کچھوے کے بارے میں حیرت انگیز معلومات

۔

کچھوا بظاہر ایک سست مگر ہمارے ماحول کے لیے نہایت فائدہ مند جانور ہے۔ اس کی حیثیت پانی میں ویسی ہی ہے، جیسے خشکی میں گدھ کی ہے، جسے فطرت کا خاکروب کہا جاتا ہے۔گدھ دراصل جابجا پھینکے جانے والے مردہ اجسام (جانور، انسان) کو کھا جاتا ہے جس کے باعث ان اجسام سے تغفن پھیلنے یا خطرناک بیماریاں پھوٹنے کا خدشہ نہیں رہتا۔یہی کام کچھوا پانی کے اندر کرتا ہے۔ یہ پانی کےاندر مضر اشیا اور جراثیم کو بطور خوراک استعمال کرتا ہے جس سے پینے کا پانی مختلف بیماریاں پیدا کرنے کا باعث نہیں بنتا۔سندھ وائلڈ

لائف میں کچھوؤں کے حفاظتی یونٹ کے انچارج عدنان حمید خان کے مطابق کراچی میں کچھ عرصہ قبل عفریت کی طرح پھیلنے والا نیگلیریا وائرس دراصل ان کچھوؤں کی عدم موجودگی کے باعث ہی پھیل سکا۔ان کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک کچھوؤں کی تعداد میں بے تحاشہ کمی واقع ہوگئی تھی اور یہ وہی وقت تھا جب پانی میں نیگلیریا وائرس کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ تاہم کچھوؤں کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے جس کے بعد ان کی آبادی مستحکم ہوگئی۔کچھوے کی اسی خصویت کے باعث اسے چاول کی کھڑی فصلوں میں بھی چھوڑا جاتا ہے جب فصلوں میں کئی فٹ تک پانی کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے میں پانی کے مختلف کیڑے یا جراثیم فصل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، تاہم کچھوے کی موجودگی ان کیڑوں یا جراثیموں کو طاقتور ہونے سے باز رکھتی ہے۔کچھوا ہمارے لیے فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت حیران کن جانور بھی ہے۔ آج ہم آپ کو اس کی زندگی کے متعلق ایسے ہی کچھ حقائق بتانے جارہے ہیں جو آپ کے لیے معلوماتی ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت دلچسپ بھی ہیں۔کچھوا زمین پر پائے جانے والے سب سے قدیم ترین رینگنے والے جانداروں میں سے ایک ہے۔ یہ اس زمین پر آج سے لگ بھگ 21 کروڑ سال قبل وجود میںآیا تھا۔کچھوؤں کی اوسط عمر بہت طویل ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک کچھوے کی عمر 30 سے 50 سال تک ہوسکتی ہے۔ بعض کچھوے 100 سال کی عمر بھی پاتے ہیں۔ سمندری کچھوؤں میں سب سے طویل العمری کا ریکارڈ 152 سال کا ہے۔تاریخ کا سب سے طویل العمر کچھوا بحر الکاہل کے ٹونگا جزیرے میں پایا جاتا تھا جو اپنی موت کے وقت 188 سال کا تھا۔کچھوا اپنی پشت پر سخت خول کی وجہ سے مشہور اور منفرد سمجھا جاتاہے، لیکن شاید آپ کے علم میں نہ ہو کہ ایک خول کچھوے کے پیٹ پر بھی موجود ہوتا ہے جو پلاسٹرون کہلاتا ہے۔کچھوے کے دونوں خول بے شمار ہڈیوں سے مل کر بنتے ہیں۔کچھوے دنیا کے تمام براعظموں پر پائے جاتے ہیں سوائے براعظم انٹار کٹیکا کے۔ اس کی وجہ یہاں کا سرد ترین اور منجمد کردینے والا موسم ہے جو کچھوؤں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔گو کہ کچھوے سرد خون والے جاندار ہیں یعنی موسم کی مناسبت سے اپنےجسم کا درجہ حرارت تبدیل کرسکتے ہیں، تاہم انٹارکٹیکا کے برفیلے موسم سے مطابقت پیدا کرنا ان کے لیے ناممکن ہے۔تمام کچھوے بشمول سمندری کچھوے خشکی پر انڈے دیتے ہیں۔انڈے دینے کے لیے مادہ کچھوا جب ریت پر آتی ہے تو سب سے پہلے ریت میں گڑھا کھودتی ہے۔ اس عمل میں اسے لگ بھگ 1 گھنٹہ لگتا ہے۔ گڑھا کھودنے کے بعد وہ اندر جا کر بیٹھ جاتی ہے۔مادہ کچھوا ایک وقت میں سے 60 سے 100 کے درمیانانڈے دیتی ہے۔ انڈے دینے کے بعد وہ گڑھے کو ریت یا دوسری اشیا سے ڈھانپ کر غیر نمایاں کردیتی ہے تاکہ انڈے انسانوں یا جانوروں کی دست برد سے محفوظ رہ سکیں۔انڈے دینے کے بعد مادہ کچھوا اس جگہ سے دور چلی جاتی ہے اور واپس پلٹ کر نہیں آتی۔ بچے خود ہی انڈوں سے نکلتے اور اپنی زندگی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔سمندری کچھوے چونکہ انڈے سے نکلتے ہی سمندر کی طرف جاتے ہیں لہٰذا اس سفر کے دورانزیادہ تر کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اندازاً 100 میں سے 1 یا 2 سمندری کچھوے ہی بلوغت کی عمر تک پہنچ پاتے ہیں۔اس کے برعکس خشکی پر رہنے والے کچھوؤں میں زندگی کا امکان اور زندہ رہنے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ مادہ کچھوا جس ساحل پر پیدا ہوتی ہے، انڈے دینے کے لیے اسی ساحل پر لوٹ کر آتی ہے۔آپ کو ایک اور دلچسپ بات سے آگاہ کرتے چلیں۔ کراچی کے ساحل پر سندھوائلڈ لائف اور ادارہ برائے تحفظ جنگلی حیات ڈبلیو ڈبلیو ایف، جو کچھوؤں کے تحفظ کے لیے قابل تعریف اقدامات کر رہے ہیں، ننھے کچھوؤں کے سمندر میں جانے کے دوران علاقے کو روشنیوں سے نہلا دیتے ہیں۔یہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ رات کے وقت سمندر میں جانے والے ننھے کچھوے تیز روشنی میں اس علاقے کو اچھی طرح دیکھ لیں اور وہ ان کے ذہن میں محفوظ ہوجائے۔ بعد میں مادہ کچھوؤں کو انڈے دینے کے لیے اپنی جائے پیدائش کی طرف لوٹتے ہوئے بھٹکنے، یا بھولنے کا خطرہ نہ رہے۔
۔قدرت نے ان معصوموں کے لیے غذا کا نہایت بہترین انتظام کر رکھا ہے۔پیدائش کے وقت ننھے کچھوؤں کی پیٹھ پر جو خول موجود ہوتا ہے وہ پروٹین سمیت مختلف غذائی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسے پروٹین اسپاٹ بھی کہاجاتا ہے۔ یہ کچھوؤں کو غذا فراہم کرتا ہے۔جیسے جیسے کچھوے بڑے ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے خول کی ساخت مختلف ہوتی جاتی ہے۔ کچھوؤں کے اپنی غذا خود تلاش کرنے کی عمر تک پہنچنے کے بعد یہ خول صرف حفاظتی ڈھال کا کام انجام دینے لگتے ہیں۔کچھوے اپنے پیئے جانے والے پانی کو قدرتی طریقے سے میٹھا بنا دیتے ہیں۔دراصل سمندری کچھوؤں کے گلے میں خصوصی قسم کے غدود موجود ہوتے ہیں جو اس پانیسے نمک کو علیحدہ کردیتے ہیں، جو کچھوے پیتے ہیں۔کچھوؤں کی دیکھنے اور سونگھنے کی صلاحیت نہایت تیز ہوتی ہے۔ ان کی لمس کو محسوس کرنے اور سننے کی صلاحیت بھی اول الذکر دونوں صلاحیتوں سے کم، تاہم بہترین ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ گہرے رنگوں میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا تحقیقاتی مقاصد یا تحفظ کے اقدامات کے سلسلے میں کچھوؤں پر گہرے رنگوں سے نشانات لگائے جاتے ہیں۔بدقسمتیسے اس وقت کچھوؤں کی زیادہ تر اقسام معدومی کے خطرے سے دو چار ہیں۔عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این کے مطابق دنیا بھر میں کچھوؤں کی 300 میں سے 129 اقسام اپنی بقا کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ یہ اقسام معمولی یا شدید قسم کے خطرات سے دو چار ہیں۔کچھوؤں کی ممکنہ معدومی اور ان کی آبادی میں کمی کی وجوہات ان کا بے دریغ شکار، غیر قانونی تجارت، اور ان پناہ گاہوں میں کمی واقع ہونا ہے۔

یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے



*دفعہ 295-A کسی مذہب کی توھین کرنا
*دفعہ 295-B قرآن پاک کی غلط تشریح کرنا
*دفعہ 295-C توھین رسالت
*دفعہ 298-A توھین صحابہ
* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
دفعہ 494 = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
دفعہ 499 = ہتک عزت
دفعہ 511 = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔

تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
پانچ دلچسپ حقائق آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

(1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا –

ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

(2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

(3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں –

سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

(4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا –

زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا

پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم (6) ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔

وقت _اور انسانیت


وقت پر رشتے نبھانے سے زیادہ اہم اور کچھ نہیں کیونکہ موجودہ دور میں جس طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں, ایک لمحے کی بھی خبر نہیں ہے. کتنے لوگ ہم سے بچھڑ رہے ہیں اور ہم کہہ رہے ہوتے ہیں کہ کل تک تو بلکل ٹھیک تھا، کل میرے ساتھ تھا، کل موٹر سائیکل پر جاتے دیکھا، بلکل ٹھیک ٹھاک تھا….
ہماری زندگی کا ہر ایک دن موت کی جانب بڑھ رہا ہے اور موت نہیں دیکھتی کہ بیمار ہے یا تندرست ہے، کنوارا ہے یا شادی شدہ، مرد ہے یا عورت، بوڑھا ہے یا جوان ہے.
آنے کی ترتیب ضرور ہے مگر جانے کی کوئی ترتیب نہیں ہے، ضد، انا، بغض، نفرت اور وسوسے دل سے نکال کر لوگوں، انسانوں اور رشتوں کو اہمیت دینا سیکھیں ورنہ بعد میں جو کچھ ہمارے پاس رہ جاتا ہے اسے ” پچھتاوا” کہتے ہیں. جیتے جی لوگوں کی قدر کرنا ضروری ہے ورنہ مرنے کے بعد قدر کرنا کسی کام کا نہیں ہے.
آج کسی کی اور کل کسے خبر ہے کہ ہماری باری ہو، کون جانتا ہے کہ موت کس راہ پر ہماری تاک میں بیٹھی ہو، سونے کے بعد یہ تک نہیں جانتے کہ صبح آنکھ بھی کھلتی ہے یا نہیں؟ سفر پر جاتے وقت نہیں خبر کہ واپسی گھر میں ہوگی، ہسپتال میں یا پھر کفن میں لپیٹ دیے جائیں گے؟
ہم تیاری نہیں کرتے، اسی وجہ سے موت سے ڈر لگتا ہے اور دنیا چھوڑ جانے کا خوف طاری رہتا ہے. یہاں کے سارے انتظامات ہم نے کر رکھے ہیں جہاں کی خبر ہی نہیں کہ کتنے دن یا کتنی سانسیں باقی ہیں؟
لوگوں کو اہمیت دیں، انسانوں کی قدر کریں، کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیں، کسی پیاسے کو پانی کا گلاس پلا دیں، کسی سردی میں ٹھٹرتے جسم پر لباس ڈال دیں، کسی کا قرض ادا کر دیں، کسی کے تعلیمی اخراجات کا ذمہ لے لیں، کسی بیمار کا علاج کروا دیں، کسی کو دوا خرید دیں، کسی کے گھر کا راشن لے دیں، کسی کی بیٹی کی شادی کا خرچ ادا کر دیں، کسی کو اپنا خون عطیہ کر دیں، کسی کو راستہ دکھا دیں، اپنی سواری پر جاتے وقت کسی پیدل چلنے والے کو لفٹ دے دیں، کسی بزرگ کو دبا دیں، کسی کے گھر کا کرایہ ادا کر دیں، کسی کا کرایہ معاف کر دیں، کسی کو چھوٹے پیمانے پر کاروبار کروا دیں، کسی کے گھر کے باہر راشن رکھ کر چلے جائیں اور پھر دیکھیں کہ در حقیقت سکون کسے کہتے ہیں؟ راستے کا پتھر ہٹا دیں، کوڑا ایک طرف کر دیں، کسی کی فیس ادا کر دیں، کسی کے بچوں کیلئے دودھ کا انتظام کر دیں، جائز منافع پر کاروبار کریں تو یہ بھی بہت بڑا عمل ہوگا،….
کیسا سٹریس، کیسا ڈپریشن؟
انسانوں کو اہمیت تو دے کر دیکھیں، کسی کے آنسو خشک تو کریں، کسی کی مسکراہٹ کا سبب تو بنیں.. انسانوں کو انسانوں کی ضرورت ہے….
سلامت رہیں ♥️

