محمود غزنوی کے دؤر کی بات ہے کہ

کہتے ہیں محمود غزنوی کا دور تھا“`
ايک شخص کی طبیعت ناساز ہوئی تو طبیب کے پاس گیا
اور کہا کہ مجھے دوائی بنا کے دو طبیب نے کہا کہ دوائی کے لیے جو چیزیں درکار ہیں سب ہیں سواء شہد کے تم اگر شہد کہیں سے لا دو تو میں دوائی تیار کیے دیتا ہوں اتفاق سے موسم شہد کا نہیں تھا ۔۔
اس شخص نے حکیم سے وہ ڈبیا پکڑی اور لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگا
مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی
جب مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا
کہتے ہیں وہاں ایاز نے دروازہ کھولا اور دستک دینے والے کی رواداد سنی اس نے وہ چھوٹی سی ڈبیا دی اور کہا کہ مجھے اس میں شہد چاہیے ایاز نے کہا آپ تشریف رکھیے میں بادشاھ سے پوچھ کے بتاتا ہوں
ایاز وہ ڈبیا لے کر بادشاھ کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاھ سلامت ایک سائل کو شہد کی ضرورت ہے
بادشاہ نے وہ ڈبیا لی اور سائیڈ میں رکھ دی ایاز کو کہا کہ تین کین شہد کے اٹھا کے اس کو دے دیے جائیں
ایاز نے کہا حضور اس کو تو تھوڑی سی چاہیے
آپ تین کین کیوں دے رہے ہیں
بادشاھ نے ایاز سے کہا ایاز
وہ مزدور آدمی ہے اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے
ہم بادشاھ ہیں ہم اپنی حیثیت کے مطابق دینگے !!
مولانا رومی فرماتے ہیں
آپ اللہ پاک سے اپنی حیثیت کے مطابق مانگیں وہ اپنی شان کے مطابق عطا کریگا شرط یہ ہے کہ
مانگیں تو سہی!!
ہم بھی آج کل ہر چھوٹی بڑی باتیں لے کر لوگوں کے سامنے رونا شروع کردیتے ہیں کہ جی فلاں پریشانی ہے بیماری ہی نہیں جاتی یا یہ کہ قرضہ ہی نہیں اترتا اور بہت ساری پریشانیاں ہیں جو ہم ان لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں جنہوں نے آگے سے اپنی ہی پریشانیاں گنوانی ہوتی ہیں

اپنی پریشانیاں اس سے شئر کریں جو کُن فیکون ہے !!“

صفا و مروہ


۔*******
یہ چھوٹی چھوٹی دو پہاڑیاں ہیں، جو حرمِ کعبہ مکرمہ کے بالکل قریب ہی ہیں اور آج کل تو بلند عمارتوں اور اونچی سڑکوں اور دونوں پہاڑیوں کے درمیان چھت بن جانے اور تعمیرات کے رد و بدل سے دونوں پہاڑیاں برائے نام ہی کچھ بلندی رکھتی ہیں۔ انہی دونوں پہاڑیوں پر چڑھ کر اور چکر لگا کر حضرت بی بی ہاجرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے اس وقت پانی کی جستجو اور تلاش کی تھی جب کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام شیر خوار بچے تھے اور پیاس کی شدت سے بے قرار ہو گئے تھے۔ اسی لئے زمانہ قدیم سے یہ دونوں پہاڑیاں بہت مقدس مانی جاتی ہیں اور حجاج کرام ان دونوں پہاڑیوں پر چڑھ کر بڑے احترام اور جذبہ عقیدت کے ساتھ طواف کرتے اور دعائیں مانگا کرتے تھے۔

مگر زمانہ جاہلیت میں ایک مرد جس کا نام ”اساف” تھا اور ایک عورت جس کا نام ”نائلہ” تھا ان دونوں خبیثوں نے خانہ کعبہ کے اندر زنا کاری کر لی، تو ان دونوں پر یہ قہر الٰہی نازل ہو گیا کہ یہ دونوں مسخ ہو کر پتھر کی مورت اور بت بن گئے ۔ (تفسیر صاوی)
پھر زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں نے ان دونوں مجسموں کو کعبہ سے اٹھا کر صفا و مروہ کی دونوں پہاڑیوں پر رکھ دیا اور ان دونوں بتوں کی پوجا کرنے لگے۔

