.
1. ایک دوسرے کو سلام کریں – (مسلم: 54)
2. ان سے ملاقات کرنے جائیں – (مسلم: 2567)
3. ان کے پاس بیٹھنے اٹھنے کا معمول بنائیں ۔ – (لقمان: 15)
4. ان سے بات چیت کریں – (مسلم: 2560)
5. ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آئیں – (سنن ترمذی: 1924، صحیح)
6. ایک دوسرے کو ہدیہ و تحفہ دیا کریں – (صحیح الجامع: 3004)
7. اگر وہ دعوت دیں تو قبول کریں – (مسلم: 2162)
8. اگر وہ مہمان بن کر آئیں تو ان کی ضیافت کریں – (ترمذی: 2485، صحیح)
9. انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں – (مسلم: 2733)
10. بڑے ہوں تو ان کی عزت کریں – (سنن ابو داؤد: 4943، سنن ترمذی: 1920، صحیح)
11. چھوٹے ہوں تو ان پر شفقت کریں – (سنن ابو داؤد: 4943، سنن ترمذی: 1920، صحیح)
12. ان کی خوشی و غم میں شریک ہوں – (صحیح بخاری: 6951)
13. اگر ان کو کسی بات میں اعانت درکار ہو تو اس کا م میں ان کی مدد کریں – (صحیح بخاری: 6951)
14. ایک دوسرے کے خیر خواہ بنیں – (صحیح مسلم: 55)
15. اگر وہ نصیحت طلب کریں تو انہیں نصیحت کریں – (صحیح مسلم: 2162)
16. ایک دوسرے سے مشورہ کریں – (آل عمران: 159)
17. ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں – (الحجرات: 12)
18. ایک دوسرے پر طعن نہ کریں – (الھمزہ: 1)
19. پیٹھ پیچھے برائیاں نہ کریں – (الھمزہ: 1)
20. چغلی نہ کریں – (صحیح مسلم: 105)
21. آڑے نام نہ رکھیں – (الحجرات: 11)
22. عیب نہ نکالیں – (سنن ابو داؤد: 4875، صحیح)
23. ایک دوسرے کی تکلیفوں کو دور کریں – (سنن ابو داؤد: 4946، صحیح)
24. ایک دوسرے پر رحم کھائیں – (سنن ترمذی: 1924، صحیح)
25. دوسروں کو تکلیف دے کر مزے نہ اٹھائیں – (سورہ مطففین سے سبق)
26. ناجائز مسابقت نہ کریں۔ مسابقت کرکے کسی کو گرانا بری عادت ہے۔ اس سے ناشکری یا تحقیر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں – (صحیح مسلم: 2963)
27. نیکیوں میں سبقت اور تنافس جائز ہےجبکہ اس کی آڑ میں تکبر، ریاکاری اور تحقیر کارفرما نہ ہو- ( )
28. طمع ، لالچ اور حرص سے بچیں – (التکاثر: 1)
29. ایثار و قربانی کا جذبہ رکھیں – (الحشر: 9)
30. اپنے سے زیادہ آگے والے کا خیال رکھیں – (الحشر: 9)
31. مذاق میں بھی کسی کو تکلیف نہ دیں – (الحجرات: 11)
32. نفع بخش بننے کی کوشش کریں – (صحیح الجامع: 3289، حسن)
33. احترام سے بات کریں۔بات کرتے وقت سخت لہجے سے بچیں – (آل عمران: 159)
34. غائبانہ اچھا ذکر کریں – (ترمذی: 2737، صحیح)
35. غصہ کو کنٹرول میں رکھیں – (صحیح بخاری: 6116)
36. انتقام لینے کی عادت سے بچیں – (صحیح بخاری: 6853)
37. کسی کو حقیر نہ سمجھیں – (صحیح مسلم: 91)
38. الله کے بعد ایک دوسرے کا بھی شکر ادا کریں – (سنن ابو داؤد: 4811، صحیح)
39. اگر بیمار ہوں تو عیادت کو جائیں – (ترمذی: 969، صحیح)
40. اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو جنازے میں شرکت کریں –
(مسلم: 2162)🌻
*🌹دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیں. اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
🌹🍃🌹
کمی کہاں ہے
۔ اَلسَّـلاَمُ عَلَيكُـم وَرَحمَةُاللهِ وَبَرَكـَاتُهُ🌹
کمی کہاں ہے,,,!!
