، اس معاملے میں جتنی ہم سے کوتاہیاں ہو رہی ہیں ان کی اصلاح کرنی چاہیے. یہ میت کے لیے ہمارا آخری تحفہ ہے اور اس کے ساتھ آخری برتاؤ ہوتا ہے اس لیے اس میں سنت طریقہ اختیار کرنا چاہیے.
جنازہ کے ساتھ پیدل چلنا مستحب ہے، اور اگر کسی سواری پر ہو تو جنازہ کے پیچھے چلے. سواری پر جنازہ کے آگے چلنا مکروہ ہے. اور جو لوگ جنازہ کے ساتھ ہیں ان کو بھی جنازہ کے دائیں یا بائیں نہیں چلنا چاہیے، پیچھے چلیں.
جنازہ کے ہمراہ جو لوگ ہوں ان کا کوئی دعا یا ذکر یا *کلمہ شہادت بلند آواز سے پڑھنا مکروہ ہے.* خاموشی کے ساتھ چلتے رہیں اور دل میں اپنی موت کے متعلق سوچتے رہیں.
میت کو سرھانے کی طرف آگے لے جائیں، میت کے داہنی طرف کے اگلے پایہ سے کندھے دینے کی ابتداء کرے پھر دائیں طرف کے پیچھے والے پایے کو پھر بائیں طرف والے اگلے پایے کو پھر آخر میں بائیں طرف والے پچھلے پایے کو کندھا دے. اور ہر بار کم ازکم دس قدم تک کندھے پر اٹھا کر چلیں. جو شخص کم ازکم چالیس قدم تک کندھا دے گا اللہ تعالیٰ اس کے چالیس بڑے گناہوں کو بخش دے گا.
جنازہ کو تیز قدم لے جانا مسنون ہے، اس لیے کے اگر میت نیک ہے تو قبر اس کے لیے بہترین منزل ہے اور میت نیک نہیں تو برا بوجھ ہے اس کو جلد کندھوں سے اتار دو. مگر اتنا تیز بھی نا ہو کے میت کو حرکت ہو اور بے حرمتی ہو.
مرد اپنی بیوی کو کندھا دے سکتا ہے اس میں کوئی شرعی منع نہیں.
اگر کوئی بیٹھا ہو کہیں پر اور جنازہ وہاں سے گزرنے لگے تو اگر جنازے میں شریک نہیں ہونا تو پھر کھڑا بھی نا ہو. صرف جنازہ کے لیے کھڑا ہونا غلط طریقہ ہے.
جنازہ کو قبرستان میں رکھنے سے پہلے اور ایک روایت میں آتا ہے کے قبر میں رکھنے سے پہلے لوگوں کو بیٹھنا نا چاہیے.
تختِ طاؤس
۔”” “” “” “”
مغل شہنشاہ شاہجہان نے تخت نشینی کے بعد اپنے لئے ایک نہایت قیمتی تخت تیار کرایا جو ’’تخت طاؤس‘‘ کہلاتا تھا۔ اس تخت کا طول ١٣ گز عرض ڈھائی گز اور بلندی ۵ گز تھی۔ یہ چھ پایوں پر قائم تھا۔ جو خالص سونے کے بنے ہوئے تھے۔ تخت تک پہنچنے کے لئے تین چھوٹے چھوٹے زینے بنائے گئے تھے۔ جن میں مختلف ملکوں کے قیمتی جواہر جڑے تھے۔ دونوں بازؤں پر دو خوبصورت مور چونچ میں موتیوں کی لڑی لئے پروں کو کھولے سایہ کرتے نظر آتے تھے۔ اور دونوں کے سینوں پر سرخ یاقوت جڑے ہوئے تھے۔ انہیں موروں کی مناسبت کی وجہ سے ہی اس کو طاؤس کہتے ہیں۔
َملَک طاؤس یعنی مور فرشتہ جس کو یزیدی مذہب میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ ممکن ہے اس تخت کی بناوٹ میں بھی اس مذہب کی تواہم پرستی کا کچھ رنگ کار فرما ہو۔بہرحال اس کے بارے میں تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ کسی یزیدی نے بھی اس کی تیاری میں حصہ لیا تھا۔
پشت کی تختی پر قیمتی ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ جن کی مالیت لاکھوں روپے تھی۔ تخت کی تیاری پر اس وقت کے حساب سے ایک کروڑ روپیہ خرچ ہوا تھا۔ جن کی مالیت آج کے اربوں روپے ہے۔ جب نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا تو دہلی کی ساری دولت سمیٹنے کے علاوہ تخت طاؤس بھی اپنے ساتھ ایران لے گیا ۔۔۔👇👇👇
بطخ کے بچے جب انڈوں سے نکلتے ہیں، تو اول اول
بطخ کے بچے جب انڈوں سے نکلتے ہیں، تو اول اول جھیل میں بطخ کے اوپر سوار اترتے ہیں۔ بطخ ان کو لیکر تیرتی ہے. چند دن بعد اچانک ایک دن بطخ اپنا بدن جھٹکتی ہے اور بچے پانی میں گر جاتے ہیں۔ فطرت راہنمائی کرتی ہے اور جبلت کچھ ہی دیر میں ان کو تیراک بنا دیتی ہے۔
فرض کیا بطخ یہ نہ کرے تو کیا ہو گا.؟
ہر گزرتے دن بچوں کا وزن بڑھتا چلا جائے گا۔ اور بطخ ان کے وزن سے ہی ڈوب جائے گی.