پھر جب عرب میں اسلام پھیل گیا تو مسلمان ”اساف و نائلہ” دونوں بتوں کی وجہ سے ان دونوں پہاڑیوں پر جانے کو گناہ سمجھنے لگے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حکم نازل فرمایا کہ صفا و مروہ کے طواف اور ان دونوں کی زیارت میں کوئی حرج و گناہ نہیں بلکہ حج و عمرہ دونوں عبادتوں میں صفا و مروہ کا طواف ضروری ہے۔ (تفسیر صاوی، ج۱، ص۱۳۲، پ۲، البقرۃ : ۱۵۸)

فتح مکہ کے دن حضور سید اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پہاڑیوں پر سے ”اساف و نائلہ” دونوں بتوں کو توڑ پھوڑ کر نیست و نابود کر دیا اور ان دونوں پہاڑیوں کو حسبِ دستور سابق مقدس و معظم قرار دے کر ان دونوں کا طواف حج و عمرہ میں ضروری قرار دیا گیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ:۔

ترجمہ : بےشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے والا خبردار ہے۔
(سورۃ البقرۃ : ۱۵۸)

صفا اور مروہ دونوں پہاڑیوں پر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دوڑ کر پانی تلاش کیا تو ایک نبی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی اور ایک نبی یعنی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی ماں حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قدم ان پہاڑیوں پر پڑ جانے سے ان دونوں پہاڑیوں کو یہ عزت و عظمت مل گئی کہ حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک مقدس یادگار بن جانے کا ان دونوں پہاڑیوں کو اعزاز و شرف مل گیا اور یہ دونوں پہاڑیاں حج و عمرہ کرنے والوں کے لئے طواف و سعی کا ایک مقبول و محترم مقام بن گئیں۔

اللہ تعالی ہم سب کو بھی حج بیت اللہ کی سعادت اور صفا مروہ کی سعی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 👇

کھانا

آج پھر گھر پر سبزی پکی تھی اور میرا دل برگر کھانے کو تھا۔ گھر سے نکلا مکڈونلڈ پر لمبی لائن میں میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک پاس والی دیوار کے سائے میں ایک شخص آ بیٹھا، جو غالباً مزدور تھا اور ایک رومال سے دو سُوکھی روٹیاں نکالیں۔ روٹیاں کھولیں تو اندر ہری مرچ کا اچار تھا، سامنے روٹی کھول کر رکھی اور ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگی اور نوالہ توڑا۔ میں اُسے غور سے دیکھنے لگا۔ اس کے ہر لقمے پر اس کے چہرے پر ایک عجیب خوشی اور شکر محسوس ہو رہا تھا۔ اتنے میں ایک اور مزدور آ کر اس کے پاس دیوار کے سائے میں بیٹھ گیا اور اپنے رومال سے روٹی نکالی، لیکن اس کی روٹی میں اچار بھی نہ تھا۔ تب اس پہلے مزدور نے کھاتے ہوئے اپنی روٹی کا اچار اس کی روٹی میں رکھ کر کہا، “میرا پیٹ بھر گیا ہے، اچھا کیا جو تم اچار نہیں لائے، ورنہ میرا ضائع ہو جانا تھا۔” بس یہ وہ آخری الفاظ تھے جو میں نے غور سے سنے بھی اور دیکھا بھی ۔۔۔ اتنے میں آواز آئی، جی سر آپ کا آرڈر کیا ہے؟
میں نے مکڈونلڈ کے سٹاف کی طرف دیکھا تو میرا دل بھر آیا اور منہ میں ایک لفظ نہیں تھا، بس اتنا کہا کہ ۔۔۔ “مجھے برگر نہیں پسند” اور کھڑکی چھوڑ کر ان مزدوروں کے پاس جا کر رُک گیا۔ مجھے سر پر کھڑا دیکھ کر وہ دونوں بوکھلا گئے۔ ایک نے کہا باؤ جی! ابھی چلے جاتے ہیں، بس روٹی کھانے چھاؤں میں بیٹھ گئے۔ اب تو آنکھیں بھی بھر آئیں۔ میں نے رومال سے آنکھیں صاف کیں اور گھٹنوں کے بل ان کے پاس بیٹھ کر کہا، اپنی روٹی سے ایک نوالہ دو گے؟ اس نے پوری روٹی میری طرف بڑھا دی اور جھٹ سے ایک پرانی سی بوتل کھول کر اپنا پانی بھی میرے آگے کر دیا۔
میں نے ایک نوالہ اچار کے ساتھ جو منہ میں لیا ۔۔۔ کاش میرے پاس الفاظ ہوتے کہ اس دنیا کے سب کھانوں سے لذیذ لقمہ تھا، میں نے پوچھا یہ کھانا اتنا لذیذ کیسے ہے؟ وہ بھی اچار کے ساتھ؟
مزدور نے کہا باؤ جی! حلال کمانے کی کوشش کرتے ہیں شاید تبھی مزہ آتا ہے، رُوکھی سُوکھی کھانے کا بھی ۔
مجھے نہیں یاد میں نے کتنے لقمے کھائے اس کے بعد اس کی روٹی کے اور ہاں ۔۔۔ “مجھے اب برگر نہیں پسند، سادہ روٹی کھاتا ہوں جو بہت لذیذ ہوتی ہے۔ 👇👇