لوگ لمبی لمبی نمازیں پڑھنے کے بعد بھی کہتے ہیں ہمیں سکون نہیں ملتا ہماری مشکلیں کم ہی نہیں ہوتیں ہماری تو دعائیں بھی قبول نہیں ہوتی تو کیا ہماری عبادتوں میں کمی ہے؟
کیا رب ہم سے راضی نہیں ؟ دراصل کمی عبادتوں میں نہیں بلکہ ہمارے اخلاق میں ہوتی ہے جو ہم کسی کو اپنے آگے ہیچ سمجھتے ہیں نا بات کرتے ہیں نا کسی مانگنے والے کو کچھ دینا پسند کرتے ہیں اگر غلطی سے دے بھی دیں تو دس باتیں سنانا جیسے ہمارا فرض ہوتا ہے۔ اگر سگنل پر کوئی بچہ ہاتھ میں کوئی چیز پکڑے ہمارے قریب آجائے تو اس ڈر سے کہ اُسے چند روپے نہ دینے پڑ جائیں ہم گاڑی،موٹرسائیکل اُڑا لے جاتے ہیں.
یا پھر کچھ پڑھے لکھے عقل مند اُسے یہ کہہ کر حقارت کا نشانہ بناتے ہیں کہ ماں باپ پیدا کر کہ سڑکوں پر مانگنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور چند روپے کوئی چیز لیے بغیر اُن کے ہاتھ میں تھاما دیتے ہیں تو سچ مانیے وہ آپ کے الفاظ آپ کی بدلحاظی آپ کی ساری عبادتوں پر پانی پھیر دیتی ہے اور پھر شکوہ کس بات کا ؟ شوہر گھر آتا ہے تو بیوی کو جتلاتا ہے کہ وہ بہت تھکا ہوا ہے کام کر کہ آیا ہے بات بات پر چیختا ہے کھانا اچھا نہ بنا ہو تو اُس عورت کی تذلیل کرتا ہے.
جس نے سارا دن اُسکے بچے گھر اُس کے ماں باپ رشتے داروں کو سنبھالا ہوتا ہے اور بیوی جو شوہر کے آتے ہی اُس کو اُس کے ماں باپ کے خلاف بھڑکاتی ہے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی تمام داستان مزید بڑھا چڑھا کہ سُناتی ہے اور گلہ کرتی ہے کہ اُس کی اولاد پتا نہیں کیوں نافرمان ہوتی جا رہی ہے
تو غلطی پہ کون ؟
کمی کہاں پہ ہے؟
کمی ہماری برداشت ہمارے صبر میں ہوتی ہے جو ہم اتنے انمول رشتوں کو ترجیح نہیں دیتے ہم اُن کی ایک ذرہ سی بات بھی برداشت نہیں کرتے اور پھر کہتے ہیں کہ لگتا ہے اللہ پاک ناراض ہے تو کیا لگتا ہے آپ کو آپ اُس کے بندے کو تکلیف دے کہ اُس کا دل دُکھا کہ یہ امید رکھیں کہ اللہ پاک آپ سے خوش ہی رہے گا کیوں کہ آپ سارا دن ہاتھ میں تسبیح لیے گھومتے ہیں آپ راتوں کو اُٹھ کر سجدے کرتے ہیں تو ایسا کچھ نہیں ہو گا.
اللہ پاک عبادت کو پسند کرتا ہے مگر سالوں سال عبادت کرنے والے آگ میں ڈال دیے جاتے ہیں اور جن کو ٹھیک سے عبادت کرنے بھی نہیں آتی وہ جنت میں بھیج دیے جائیں گے کیونکہ اُنہوں نے رب کے بندوں کو اذیت نہیں دی ہو گی بے شک وہ راتوں کو اُٹھ کر سجدے نہیں کر سکیں ہوں گے مگر اُن کے اخلاق بلند ہوں گے
اُن کی زبان میں میٹھاس ہو گی
اُن کے دل صاف ہوں گے
وہ کسی غریب کو کچھ دے نہ سکے ہوں.
