مجوسی


۔”” “” “”
مجوسی یا پارسی زرتشت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں۔ جو دو خالق مانتے ہیں، ایک خالق خیر (یزدان) اور ایک خالق شر (اہرمن) یہ لوگ اپنے آپ کو زرتشت کا پیرو کہتے ہیں اور اس کو نبی بھی بتاتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ بعد میں گمراہ ہوئے یا شروع ہی سے غلط تھے۔ میرا خیال ہے زرتشت کے بعد کے پجاریوں نے شیطان کے نرغے میں آ کر گمراہی اختیار کی۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں دنیا کی دو سپر پاور تھیں، ایک روم اور دوسری ایران۔ سلطنت شام یا روم پر عیسائیوں کی حکومت تھی اور سلطنت ایران پر مجوسی قبضہ جمان تھے اور دونوں اکثر برسرِ پیکار رہتے تھے۔ ایک دفعہ ان دونوں پاورز میں سخت جنگ ہوئی اور روم کے عیسائی مغلوب ہو گئے۔ لیکن کچھ ہی سالوں میں رومیوں نے دوبارہ اپنا تسلط قائم کر دیا۔ اس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ بہرحال مسلمانوں نے دونوں کے خلاف جنگیں لڑیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مجوسیوں کی ایرانی حکومت ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔ عربوں نے ایران فتح کیا تو ان میں سے کچھ مسلمان ہو گئے، کچھ نے جزیہ دینا قبول کیا اور باقی آٹھویں سے دسویں صدی عیسوی کے درمیان ترک وطن کر کے ہندوستان آ گئے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے مذہبی رہنما کے پاس اوستا کا وہ قدیم نسخہ موجود ہے جو ان کے پیغمبر زردشت یا زرتشت پر نازل ہوا تھا۔پارسی اپنے مردوں کو جلانے یا دفنانے کے بجائے ایک کھلی عمارت میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اسے گدھ وغیرہ کھا جائیں۔ اس خاص عمارت کو دخمہ ’’منار خاموشی‘‘ کہا جاتا ہے۔ دخمہ ایسے شہروں میں تعمیر کیا جاتا ہے جہاں پارسیوں کی “معتدبہ” (عبادت کرنے والے پجاری) زیادہ تعداد میں آباد ہوں ۔ جہاں دخمہ نہیں ہوتا وہاں ان کے قبرستان ہوتے ہیں جن میں مردوں کو بہ امر مجبوری دفن کیا جاتا ہے۔

جسمانی طہارت اور کھلی فضا میں رہائش پارسیوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ پاکیزگی کی مقدس علامت کے طور پر ، ان کے معابد اور مکانات میں ، ہر وقت آگ روشن رہتی ہے۔ خواہ وہ چراغ ہی ہو۔ ہندو ’’سناتن دھرم‘‘ اور یہودیوں کی طرح ، پارسی مذہب بھی غیر تبلیغی ہے۔ یہ لوگ نہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب میں داخل کرتے ہیں اور نہ ان کے ہاں شادی کرتے ہیں۔ ان کڑی پابندیوں کے باعث ابھی تک دوسرے طاقتور مذاہب ’’اسلام اور عیسائیت‘‘ کے ثقافتی اثرات سے محفوظ ہیں۔ حصولِ علم ان کا جزوِ ایمان ہے ۔ ہر پارسی معبد میں ایک اسکول ہوتا ہے۔ دنیا میں پارسیوں کی کل تعداد لاکھوں میں ہے اور اس میں بھی ان لوگوں میں شادی کے رجحان کے کم ہونے سے مزید کمی واقع ہو رہی ہے۔

سب سے زیادہ اکثریت ممبئی اور اس کے گرد و نواح میں آباد ہے۔ یہ لوگ عموماً تجارت پیشہ ہیں اور سماجی بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ بمبئی اور کراچی کے کئی سکول ہسپتال اور کتب خانے ان کے سرمائے سے چل رہے ہیں۔ ہندوستان کا پہلا فولاد کا کارخانہ جمشید ٹاٹا نے جمشید پور میں بنایا۔ ہندوستان میں جدید سٹیج ڈرامے اور فلم سازی کے بانی بھی یہی ہیں۔ جو کہ اسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔پارسی زرتشت عقیدے پر یقین رکھتے ہیں اور یہ دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔ آج دنیا میں ایک اندازے کے مطابق صرف ایک لاکھ چالیس ہزار پارسی باقی رہ گئے ہیں جن میں سے بیشتر بھارت میں آباد ہیں۔ کم تعداد میں ہونے کے باوجود پارسی بھارتی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ٹاٹا خاندان سمیت ملک کے اہم صنعت کار پارسی ہیں۔