ھالی ووڈ کی تاریخ میں ایک بار ایک بہت ہی عجیب واقعہ

ھالی ووڈ کی تاریخ میں ایک بار ایک بہت ہی عجیب واقعہ پیش آیا جو ھمیشہ کے لیے ھالی ووڈ کا یادگار واقعہ بن گیا. وہ واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ ھالی ووڈ کی بلیوارڈ سڑک کے اطراف میں واک آف فیم کے نام سے ایک تقریب منعقد کی جاتی ھے اس تقریب میں امریکہ کا نام روشن کرنے والے ھیروز کے ناموں کے ستارے سڑک کے اطراف میں بنے راستے پر زمین پر لگائے جاتے ہیں. ھر ستارے کے ساتھ ھیرو کا نام لکھا ھوتا ھے لوگ وہاں سے گزرتے ہوئے اپنے ھیروز کے نام پڑھتے ہیں ان کی خدمات سے آگاہ ھوتے ہیں اور خوشی محسوس کرتے ہیں . یہ تقریب بہت بڑے اعزاز والی ھوتی ھے..
45 سال پہلے کی بات ہے اس سال بھی واک آف فیم کے سلسلے میں امریکہ کے ھیروز کے نام کے ستارے سڑک پر لگائے جا رہے تھے.. اس موقع پر ایک ھیرو نے اپنا ستارہ زمین پر لگوانے سے انکار کر دیا. اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے نام کو زمین پر لکھا ھوا برداشت نہیں کر سکتا اگر منتظمین کو اس پر اعتراض ھے تو وہ چاہیں تو اس کا نام ھیروز کی لسٹ میں سے نکال سکتے ہیں..
یہ عجیب و غریب اعتراض تھا پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ھوا تھا ھیروز اس واک آف فیم میں اپنے نام کے ستارے کو سڑک پر لگانے پر اعتراض نہیں کیا کرتے تھے بلکہ وہ تو اپنا نام. اس فہرست میں شامل ھونے کو ہی اپنی سب سے بڑی خوش نصیبی سمجھتے تھے. جس شخص نے اعتراض کیا تھا وہ اس زمانے میں امریکہ کا سب سے ٹاپ کلاس ھیرو تھا.. انتظامیہ نے اس سے پوچھا کہ اسے کیوں اعتراض ھے. ھیرو نے کہا بات صرف میرے نام کی نہیں ھے.. دراصل جس ھستی کے نام پر میں نے اپنا نام رکھا ھے مجھے اس کے نام سے ایسا عشق ھے اور میرے دل میں اس نام کی ایسی عزت ھے کہ میں برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ یہ نام زمین پر لکھا جائے زمین پر نام لکھنے سے نام کی توہین ھوگی. میں اپنے نام اس فہرست سے ھزار بار خارج کروا سکتا ھوں لیکن اس عظیم نام کی توہین برداشت نہیں کر سکتا. اگر آپ لوگوں نے مجھے اس تقریب میں شامل رکھنا ھے تو میرے نام کے ستارے کو دیوار پر بلند جگہ پر لگاؤ.. ھیرو کی شرط مان لی گئی اور یوں تاریخ میں پہلی اور آخری بار کسی ھیرو کے نام کا ستارہ واک آف فیم کی تقریب کے موقع پر دیوار پر کافی بلندی پر لگایا گیا تھا..
اس عظیم ھیرو کا نام باکسر محمد علی تھا. اور جس نام کی توہین اس کی برداشت سے باہر تھی وہ نام اس کے آقا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تھا.. نام محمد سے اس کے عشق کا یہ عالم عجیب تھا.. یہ اس کا قصور نہیں تھا نہ ہی یہ جذبہ اس کے اندر خودبخود پیدا ھوا تھا بلکہ یہ بہت بڑا معجزہ ھے کہ جس نے بھی مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی غلامی کا پٹا گلے میں ڈال لیا اس کے لیے یہ نام اس کی زندگی کا سب سے مقدس نام بن جاتا ھے وہ ایک اور ہی دنیا کا باسی بن جاتا ہے جہاں محبوب کے عشق میں، محبوب کی شان کی خاطر جان دی بھی جا سکتی ھے اور کسی گستاخ کی جان لی بھی جا سکتی ھے..