موت کا وقت متعین ہے۔


۔****************
موت پر انسان کے اعمال کا رجسٹر اور توبہ کا دروازہ بند اور جزا و سزا کا وقت شروع ہو جاتا ہے ۔

خالق کائنات اللہ رب العزت نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کر دی ہے اور موت ایسی شئے ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص خواہ وہ کافر یا فاجر حتیٰ کہ دہریہ ہی کیوں نہ ہو، موت کو یقینی مانتا ہے۔ اگر کوئی موت پر شک و شبہ بھی کرے تو اسے بے وقوفوں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ بڑی بڑی مادی طاقتیں اور مشرق سے مغرب تک قائم ساری حکومتیں موت کے سامنے عاجز و بے بس ہو جاتی ہیں۔ موت بندوں کو ہلاک کرنے والی، بچوں کو یتیم کرنے والی، عورتوں کو بیوہ بنانے والی، دنیاوی ظاہری سہاروں کو ختم کرنے والی، دلوں کو تھرانے والی، آنکھوں کو رلانے والی، بستیوں کو اجاڑنے والی، جماعتوں کو منتشر کرنے والی، لذتوں کو ختم کرنے والی، امیدوں پر پانی پھیرنے والی، ظالموں کو جہنم کی وادیوں میں جھلسانے والی اور متقیوں کو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والی شئے ہے۔ موت نہ چھوٹوں پر شفقت کرتی ہے، نہ بڑوں کی تعظیم کرتی ہے، نہ دنیاوی چوہدریوں سے ڈرتی ہے، نہ بادشاہوں سے ان کے دربار میں حاضری کی اجازت لیتی ہے۔ جب بھی حکم خداوندی ہوتا ہے تو تمام دنیاوی رکاوٹوں کو چیرتی اور پھاڑتی ہوئی مطلوب کو حاصل کر لیتی ہے۔ موت نہ نیک صالح لوگوں پر رحم کھاتی ہے، نہ ظالموں کو بخشتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کو بھی موت اپنے گلے لگا لیتی ہے اور گھر بیٹھنے والوں کو بھی موت نہیں چھوڑتی۔ اخروی ابدی زندگی کو دنیاوی فانی زندگی پر ترجیح دینے والے بھی موت کی آغوش میں سو جاتے ہیں اور دنیا کے دیوانوں کو بھی موت اپنا لقمہ بنا لیتی ہے۔ موت آنے کے بعد آنکھ دیکھ نہیں سکتی، زبان بول نہیں سکتی، کان سن نہیں سکتے، ہاتھ پیر کام نہیں کر سکتے۔ موت نام ہے روح کا بدن سے تعلق ختم ہونے کا اور انسان کا دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرنے کا۔ ترقی یافتہ سائنس بھی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر اعلان فرما دیا ہے: روح صرف اللہ کا حکم ہے۔ موت پر انسان کے اعمال کا رجسٹر بند کر دیا جاتا ہے، اور موت پر توبہ کا دروازہ بند اور جزا و سزا کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے یہاں تک کہ اُس کا آخری وقت آ جائے۔

ہم ہر روز، ہر گھنٹہ، بلکہ ہر لمحہ اپنی موت کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ سال، مہینے اور دن گزرنے پر ہم کہتے ہیں کہ ہماری عمر اتنی ہو گئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایام ہماری زندگی سے کم ہو گئے۔ موت ایک مصیبت بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت پیش آ جائے۔‘‘ (المائدۃ 106)
اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی متعدد آیات میں موت اور اس کی حقیقت کو بیان کیا ہے جن میں سے چند آیات پیش خدمت ہیں۔:
● « ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کو دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہ صحیح معنیٰ میں کامیاب ہو گیا اور یہ دنیاوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ (آل عمران 185)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی کامیابی کا معیار ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حال میں ہماری موت آئے کہ ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارے اور دخولِ جنت کا فیصلہ ہو چکا ہو ۔
● « اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے، اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی اور فضل و کرم والی ذات باقی رہے گی ۔ (الرحمن 27,26)
● « ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اللہ کی ذات کے۔ حکومت اسی کی ہے، اور اُسی کی طرف تمہیں لوٹ کرجانا ہے۔ (القصص 88)
● « ( اے پیغمبر ﷺ!) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کیلئے طے نہیں کیا، چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہو گیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں؟ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں آزمانے کے لئے بری اور اچھی حالتوں میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہمارے ہی پاس لوٹ کر آؤ گے۔ (الانبیاء 35,34)
● « تم جہاں بھی ہو گے (ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جا پکڑے گی، چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ رہ رہے ہو۔ ( النساء 78)
● « (اے نبی ﷺ!) تم کہہ دو کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے۔ ( الجمعہ 8)
یعنی وقت آنے پر موت تمہیں ضرور اچک لے گی۔
● چنانچہ جب اُن کی مقررہ میعاد آ جاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتے۔ ( الاعراف34)
● اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ زمین کے کس حصہ میں اُسے موت آئے گی۔ (لقمان34)