پاکستان سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کی سینٹ سیویئر چرچ والی چڑھائی اترتے ہی ایک قدیمی عمارت نمودار ہوتی ہے، جس کو شہر کی بلڈر مافیا کے علاوہ ہر ایک شہری نے بھلا دیا ہے۔یہ قدیمی عمارت پارسیوں کی عبادت گاہ اور دھرم شالا ہوا کرتی تھی۔ مگر اب سکھر اور اندرون سندھ میں کوئی ایک پارسی بھی نہیں جو سکھر کے اس ویران و اداس مندر کی انگاری میں آگ جلا سکے۔ سکھر میں پارسیوں کا ٹیمپل کئی سالوں سے ویران پڑا ہے۔ عمارت کے ماتھے پر ٹیمپل کی تعمیر کا سال انیس سو تئیس اور ماما پارسی لکھا ہوا ہے۔

کراچی پاکستان میں بھی کافی تعداد میں موجود ہیں۔ ان کے اوپر بی بی سی نے ایک عدد آرٹیکل بھی کچھ عرصہ پہلے چھاپا تھا۔ ایک جگہ پڑھا تھا کہ لاہور میں بھی ایک پارسی قبرستان موجود ہے۔ مگر معلوم نہیں کہاں ہے۔

ایک اور دلچسپ بات یہ کہ قائداعظم کی بیوی بھی ایک پارسی خاتون تھیں۔ جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا تھا ۔۔۔👇👇👇

ادلے کا بدلہ


۔”” “” “” “”

ایک لومڑی ایک چیل کی سہیلی بن گئی۔ دونوں میں اتنا پیار ہوا کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل ہو گیا۔ ایک دن لومڑی نے چیل سے کہا۔
“کیوں نہ ہم پاس رہیں۔ پیٹ کی فکر میں اکثر مجھے گھر سے غائب رہنا پڑتا ہے۔ میرے بچے گھر میں اکیلے رہ جاتے ہیں اور میرا دھیان بچوں کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ کیوں نہ تم یہیں کہیں پاس ہی رہو۔ کم از کم میرے بچوں کا تو خیال رکھو گی۔”
چیل نے لومڑی کی بات سے اتفاق کیا اور آخرکار کوشش کرکے رہائش کے لیے ایک پرانا پیڑ تلاش کیا جس کا تنا اندر سے کھوکھلا تھا۔ اس میں شگاف تھا۔ دونوں کو یہ جگہ پسند آئی۔ لومڑی اپنے بچوں کے ساتھ شگاف میں اور چیل نے پیڑ پر بسیرا کر لیا۔
کچھ عرصہ بعد لومڑی کی غیر موجودگی میں چیل جب اپنے گھونسلے میں بچوں کے ساتھ بھوکی بیٹھی تھی، اس نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے لومڑی کا ایک بچہ اٹھایا اور گھونسلے میں جا کر خود بھی کھایا اور بچوں کو بھی کھلایا۔ جب لومڑی واپس آئی تو ایک بچہ غائب پایا۔ اس نے بچے کو ادھر ادھر بہت تلاش کیا مگر وہ نہ ملا۔ آنکھوں سے آنسو بہانے لگی۔ چیل بھی دکھاوے کا افسوس کرتی رہی۔
دوسرے دن لومڑی جب جنگل میں پھر شکار کرنے چلی گئی اور واپس آئی تو ایک اور بچہ غائب پایا۔ تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ اس کا ایک اور بچہ غائب ہو گیا۔ چیل لومڑی کے سارے بچے کھا گئی۔ لومڑی کو چیل پر شک جو ہوا تھا، وہ پختہ یقین میں بدل گیا کہ اس کے تمام بچے چیل ہی نے کھائے ہیں مگر وہ چپ رہی۔ کوئی گلہ شکوہ نہ کیا۔ ہر وقت روتی رہتی اور خدا سے فریاد کرتی رہتی کہ ۔
“اے خدا! مجھے اڑنے کی طاقت عطا فرما تاکہ میں اپنی دوست نما دشمن چیل سے اپنا انتقام لے سکوں۔”
خدا نے لومڑی کی التجا سن لی اور چیل پر اپنا قہر نازل کیا۔ ایک روز بھوک کے ہاتھوں تنگ آ کر چیل تلاش روزی میں جنگل میں اڑی چلی جا رہی تھی کہ ایک جگہ دھواں اٹھتا دیکھ کر جلدی سے اس کی طرف لپکی۔ دیکھا کچھ شکاری آگ جلا کر اپنا شکار بھوننے میں مصروف ہیں۔
چیل کا بھوک سے برا حال تھا۔ بچے بھی بہت بھوکے تھے۔ صبر نہ کرسکی۔ جھپٹا مارا اور کچھ گوشت اپنے پنجوں میں اچک کر گھونسلے میں لے گئی۔ ادھر بھنے ہوئے گوشت کے ساتھ کچھ چنگاریاں بھی چپکی ہوئی تھیں۔ گھونسلے میں بچھے ہوئے گھاس پھوس کے تنکوں کو آگ لگ گئی۔ گھونسلا بھی جلنے لگا۔ ادھر تیز تیز ہوا چلنے لگی۔ گھونسلے کی آگ نے اتنی فرصت ہی نہ دی کہ چیل اپنا اور اپنے بچوں کا بچاؤ کر سکے۔ وہیں تڑپ تڑپ کر نیچے گرنے لگے۔ لومڑی نے جھٹ اپنا بدلہ لے لیا اور انہیں چبا چبا کر کھا گئی۔
حاصل کلام
جو کسی کے لیے کنواں کھودتا ہے، خود بھی اسی میں جا گرتا ہے۔ اس لیے سیانوں نے کہا ہے کہ برائی کرنے سے پہلے سوچ لے کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔
(حکایات سعدی)
۔۔۔👇👇👇