اسی طرح ایک واقعہ اور بھی پیش آیا جس میں اس زمانے کے ایک اور ھیوی ویٹ چیمپئن ارنی ٹیرل محمد علی کو نفرت اور چڑانے کے لیے محمد علی کی بجائے اس کے اسلام قبول کرنے سے پہلے والے نام کیشیئس کلے کے نام سے پکارا کرتا تھا. لیکن محمد علی اسے بار بار روکتا. جبکہ وہ اسلام سے تعصب کی وجہ سے جان بوجھ کر ایسا کرتا تھا اس بات پر کئی بار محمد علی نے اسے رنگ سے باھر بھی بہت زیادہ مارا تھا لیکن لوگ چھڑا دیا کرتے تھے محمد علی کو اس بات کی بہت تکلیف ھوتی تھی لیکن وہ بڑی مشکل سے برداشت کرتا رہا. وہ موقع کی تلاش میں تھا کہ اگر کبھی ارنی ٹیرل سے مقابلہ ھوا تو وہ اسے اچھی طرح سبق سکھائے گا..
اور پھر بالآخر ایک بار ایسا موقع مل ہی گیا. رنگ کے اندر مقابلہ شروع ھوا. محمد علی پہلی بار مقابلہ شروع ھوتے ہی مخالف پر کسی وحشی کی طرح ٹوٹ پڑا. یہ اس کے مزاج کے خلاف تھا. وہ مقابلے کو دلچسپ بنانے کے ھنر سے واقف تھا. وہ اپنے مخالف کھلاڑی کو پہلے خوب تھکایا کرتا تھا. کسی ماھر رقاص کی طرح اس کے پاؤں ناچنے کے انداز میں بجلی کی طرح حرکت کرتے تھے اور وہ ایک بھی مکہ مارے بغیر کافی دیر تک رنگ میں ادھر سے ادھر اچھلتا رھتا تھا.. لیکن اس مقابلے میں ایسا نہیں تھا. وہ ٹیرل ارنی کو بری طرح پیٹ رہا تھا.. اس دوران وہ مکے برساتے ہوئے ایک ہی سوال کرتا جا رہا تھا. بتاؤ میرا نام کیا ھے. میرا نام کیا ھے. مجھے بتاؤ میرا کیا نام ہے. ساتھ ہی ساتھ وہ مکوں کی رفتار بڑھاتا چلا گیا. مخالف باکسر کو پتہ چل گیا کہ آج محمد علی کے ھاتھوں زندہ بچنا ناممکن ھے وہ دیوانوں کی طرح چلا چلا کر اس سے اپنا نام پوچھ رہا تھا اور پھر ارنی ٹیرل کی برداشت جواب دے گئی. تب زندگی میں پہلی بار رنگ میں بدترین پٹائی کے نتیجے میں اس کے منہ سے محمد علی محمد علی نام ادا ھونے لگا..
بعد میں لوگوں نے محمد علی سے پوچھا کہ وہ اس نام کے لیے کیوں جذباتی ھے. اس نام کے معانی کیا ھیں. محمد علی نے نہایت ہی میٹھے اور محبت بھرے انداز میں بتایا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معانی ہیں وہ جس کی تعریف کی گئی ھو اور علی کے معانی بلند و بالا ھے..
جس نے عشق محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جام پی لیا پھر وہ چاھے عرب کا ھو عجم کا ھو گورا ھو کالا ھو پاکستانی ھو امریکی ھو چاھے اس کی کوئی بھی زبان ھو وہ پوری دنیا میں موجود ھر مسلمان کے ساتھ ایک تسبیح میں پرویا جاتا ھے.. پھر وہ مرتے دم تک اس تسبیح سے خود کو جدا نہیں کر سکتا…

