بات کرتے ہیں نا کسی مانگنے والے کو کچھ دینا پسند کرتے ہیں اگر غلطی سے دے بھی دیں تو دس باتیں سنانا جیسے ہمارا فرض ہوتا ہے۔ اگر سگنل پر کوئی بچہ ہاتھ میں کوئی چیز پکڑے ہمارے قریب آجائے تو اس ڈر سے کہ اُسے چند روپے نہ دینے پڑ جائیں ہم گاڑی،موٹرسائیکل اُڑا لے جاتے ہیں.
یا پھر کچھ پڑھے لکھے عقل مند اُسے یہ کہہ کر حقارت کا نشانہ بناتے ہیں کہ ماں باپ پیدا کر کہ سڑکوں پر مانگنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور چند روپے کوئی چیز لیے بغیر اُن کے ہاتھ میں تھاما دیتے ہیں تو سچ مانیے وہ آپ کے الفاظ آپ کی بدلحاظی آپ کی ساری عبادتوں پر پانی پھیر دیتی ہے اور پھر شکوہ کس بات کا ؟ شوہر گھر آتا ہے تو بیوی کو جتلاتا ہے کہ وہ بہت تھکا ہوا ہے کام کر کہ آیا ہے بات بات پر چیختا ہے کھانا اچھا نہ بنا ہو تو اُس عورت کی تذلیل کرتا ہے.
جس نے سارا دن اُسکے بچے گھر اُس کے ماں باپ رشتے داروں کو سنبھالا ہوتا ہے اور بیوی جو شوہر کے آتے ہی اُس کو اُس کے ماں باپ کے خلاف بھڑکاتی ہے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی تمام داستان مزید بڑھا چڑھا کہ سُناتی ہے اور گلہ کرتی ہے کہ اُس کی اولاد پتا نہیں کیوں نافرمان ہوتی جا رہی ہے
تو غلطی پہ کون ؟
کمی کہاں پہ ہے؟
کمی ہماری برداشت ہمارے صبر میں ہوتی ہے جو ہم اتنے انمول رشتوں کو ترجیح نہیں دیتے ہم اُن کی ایک ذرہ سی بات بھی برداشت نہیں کرتے اور پھر کہتے ہیں کہ لگتا ہے اللہ پاک ناراض ہے تو کیا لگتا ہے آپ کو آپ اُس کے بندے کو تکلیف دے کہ اُس کا دل دُکھا کہ یہ امید رکھیں کہ اللہ پاک آپ سے خوش ہی رہے گا کیوں کہ آپ سارا دن ہاتھ میں تسبیح لیے گھومتے ہیں آپ راتوں کو اُٹھ کر سجدے کرتے ہیں تو ایسا کچھ نہیں ہو گا.
اللہ پاک عبادت کو پسند کرتا ہے مگر سالوں سال عبادت کرنے والے آگ میں ڈال دیے جاتے ہیں اور جن کو ٹھیک سے عبادت کرنے بھی نہیں آتی وہ جنت میں بھیج دیے جائیں گے کیونکہ اُنہوں نے رب کے بندوں کو اذیت نہیں دی ہو گی بے شک وہ راتوں کو اُٹھ کر سجدے نہیں کر سکیں ہوں گے مگر اُن کے اخلاق بلند ہوں گے
اُن کی زبان میں میٹھاس ہو گی
اُن کے دل صاف ہوں گے
وہ کسی غریب کو کچھ دے نہ سکے ہوں.
مگر اپنے نرم لہجے اور گفتگو سے دل تو جیت ہی لیے ہوں گے اور
رب کے قریب ہے وہ شخص جو اُس کے بندوں میں مقبول ہے اور بندوں میں مقبول اعلی اخلاق اور صبر استقامت سے کام لینے والے ہوتے ہیں۔
کیا فرق پڑتا ھے ؟
ھمارے پاس کتنا حُسن کتنی دولت ، کتنے لاکھ ، کتنے کروڑ ، کتنے گھر ، کتنی گاڑیاں ھیں ، کھانی تو بس دو روٹیاں ھیں نا ، گزارنی تو بس ایک زندگی ھے نا ،
فرق تو صرف یہ پڑتا ھے کہ ھم نے کتنـے پل خوشـی کے گزارے اور کتنے لوگ ھمـاری وجہ سے خُوش و خرّم اور مُطمئن ھـو سکـے ۔—-!!!a
بس یہی کہ دو اپنے رب سے کہ
صبر کا سلیقہ نہیں مجھ میں یا رب !!
میرا دل اپنی رضا میں راضی کردے
آمین یا رب العالٰمین

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started