مگر اپنے نرم لہجے اور گفتگو سے دل تو جیت ہی لیے ہوں گے اور
رب کے قریب ہے وہ شخص جو اُس کے بندوں میں مقبول ہے اور بندوں میں مقبول اعلی اخلاق اور صبر استقامت سے کام لینے والے ہوتے ہیں۔
کیا فرق پڑتا ھے ؟
ھمارے پاس کتنا حُسن کتنی دولت ، کتنے لاکھ ، کتنے کروڑ ، کتنے گھر ، کتنی گاڑیاں ھیں ، کھانی تو بس دو روٹیاں ھیں نا ، گزارنی تو بس ایک زندگی ھے نا ،
فرق تو صرف یہ پڑتا ھے کہ ھم نے کتنـے پل خوشـی کے گزارے اور کتنے لوگ ھمـاری وجہ سے خُوش و خرّم اور مُطمئن ھـو سکـے ۔—-!!!a
بس یہی کہ دو اپنے رب سے کہ
صبر کا سلیقہ نہیں مجھ میں یا رب !!
میرا دل اپنی رضا میں راضی کردے
آمین یا رب العالٰمین
بچپن
بچپن میں جب اپنے قد سے لمبا اور اپنے وزن سے تقریباً آدھا، کتابوں سے بھرا بیگ لاد کر اسکول جایا کرتے تھے تو ان لوگوں کو حسرت سے دیکھا کرتے تھے جو ہنستے مسکراتے آپس میں ہنسی مذاق کرتے محض دو چار کتابیں ہاتھ میں تھامے کالج کی جانب رواں دواں ہوتے تھے۔ ہمیں ان پر رشک آتا تھا کہ دیکھو کتنے مزے میں ہیں کم از کم ہماری طرح بیگز تو نہیں اٹھانے پڑتے یقیناً ان کا اتنا سخت ہوم ورک بھی نہیں ہو گا۔
جب خود کالج پہنچے تو یونیورسٹی والوں پر رشک آنے لگا کہ اصل موج تو ان کی ہے۔ یہاں تو سارا سال کیمسٹری، ریاضی اور فزکس میں سر کھپاؤ، وہاں ان کی پڑھائی آسان ہے۔ دو چار اسائنمنٹس کیں مڈٹرم پاس کیا اور لو جی ہو گئے گریجویٹ ۔
یونیورسٹی پہنچے تو رشک کرنے کی یہ عادت اب ہمیں سوٹ بوٹ پہنے بابو بنے آفس میں جاب کرتے لوگوں کی جانب لے گئی کہ اصل خوش قسمت تو یہ لوگ ہیں کہ یونیورسٹیوں کی تعلیم ختم کر لی اور زندگی میں سیٹل ہو گئے ۔۔۔
پھر جونہی انسان آفس میں پہنچتا ہے، تو اسے اپنے اوپر والی پوسٹ والے پر رشک آتا ہے ۔ کئی لوگوں کو بزنس مین پر رشک آتا ہے حسرت بھری نگاہوں سے انھیں دیکھتے ہیں ۔۔۔
غرض کہ حسرتیں لئے قبروں میں جا لیٹتے ہیں ۔
انسان ساری عمر حسرت اور رشک کے بیچ گزارتا ہے۔ کاش یہ شکر کرنا سیکھ لے۔ شکر کے ساتھ گزارنا سیکھ لے۔
اسکول جاتے ہوئے ان کو دیکھے جو اسکول تو جانا چاہتے ہیں مگر حالات کی بنا پر اسکول نہیں جا پاتے۔ کالج جاتے وقت ان کو دیکھے جن کی پڑھائی ان کی نالائقی یا غیر موزوں حالات کی بناء پر اسکول پر ہی ختم ہو گئی۔ یونیورسٹی جائے تو ان کو دیکھے جو یونیورسٹی آنا چاہتے تھے لیکن گھر کے حالات نے انٹر کے بعد چھوٹی موٹی جاب کرنے پر مجبور کر دیا۔ آفس میں جاتے ہیں تو ان کو دیکھیں جو یونیورسٹی پاس نہ کر سکے، پڑھائی بیچ میں ہی منقطع کرنا پڑی ۔۔۔
غرض یہ کہ انسان جب تک پیچھے نہیں دیکھتا شکر نہیں کرتا ۔۔۔ اگر انسان یوں ہی آگے دیکھ کر حسرت اور رشک ہی کرتا رہا، یا تو ناشکرا بن جائے گا یا پھر حاسد ۔۔
ﺍﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻟﮑﮭﺎ
ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﻢ ﺻﺤﺮﺍﺋﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ.. ﻭﮦ ﺗﺎﻧﮕﮧ ﭘﺮ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ.. ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻇﺎﮬﺮ ﮨﻮﺋﮯﺗﻮ ﺗﺎﻧﮕﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﺎﻧﮕﮧ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ..