اسود عنسی (کاذب)


۔”” “” “” “” “” “” “”
اسود عنسی کاذب سب سے پہلا جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ جس کی شعبدہ بازی کے دور دور تک چرچے تھے۔ کہانت میں کوئی اس کا ثانی نہ تھا۔ لوگ اس کے شعبدوں کو دیکھ کر اس قدر مانوس ہو چکے تھے کہ جب اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تو بہت سے اس کے پیروکار بن گئے۔ یہاں تک کہ نجران اور مذجج جیسے قبائل بھی اس کے دھوکے میں آ گئے اور اس نے اپنی جھوٹی نبوت کا پرچار یمن کے قبیلوں میں شروع کر دیا۔

یہ عنس بن قدجح سے منسوب تھا اس کا نام عیلہ تھا ۔اسے ”ذوالخمار” بھی کہتے تھے اور ذوالحمار بھی۔ ذوالخمار کہنے کی وجہ تو یہ تھی کہ یہ اپنے منہ پر دوپٹہ ڈالا کرتا تھا، جبکہ ذوالحمار کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ کہا کرتا تھا کہ جو شخص مجھ پر ظاہر ہوتا ہے وہ گدھے پر سوار ہو کر آتا ہے۔

ارباب سیر کے نزدیک یہ کاہن تھا اور اس سے عجیب و غریب باتیں ظاہر ہوتی تھیں۔ یہ لوگوں کو اپنی چرب زبانی سے گرویدہ کر لیا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ دو ہمزاد شیطان تھے جس طرح کاہنوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔

اس کا قصہ یوں ہے کہ فارس کا ایک باشندہ باذان ، جسے کسرٰی نے یمن کا حاکم بنایا تھا، نے آخری عمر میں توفیق اسلام پائی اور سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اسے یمن کی حکومت پر برقرار رکھا۔ اس کی وفات کے بعد حکومت یمن کو تقسیم کر کے کچھ اس کے بیٹے شہر بن باذان کو دی اور کچھ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو مرحمت فرمائی اس علاقے میں اسود عنسی نے خروج کیا اور شہر بن باذان کو قتل کر دیا اور مرزبانہ جو کہ شہر کی بیوی تھی اسے کنیز بنا لیا۔ فردہ بن مسیک نے جو کہ وہاں کے عامل تھے اور قبیلہ مراد سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ایک خط لکھ کر مطلع کیا۔ حضرت معاذ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما اتفاق رائے سے حضر موت چلے گئے۔