ان مذکورہ آیات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کا مرنا یقینی ہے، لیکن موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی بشر کو معلوم نہیں چنانچہ بعض بچپن میں، توبعض عنفوان شباب میں اور بعض ادھیڑ عمر میں، جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔ بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں، لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہو چکے ہیں۔
یہی دنیاوی، فانی، وقتی زندگی‘ اخروی ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آ کھڑی ہو گی تو وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار! مجھے واپس بھیج دیجئے تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں، اس میں جا کر نیک اعمال کروں۔ ہرگز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے، اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ ہے جب تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں۔ ‘‘

لہذا ضروری ہے کہ ہم افسوس کرنے یا خون کے آنسو بہانے سے قبل اس دنیاوی فانی زندگی میں ہی اپنے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہماری روح ہمارے بدن سے اس حال میں جُدا ہو کہ ہمارا خالق و مالک و رازق ہم سے راضی ہو۔ آج ہم صرف فانی زندگی کے عارضی مقاصد کو سامنے رکھ کر دنیاوی زندگی گزارتے ہیں اور دنیاوی زندگی کے عیش و آرام اور وقتی عزت کے لئے جد و جہد کرتے ہیں، لہذا آئیے دنیا کو دنیا کے پیدا کرنے والے کی ہی زبانی سمجھیں؛:
● « اور یہ دنیاوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ۔(آل عمران 185)
● دنیاوی زندگی کا فائدہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، مگر بہت تھوڑا۔ (التوبہ 38)
● « کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے، اور جو شخص تقویٰ اختیار کرے اس کے لئے آخرت کہیں زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔ (النساء 77)
● « اور یہ دنیاوی زندگی کھیل کود کے سوا کچھ بھی نہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ دارِ آخرت ہی اصل زندگی ہے، اگر یہ لوگ جانتے ہوتے ( العنکبوت64)
● « لوگوں کے لئے اُن چیزوں کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے جو اُن کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتی ہے، جیسے عورتیں، بچے، سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر، نشان لگائے ہوئے گھوڑے، چوپائے اور کھیتیاں یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہیں۔ ( آل عمران 14)

اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم دنیاوی زندگی کو نظر انداز کر کے رہبانیت اختیار کر لیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اللہ کے خوف کے ساتھ دنیاوی فانی زندگی گزاریں اور اخروی زندگی کی کامیابی کو ہر حال میں ترجیح دیں۔
الحمد للہ! ہم ابھی بقید حیات ہیں اور موت کا فرشتہ ہماری جان نکالنے کیلئے کب آ جائے، معلوم نہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’5 امور سے قبل 5 امور سے فائدہ اٹھایا جائے: بڑھاپا آنے سے قبل جوانی سے، مرنے سے قبل زندگی سے، کام آنے سے قبل خالی وقت سے، غربت آنے سے قبل مال سے، بیماری سے قبل صحت سے۔‘‘
لہذا ہمیں توبہ کر کے نیک اعمال کی طرف سبقت کرنی چاہئے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
● « اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ ۔(النور 31)
● « کہہ دو کہ: اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے (یعنی گناہ کر رکھے ہیں)، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ یقیناً وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے (الزمر 53)
قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ 5 سوالات کا جواب دیدے: زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ (یعنی حصول ِ مال کے اسباب حلال تھے یا حرام)، مال کہاں خرچ کیا؟ (یعنی مال سے متعلق اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کئے یا نہیں)، علم پر کتنا عمل کیا؟
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
٭ اُذْکُرُوا ہَاذِمَ اللَّذَّات۔
ایک روایت میں ہے:
اَکْثِرُوْا ذِکْرَ ہَاذِمِ اللَّذَّاتِ۔
’’ لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔ ‘‘ (ترمذی)۔
موت کو یاد کرنے کے چند اسباب یعنی وہ اعمال جن سے موت یاد آتی ہے، یہ ہیں:
٭ وقتاً فوقتاً قبرستان جانا ۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
قبروں کی زیارت کیا کرو، اس سے تمہیں آخرت یاد رہے گی(مسند احمد وابوداود)۔
٭ مُردوں کو غسل دینا یا اُن کے غسل کے وقت حاضر رہنا۔
٭ اگر موقع میسر ہو تو انتقال کرنے والے شخص کے آخری لمحات دیکھنااور اُن کو کلمہ شہادت کی تلقین کرنا۔
٭ جنازہ میں شرکت کرنا۔
٭ بیماروں اور بوڑھوں سے ملاقات کرنا۔
٭ آندھی، طوفان اور زلزلے کے وقت انسانوں کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کی طاقت و قوت کا اعتراف کرنا۔
٭ پہلی امتوں کے واقعات پڑھنا۔
موت کو کثرت سے یاد کرنے والوں کو اللہ کی جانب سے مذکورہ اعمال کی توفیق ہوتی ہے:
٭ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے۔
٭ گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے۔
٭ سخت دل نرم ہوجاتا ہے اور وقتاً فوقتاً آنکھوں سے آنسو بہہ جاتے ہیں۔
٭ دل قناعت پسند بن جاتا ہے۔
٭ عبادت میں نشاط پیدا ہوتی ہے۔
٭ بہت ساری دشواریاں آسان ہو جاتی ہیں۔
٭ لمبی لمبی امیدیں اور امنگیں کم ہو جاتی ہیں۔
٭ تواضع اور انکساری پیدا ہوتی ہے جس سے انسان دوسروں پر ظلم کرنے اور کبر کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔
٭ اخروی زندگی یاد رہتی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو مرنے سے قبل مرنے کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دونوں جہاں کی کامیابی و کامرانی سے نوازے آمین

صدقہ

🛑متوجہ ہوں 🛑

ایک درخواست ہے

👈🏻 اگر آپ روزانہ بیس روپے صدقہ کرتے ہیں تو شاید ساری زندگی کسی ایک انسان کو بھی برسرِ روزگار نہیں کر سکتے لیکن اگر اپنے جیسے دس افراد کا گروپ بنا لیں اور وہ دس افراد مزید دس دس لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑ لیں تو یہ تعداد ایک سو ہوجائے گی اور ایک سو افراد روزانہ کے بیس روپے جمع کریں تو مہینہ میں ساٹھ ہزار روپے ہوجائیں گے اور ایک سال میں سات لاکھ بیس ہزار روپے.
🌷 اب یہ سو افراد کا گروپ چاہے تو چھوٹے قرضِ حسنہ دے کر ہر ماہ کسی ایک بے روزگار کو روزگار دے سکتا ہے اور چند ہی سالوں میں یہ قرض واپس آکر مزید غربت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ اور ضرورت کے مطابق فی سبیل اللہ بھی کسی کے روزگار کا بندوبست کر سکتا ہے.

💭 ذرا سوچیے!

♻️ ہمارے شہروں میں اگر اس طرح کی بیسیوں کمیٹیاں بن جائیں تو پاکستان کا نقشہ بدل جائے گا مگر یہ کرے کون؟

ہم میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ کوئی اور لیڈر بنے ۔۔۔ ارے بھائی خود آگے آئیے اور اس قوم کے لئے خود ہی کچھ کیجئے۔

👈🏻 اسی طرح اگر آپ صرف زکوٰۃ کی تقسیم ہی درست کرلیں تو بھی کایا پلٹ سکتی ہے۔ آپ یہ رقم کسی مستحق کی بحالی پر لگائیے ان شاء اللہ یہ ادائیگی صدقہ جاریہ بن جائے گی۔۔

☂️ زندگی بہت مختصر ہے اور اس مختصر دورانیہ کے 20 سے 25 سال ہماری تعلیم کھا گئی، 15 سال معیشت کو سنبھالتے سنبھلتے گزر گئے باقی پیچھے بچا کیا ۔۔۔؟؟ اس لئے آج اور ابھی سے کچھ کرنے کا جذبہ لے کر میدان میں اتر جائیے. کچھ کرنے کا جذبہ ہے تو اپنے حصے کی شمع جلائیے. اپنے رشتہ داروں، احباب، فیس بک کھاتہ سے دس لوگ نکالیے اور فوری طور پہ مخلوق کی بھلائی میں لگ جائیے

Design a site like this with WordPress.com
Get started