ایک نوجوان نے درویش سے دعا کرنے کو کہا

🌹🌱🌹🌱🌹🌱🌹🌱🌹🌱🌹
*ایک نوجوان نے درویش سے دعا کرنے کو کہا …… درویش نے نوجوان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے جذب سے دُعا دی:*“`

“اللہ تجھے آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا فرمائے”

دعا لینے والے نے حیرت سے کہا:

حضرت! الحمد للہ ہم مال پاک کرنے کے لیے ھر سال وقت پر زکاۃ نکالتے ہیں، بلاؤں کو ٹالنے کے لیے حسبِ ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیں…. اس کے علاوہ ملازمین کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتے ہیں، ہمارے کام والی کا ایک بچہ ہے، جس کی تعلیم کا خرچہ ہم نے اٹھا رکھا ہے، الله کی توفیق سے ہم تو کافی آسانیاں بانٹ چکے ہیں …..

درویش تھوڑا سا مسکرایا اور بڑے دھیمے اور میٹھے لہجے میں بولا:

“میرے بچے! سانس، پیسے، کھانا … یہ سب تو رزق کی مختلف قسمیں ہیں۔۔۔۔
اور
یاد رکھو “رَازِق اور الرَّزَّاق” صرف اور صرف الله تعالٰی کی ذات ہے…. تم یا کوئی اور انسان یا کوئی اور مخلوق نہیں ….. تم جو کر رہے ہو، اگر یہ سب کرنا چھوڑ بھی دو تو الله تعالٰی کی ذات یہ سب فقط ایک ساعت میں سب کو عطا کر سکتی ہے ، اگر تم یہ کر رہے ہو تو اپنے اشرف المخلوقات ہونے کی ذمہ داری ادا کر رہے ہو.”

درویش نے نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھ میں لیا اور پھر بولا:

میرے بچے! آؤ میں تمہیں سمجھاؤں کہ آسانیاں بانٹنا
کسے کہتے ہیں…..