جب یہ خبر سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس جماعت کو لکھا کہ تم اکٹھے ہو کر جس طرح ممکن ہو اسود عنس کے شر و فساد کو ختم کرو۔ اس پر تمام فرمانبردارانِ نبوت ایک جگہ جمع ہوئے اور مرزبانہ کو پیغام بھیجا کہ یہ اسود عنسی وہ شخص ہے جس نے تیرے باپ اور شوہر کو قتل کیا ہے، اس کے ساتھ تیری زندگی کیسے گزرے گی؟ اس نے کہلوایا میرے نزدیک یہ شخص مخلوق میں سب سے زیادہ دشمن ہے۔ مسلمانوں نے جواباً پیغام بھیجا کہ جس طرح تمہاری سمجھ میں آئے اور جس طرح بن پڑے، اس ملعون کے خاتمہ کی سعی کرو۔ چنانچہ مرزبانہ نے دو اشخاص کو تیار کیا کہ وہ رات کو دیوار میں نقب لگا کر اسود کی خواب گاہ میں داخل ہو کر اسے قتل کر دیں۔ ان میں سے ایک کا نام فیروز دیلمی تھا جو مرزبانہ کا چچا زاد اور نجاشی کا بھانجا تھا۔ انہوں نے دسویں سال مدینہ منورہ حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا رضی اللہ عنہ۔ اور دوسرے شخص کا نام دادویہ تھا۔ بہر حال جب مقررہ رات آئی تو مرزبانہ نے اسود کو خالص شراب کثیر مقدار میں پلا دی، جس سے وہ مدہوش ہو گیا۔ فیروز دیلمی نے اپنی ایک جماعت کے ساتھ نقب لگائی اور اس بدبخت کو قتل کر دیا۔ اس کے قتل کرتے وقت گائے کے چلّانے کی طرح بڑی شدید آواز آئی۔ اس کے دروازے پر ایک ہزار پہرے دار ہوا کرتے تھے۔ وہ آواز سن کر اس طرف لپکے، مگر مرزبانہ نے انہیں یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ خاموش رہو، تمہارے نبی پر وحی آئی ہے۔ ادھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے صحابہ کو مدینہ میں پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آج رات اسود عنسی مارا گیا ہے اور ایک مرد مبارک نے جو کہ اس کے اہلبیت سے ہے، اس نے اسے قتل کیا ہے۔ اس کا نام فیروز ہے اور فرمایا؛ ”فاز فیروز ‘ یعنی فیروز کامیاب ہوا۔
(مدارج النبوۃ مترجم ج دوم ص ۵۵۴ )
۔۔۔👇👇👇

طوطے کی موت :


۔”” “” “” “” “”

ایک بزرگ نوجوانوں کو جمع کرتے اور انہیں ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کی دعوت دیا کرتے تھے ۔
انہوں نے ایک مسجد کو اپنا مرکز بنایا ہوا تھا، چھوٹے بچوں سے لے کر نوجوانوں تک میں ان کی یہ دعوت چلتی تھی۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی اس مبارک دعوت کی توفیق دے دے، اس کے لئے یہ بڑی سعادت کی بات ہے۔

ایک نوجوان جو ان بزرگوں کی مجلس میں آ کر کلمہ طیبہ کا شیدائی بن گیا تھا، ایک دن ایک خوبصورت طوطا اپنے ساتھ لایا اور اپنے استاذ کو ہدیہ کر دیا۔ طوطا بہت پیارا اور ذہین تھا۔ بزرگ اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ جب سبق کے لئے آتے تو وہ طوطا بھی ساتھ لے آتے۔ دن رات ’’ لا الہ الاا للہ ، لا الہ الا اللہ ‘‘ کی ضربیں سن کر اس طوطے نے بھی یہ کلمہ یاد کر لیا۔
وہ سبق کے دوران جب’’ لا الہ الاا للہ ، لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھتا تو سب خوشی سے جھوم جاتے۔