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﮨﻮﻟﻨﺎﮎ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ.. ﻭﮦ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮍﯼ ﺑﮍﯼ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﮌﺍ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺛﺎﺭ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺳﻮﻗﺖ ﺍﺳﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﯽﺁﻧﺪﮬﯽ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ.. ﺍﺳﻠﺌﮯ ﺁﭖ ﺗﺎﻧﮕﮧ ﺳﮯﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﯽ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﮐﺮﯾﮟ..
ﺁﻧﺪﮬﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﮯﺗﺎﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﮌ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺎﮦ ﻟﮯ ﺳﮑﯿﮟ.. ﺗﺎﻧﮕﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭼﯿﺦ ﭘﮍﺍ.. ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﯿﮯ.. ﺍﺱ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﺭﺧﺖ ﮔﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.. ﺍﺳﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﮨﮯ..
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:” ﺍﺱ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮭﻠﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﻭﻧﺪﮬﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﺟﺎﯾﮟ-” ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﺎﻧﮕﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻣﻨﮧ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﮯ..
ﺁﻧﺪﮬﯽ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺯﻭﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﺋﯽ.. ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﻠﻮﮞ ﺗﮏ ﮐﻮ ﺍﮌﺍ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﮨﻢ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﭘﮍﮮ ﺭﮨﮯ،ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﭨﮫ ﮔﺌﮯ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﺎﻧﮕﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﻠﮑﻞ ﺩﺭﺳﺖ ﺗﮭﯽ..
ﺁﻧﺪﮬﯿﺎﮞ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮑﺎ ﺯﻭﺭ ﮬﯿﻤﺸﮧ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.. ﺯﻣﯿﮟ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺯﺩ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ.. ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻮ ﺍﮐﮭﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﮭﺎﺱ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ.ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﻗﺘﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻧﯿﭽﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ..
ﯾﮧ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﺎ ﺳﺒﻖ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ…
“ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻃﻮﻓﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ.ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺩﮦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﺍﭨﮭﮯ ﺗﻮ ﻭﻗﺘﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﻧﯿﭽﺎ ﮐﺮﻟﻮ.. ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺍﺷﺘﻌﺎﻝ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﺗﻢﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻟﻮ….-“
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﮐﯿﭽﮍ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﮮ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺩﻭ.. ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺧﻼﻑ ﻧﻌﺮﮮ ﺑﺎﺯﯼ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺳﮑﮯﻟﺌﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ___!!.
انسان انسانیت سے ہے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔
ورنہ اطاعت کےلئے کم نہ تھے کروبیاں۔
جو کام اللہ کو پسند نہیں،
جو کام اللہ کو پسند نہیں، اس کے حوالے سے دل میں سوال آئے تو بس ایک بات دل سے پوچھو کہ کیا یہ کام اللہ کی نگاہ میں پسندیدہ ہے؟ اور اگر جواب آئے نہیں۔ مگر…. !
تو بس رک جاؤ، اسی واضح نہیں پر .
یہ اگر مگر وہ شیطانی و نفسانی جواز ہیں جو اللہ کی پسند کے خلاف کے عمل کو مستحسن قرار دینے پر تاویل لائیں گے۔
مخلص ساتھی وہ ہے جو خیر کی جانب رہنمائی کرے اور دشمن وہ ہے جو شر کی جانب ساتھ دیتا اور راہ ہموار کرتا رہے۔ تمہارے اندھے پن میں بصیرت دینے کی بجائے تمہارے اندھے پن کو اور تقویت دے. دو دن کی زندگی کی آزمائش میں سکون میں وہی ہے جو دو دن کی زندگی کے بعد کی زندگی پر اور زندگی والے پر نگاہ کھولے ہے . باقی شہرت، پیسہ، محبت، جاہ، زر، مال، چاہ ۔۔۔ سب آزمائشیں ہیں۔
آج کی دنیا میں اللہ کو ترجیح کر کے جینا ہی جینے کا رمز یے. ورنہ میڈیا ٹی وی، پئیر گروپ سب ارد گرد کے وہ حملے ہیں جن کے بارے میں شیطان نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں ان پر حملے کروں گا، دائیں، بائیں، آگے، پیچھے سے….
اللہ ہماری ہر شر سے حفاظت کرے، ہماری نگاہ سچ پر کھولے، حق کو حق اور باطل کو باطل کر کے دکھائے، حق قبول کرنے اور باطل کو پاش کرنے، اس سے بچنے کی توفیق دے اللھم آمین۔👇