۔”” “” “”
مجوسی یا پارسی زرتشت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں۔ جو دو خالق مانتے ہیں، ایک خالق خیر (یزدان) اور ایک خالق شر (اہرمن) یہ لوگ اپنے آپ کو زرتشت کا پیرو کہتے ہیں اور اس کو نبی بھی بتاتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ بعد میں گمراہ ہوئے یا شروع ہی سے غلط تھے۔ میرا خیال ہے زرتشت کے بعد کے پجاریوں نے شیطان کے نرغے میں آ کر گمراہی اختیار کی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں دنیا کی دو سپر پاور تھیں، ایک روم اور دوسری ایران۔ سلطنت شام یا روم پر عیسائیوں کی حکومت تھی اور سلطنت ایران پر مجوسی قبضہ جمان تھے اور دونوں اکثر برسرِ پیکار رہتے تھے۔ ایک دفعہ ان دونوں پاورز میں سخت جنگ ہوئی اور روم کے عیسائی مغلوب ہو گئے۔ لیکن کچھ ہی سالوں میں رومیوں نے دوبارہ اپنا تسلط قائم کر دیا۔ اس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ بہرحال مسلمانوں نے دونوں کے خلاف جنگیں لڑیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مجوسیوں کی ایرانی حکومت ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔ عربوں نے ایران فتح کیا تو ان میں سے کچھ مسلمان ہو گئے، کچھ نے جزیہ دینا قبول کیا اور باقی آٹھویں سے دسویں صدی عیسوی کے درمیان ترک وطن کر کے ہندوستان آ گئے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے مذہبی رہنما کے پاس اوستا کا وہ قدیم نسخہ موجود ہے جو ان کے پیغمبر زردشت یا زرتشت پر نازل ہوا تھا۔پارسی اپنے مردوں کو جلانے یا دفنانے کے بجائے ایک کھلی عمارت میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اسے گدھ وغیرہ کھا جائیں۔ اس خاص عمارت کو دخمہ ’’منار خاموشی‘‘ کہا جاتا ہے۔ دخمہ ایسے شہروں میں تعمیر کیا جاتا ہے جہاں پارسیوں کی “معتدبہ” (عبادت کرنے والے پجاری) زیادہ تعداد میں آباد ہوں ۔ جہاں دخمہ نہیں ہوتا وہاں ان کے قبرستان ہوتے ہیں جن میں مردوں کو بہ امر مجبوری دفن کیا جاتا ہے۔
جسمانی طہارت اور کھلی فضا میں رہائش پارسیوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ پاکیزگی کی مقدس علامت کے طور پر ، ان کے معابد اور مکانات میں ، ہر وقت آگ روشن رہتی ہے۔ خواہ وہ چراغ ہی ہو۔ ہندو ’’سناتن دھرم‘‘ اور یہودیوں کی طرح ، پارسی مذہب بھی غیر تبلیغی ہے۔ یہ لوگ نہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب میں داخل کرتے ہیں اور نہ ان کے ہاں شادی کرتے ہیں۔ ان کڑی پابندیوں کے باعث ابھی تک دوسرے طاقتور مذاہب ’’اسلام اور عیسائیت‘‘ کے ثقافتی اثرات سے محفوظ ہیں۔ حصولِ علم ان کا جزوِ ایمان ہے ۔ ہر پارسی معبد میں ایک اسکول ہوتا ہے۔ دنیا میں پارسیوں کی کل تعداد لاکھوں میں ہے اور اس میں بھی ان لوگوں میں شادی کے رجحان کے کم ہونے سے مزید کمی واقع ہو رہی ہے۔
سب سے زیادہ اکثریت ممبئی اور اس کے گرد و نواح میں آباد ہے۔ یہ لوگ عموماً تجارت پیشہ ہیں اور سماجی بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ بمبئی اور کراچی کے کئی سکول ہسپتال اور کتب خانے ان کے سرمائے سے چل رہے ہیں۔ ہندوستان کا پہلا فولاد کا کارخانہ جمشید ٹاٹا نے جمشید پور میں بنایا۔ ہندوستان میں جدید سٹیج ڈرامے اور فلم سازی کے بانی بھی یہی ہیں۔ جو کہ اسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔پارسی زرتشت عقیدے پر یقین رکھتے ہیں اور یہ دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔ آج دنیا میں ایک اندازے کے مطابق صرف ایک لاکھ چالیس ہزار پارسی باقی رہ گئے ہیں جن میں سے بیشتر بھارت میں آباد ہیں۔ کم تعداد میں ہونے کے باوجود پارسی بھارتی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ٹاٹا خاندان سمیت ملک کے اہم صنعت کار پارسی ہیں۔
پاکستان سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کی سینٹ سیویئر چرچ والی چڑھائی اترتے ہی ایک قدیمی عمارت نمودار ہوتی ہے، جس کو شہر کی بلڈر مافیا کے علاوہ ہر ایک شہری نے بھلا دیا ہے۔یہ قدیمی عمارت پارسیوں کی عبادت گاہ اور دھرم شالا ہوا کرتی تھی۔ مگر اب سکھر اور اندرون سندھ میں کوئی ایک پارسی بھی نہیں جو سکھر کے اس ویران و اداس مندر کی انگاری میں آگ جلا سکے۔ سکھر میں پارسیوں کا ٹیمپل کئی سالوں سے ویران پڑا ہے۔ عمارت کے ماتھے پر ٹیمپل کی تعمیر کا سال انیس سو تئیس اور ماما پارسی لکھا ہوا ہے۔
کراچی پاکستان میں بھی کافی تعداد میں موجود ہیں۔ ان کے اوپر بی بی سی نے ایک عدد آرٹیکل بھی کچھ عرصہ پہلے چھاپا تھا۔ ایک جگہ پڑھا تھا کہ لاہور میں بھی ایک پارسی قبرستان موجود ہے۔ مگر معلوم نہیں کہاں ہے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ کہ قائداعظم کی بیوی بھی ایک پارسی خاتون تھیں۔ جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا تھا ۔۔۔👇👇👇