ایک دن وہ بزرگ سبق کے لئے تشریف لائے تو طوطا ساتھ نہیں تھا، شاگردوں نے پوچھا تو وہ رونے لگے۔ بتایا کہ کل رات ایک بلی اسے کھا گئی۔ یہ کہہ کر وہ بزرگ سسکیاں لے کر رونے لگے۔ شاگردوں نے تعزیت بھی کی، تسلی بھی دی، مگر ان کے آنسو اور ہچکیاں بڑھتی جا رہی تھیں ۔
ایک شاگرد نے کہا؛ حضرت میں کل اس جیسا ایک طوطا لے آؤں گا، تو آپ کا صدمہ کچھ کم ہو جائے گا۔ بزرگ نے فرمایا! بیٹے میں طوطے کی موت پر نہیں رو رہا، میں تو اس بات پر رات سے رو رہا ہوں کہ وہ طوطا دن رات ’’ لا الہ الاا للہ ، لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھتا تھا، جب بلی نے اس پر حملہ کیا تو میرا خیال تھا کہ طوطا
لا الہ الا اللہ پڑھے گا، مگر اس وقت وہ خوف سے چیخ رہا تھا اور طرح طرح کی آوازیں نکال رہا تھا۔ اس نے ایک بار بھی ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ نہیں کہا، وجہ یہ کہ اس نے ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کا رٹا تو زبان سے لگا رکھا تھا، مگر اسے اس کلمے کا شعور نہیں تھا۔ اسی وقت سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کہیں ہمارے ساتھ بھی موت کے وقت ایسا نہ ہو جائے۔ موت کا لمحہ تو بہت سخت ہوتا ہے۔ اس وقت زبان کے رٹے بھول جاتے ہیں اور وہی بات منہ سے نکلتی ہے جو دل میں اُتری ہوئی ہو ۔

ہم یہاں دن رات ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کی ضربیں لگاتے ہیں، مگر ہمیں اس کے ساتھ ساتھ یہ فکر کرنی چاہیئے کہ یہ کلمہ ہمارا شعور بن جائے، ہمارا عقیدہ بن جائے۔ یہ ہمارے دل کی آواز بن جائے۔ اس کا یقین اور نور ہمارے اندر ایسا سرایت کر جائے کہ ہم موت کے وقت جبکہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہونے والی ہوتی ہے ہم یہ کلمہ پڑھ سکیں۔ یہی تو جنت کی چابی اور اللہ تعالیٰ سے کامیاب ملاقات کی ضمانت ہے۔

بزرگ کی بات سن کر سارے نوجوان بھی رونے لگے اور دعاء مانگنے لگے کہ یا اللہ یہ کلمہ ہمیں طوطے کی طرح نہیں، حضرات صحابہ کرام اور حضرات صدیقین و شہداء کی طرح دل میں نصیب فرما دیجیئے۔“ ۔۔۔👇👇👇

حکایات_رومیؒ (امتحانِ وفا)



حق تعالیٰ کی محبت میں حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللّٰه علیہ پر عجب حالت طاری ہو گئی عشق کی ایسی کیفیت طاری ہوگئی کہ آپ کی آہوں سے لوگوں کے کلیجے منہ کو آ جاتے۔ محبت میں بجز نالہ و فریاد کچھ اچھا نہیں لگتا گریاوزاری سے حق تعالیٰ کی محبت کا راستہ بہت جلد طے ہو جاتا ہے اس سے ایسا قرب عطا ہوتا ہے کہ سالوں کے مجاہدے سے وہ بات نصیب نہیں ہوتی ۔ حاکمِ وقت نے حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللّٰه علیہ کو قید کرنے کا حکم دے دیا جب آپ کو قید خانے کی طرف لے کر چلے تو آپ کے مریدین اور چاہنے والے روتے روتے پیچھے پیچھے ہو لیے اور یہ کہتے تھے کہ ایک شیخِ کامل پر جنون کا غلبہ نہیں ہو سکتا اس میں ضرور کوئی راز پوشیدہ ہے۔