🌷 کبھی کسی اداس اور مایوس انسان کے کندھے پے ہاتھ رکھ کر، پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر ایک گھنٹا اس کی لمبی اور بے مقصد بات سننا….. آسانی ہے!

اپنی ضمانت پر کسی بیوہ کی جوان بیٹی کے رشتے کے لیے سنجیدگی سے تگ ودو کرنا …. آسانی ہے!

صبح دفتر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے کسی یتیم بچے کی اسکول لے جانے کی ذمہ داری لینا…. یہ آسانی ہے!

اگر تم کسی گھر کے داماد یا بہنوئی ہو تو خود کو سسرال میں خاص اور افضل نہ سمجھنا… یہ بھی آسانی ہے!

غصے میں بپھرے کسی آدمی کی کڑوی کسیلی اور غلط بات کو نرمی سے برداشت کرنا …. یہ بھی آسانی ہے!

چاۓ کے کھوکھے والے کو اوئے کہہ کر بُلانے کی بجائے بھائی یا بیٹا کہہ کر بُلانا….. یہ بھی آسانی ہے!

گلی محلے میں ٹھیلے والے سے بحث مباحثے سے بچ کر خریداری کرنا….. یہ آسانی ہے!

تمہارا اپنے دفتر، مارکیٹ یا فیکٹری کے چوکیدار اور چھوٹے ملازمین کو سلام میں پہل کرنا، دوستوں کی طرح گرم جوشی سے ملنا، کچھ دیر رک کر ان سے ان کے بچوں کا حال پوچھنا….. یہ بھی آسانی ہے!

ہسپتال میں اپنے مریض کے برابر والے بستر کے انجان مریض کے پاس بیٹھ کر اس کا حال پوچھنا اور اسے تسّلی دینا ….. یہ بھی آسانی ہے!

ٹریفک اشارے پر تمہاری گاڑی کے آگے کھڑے شخص کو ہارن نہ دینا جس کی موٹر سائیکل بند ہو گئی ہو …… سمجھو تو یہ بھی آسانی ہے!”

درویش نے حیرت میں ڈوبے نوجوان کو شفقت سے سر پر ھاتھ پھیرا اور سلسلہ کلام جارے رکھتے ہوئے دوبارہ متوجہ کرتے ہوئے کہا:

“بیٹا جی! تم آسانی پھیلانے کا کام گھر سے کیوں نہیں شروع کرتے۔۔۔۔.!!!؟؟؟

🌷 آج واپس جا کر باھر دروازے کی گھنٹی صرف ایک مرتبہ دے کر دروازہ کُھلنے تک انتظار کرنا.

🌷آج سے باپ کی ڈانٹ ایسے سننا جیسے موبائل پر گانے سنتے ہو.

آج سے ماں کے پہلی آواز پر جہاں کہیں ہو فوراً ان کے پہنچ جایا کرنا…. اب انھیں تمہیں دوسری آواز دینے کی نوبت نہ آئے.

🌷بہن کی ضرورت اس کے تقاضا اور شکایت سے پہلے پوری کریا کرو.

آیندہ سے بیوی کی غلطی پر سب کے سامنے اس کو ڈانٹ ڈپٹ مت کرنا.

🌷سالن اچھا نہ لگے تو دسترخوان پر حرف شکایت بلند نہ کرنا .

کبھی کپڑے ٹھیک استری نہ ہوں تو خود استری درست کرلینا.

میرے بیٹے! ایک بات یاد رکھنا زندگی تمہاری محتاج نہیں ، تم زندگی کے محتاج ہو ، منزل کی فکر چھوڑو، اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بناؤ ، ان شاء الله تعالٰی منزل خود ہی مل جائے گی ….!!!!“`

آئیں! صدقِ دِل سے دُعا کریں کہ الله تعالٰی ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے،
آمین ثم آمین یا رب العالمین.

Design a site like this with WordPress.com
Get started