جب آپ رحمتہ اللّٰه علیہ کو قید خانے میں ڈال کر کر دروازہ بند کر دیا گیا تو دوست احباب نے غور و فکر شروع کیا، پھر کیا ماجرہ ہے کہ اتنا بڑا شیخ شیخ قید خانے میں محصور کر دیا گیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ حضرت ذالنون مصری رحمتہ اللّٰه علیہ اپنے باطن کے سورج کو جنون کے بادل سے چھپانا چاہتے تھے اور عوام کے شر سے بچنے کے لیے یہ صورت اختیار کی ہے۔ ایسی عقل و خرد سے پناہ جو حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللّٰه علیہ کے عشق و عرفان کی دولت کو جنون سمجھے۔

آخر کار ان سب مریدین و دوست احباب نے زندان کی سلاخوں کے سامنے آکر عرض کیا یا حضور ہم آپ رحمتہ اللّٰه علیہ کے چاہنے والے ہیں آپ رحمتہ اللّٰه علیہ کے معتقد اور جانثار ہیں آپ کی مزاج پرسی کے لئے حاضر ہوئے ہیں اور حیران ہیں کہ کس نے آپ پر جنون کا الزام لگایا ہے۔ آپ تو دریائے عقل ہیں یہ اہلِ ظاہر آپ رحمتہ اللّٰه علیہ کے مقامِ قرب اور رفعتِ باطن سے ناواقف ہیں اور آپ کو مجنون و دیوانہ سمجھتے ہیں حالانکہ آپ تو سچے عاشق ہیں ہم آپ کے سچے محب اور دوست ہیں اور دونوں عالم میں آپ کو محبوب رکھتے ہیں۔ مہربانی فرما کر ہم پر یہ راز کھول دیجیے کہ آپ اس قید خانے میں اپنی جان کو مصائب و آلام میں مبتلا کیوں کرتے ہیں آپ کو دیکھ کر ہمارے دل کو تکلیف ہوتی ہے آخر اس میں کیا راز پوشیدہ ہے ، راز کو اپنے دوستوں سے چھپایا نہیں کرتے۔

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی اس گفتگو سے اخلاص کی بو کو محسوس نہ کیا آپ رحمتہ اللّٰه علیہ نے اپنے دل میں فرمایا کہ کیوں نہ ان کا امتحان کیا جائے۔ ان کا امتحان لینے کے لیے آپ پتھر اٹھا کر ان کی طرف اس طرح دوڑے جس طرح پاگل وحشت سے لوگوں کو مارنے کے لیے دوڑتے ہیں۔ یہ معاملہ دیکھتے ہی وہ سب کے سب وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللّٰه علیہ نے جب ان کو اس طرح بھاگتے ہوئے دیکھا تو ان کے اعتقاد و محبت پر قہقہہ لگایا اور فرمایا کہ اِس درویش کے دوستوں کو دیکھو ان کی وفا اور محبت کے دعوے سنو۔

کے کراں گیرد ز رنج دوست دوست
رنج مغز و دوستئ اُو را چو پوست
“سچادوست اپنے دوست سے ملنے والے رنج و تکلیف سے کب کنارہ کشی کرتا ہے دوست کی دوستی تو پوست (چھلکا) ہے جبکہ دوست کی طرف سے رنج و تکلیف اصل مغز ہے۔”

دوست ہمچو زر بلا چوں آتش است
زر خالص در دل آتش خوش است
“دوست سونے کی مثل ہے اور دوست کی طرف سے آنے والی مشکل و مصیبت آگ کی مثل ہے، خالص سونا آگ کی تکلیف میں مزید چمکتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔”

جبکہ جو خام عاشق ہوتے ہیں وہ ایک ہی آزمائش سے عشق سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں حضرتِ رومی رحمتہ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں:

تو بیك زخمے گریزانی زعشق
تو بجز نامے نمی دانی زعشق
“اے مخاطب ! جب ایک ہی زخم سے تُو عشق سے مستعفی ہو گیا اور راہِ فرار اختیار کر لی تو معلوم ہوا کہ تجھے ابھی عشق کی ہوا بھی نہیں لگی تو نے صرف عشق کا نام سن رکھا ہے۔”

حکایاتِ رومیؒ صفحہ: 105

اس حکایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عشقِ حقیقی کے راستے میں اگر ہمیں کوئی آزمائش پیش آتی ہے تو ہمیں صبر و رضا سے کام لینا چاہیے یہی سچی دوستی اور محبت کا تقاضا ہے۔

Design a site like this with WordPress.com
Get started