یہی حال ہم انسانوں کا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو سرد و گرم سے بچاتے بچاتے فطرت کی راہ میں مزاحمت شروع کر دیتے ہیں. یہ بھول جاتے ہیں کہ جس رب نے ہمارے لئے ان کے تحفظ کی قوت و ہمت ودیعت کی، اُسی رب کے ہی یہ بندے ہیں۔ ہم ان کی زندگیوں کو ریموٹ کنٹرول کی طرح پیرنٹ گائڈ کنٹرول سے باندھ دیتے ہیں۔ وقت گزرتا ہے. ان کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
اور ہم تھک ہار کر ایک دن کوئی ایک قصہ کوئی ایک وجہ پکڑ کر ان کو جھٹک کر دور کر دیتے ہیں۔ اچانک بچہ دنیا کے بازار میں تنہا اپنی ذمہ داری کیلئے کوشاں ہو جاتا ہے۔ تب اس کے پاس سب کچھ ہوتے بھی اعتماد نہیں ہوتا۔ کیونکہ اعتماد لینے کے دور میں ہم نے اپنے خود ساختہ خوف کے پردوں میں ان کو چھپا رکھا ہوتا ہے.
اپنے بچوں پر اعتماد کریں. ان کو زندگی کے بازار کو سمجھنے دیں۔ یاد رکھیں چلنا سکھانے کیلئے انگلی پکڑی جاتی ہے. کندھوں پر بھٹا کر رکھنے سے وہ چلنا نہیں سیکھے گا ۔۔۔👇👇👇
دنیا کا وہ پہلا کرکٹر جسے پھانسی دی گئی۔
قانون سب کے لئے برابر ہوتا ہے، چاہے وہ اسٹار ہو یا کوئی معمولی انسان اگر کسی نے گناہ کیا ہے تو اسے اس کی سزا مل کر رہتی ہے۔ ایک ایسے ہی واقعہ ویسٹ انڈیز میں ہوا۔ لیسلی جارج ہلٹن جو ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی تھے۔ لیسلی نے سال ١٩٣۵ء سے لے کر ٢٩٣٩ء تک چھ ٹیسٹ میچ کھیلے۔ لیسلی کو ایک فاسٹ باؤلر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کھلاڑی کو ١۷ مئی ١٩۵۵ء کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ دراصل، لیسلی نے اپنی بیوی کا بے رحمی سے قتل کر دیا تھا جس کے سبب انہیں پھانسی کے تختہ پر چڑھا دیا گیا۔ لیسلی اور لارلین نے پسند کی شادی کی تھی، لیکن شادی کے پانچ سال بعد دونوں کے درمیان فاصلوں نے جگہ لے لی۔ جس کے بعد کچھ ذاتی وجوہات ہوئیں اور غصّہ میں لیسلی نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔معاملہ عدالت میں پہنچا اور عدالت نے ٢٠ اکتوبر ١٩۵۴ء کو لیسلی کو ان کی بیوی کے قتل کے الزام میں قصور وار قرار دیا اور پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔۔۔👇👇👇
ساری لڑائیاں، سارے جھگڑے اور ساری ناراضگیاں آپ کی چلتی سانسوں تک
ساری لڑائیاں، سارے جھگڑے اور ساری ناراضگیاں آپ کی چلتی سانسوں تک ہیں. آج پتا چل جائے کہ آپ زندگی کی آخری سانسوں پر ہیں، آپ کو لاحق کوئی جان لیوا بیماری اپنی آخری اسٹیجز پر ہے تو آپ کے سارے ناراض رشتہ دار، دوست احباب بھاگے چلے آئیں گے۔ ساری لڑائیاں ہوا ہو جائیں گی۔ ساری ناراضگیاں بھول جائیں گی اور آپ سب سے مقدم ہو جائیں گے.
کبھی میت کے اردگرد بین کرتے اور اونچی آواز سے روتے ہوئے افراد دیکھے ہیں، ان میں اکثر وہ ہوتے جو میت کو خون کے آنسو رلاتے رہتے ہیں، لیکن مرتے ہی سارے جھگڑے ختم اور میت کے لئے آنسو جاری ہو جاتے ہیں.
حقیقی مسئلہ جانتے ہیں کیا ہے؟ عرف عام ہے کہ کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی قدر کا احساس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی قدر کا نہیں پچھتاووں کا آغاز ہوتا ہے.
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جیسے جذبات اور احساسات کسی کے مرنے کے بعد ہمارے دل میں اس کے لئے پیدا ہو جاتے ہیں وہ اس کے زندہ ہوتے ہوئے ہمارے دلوں میں پیدا ہو جائیں. کسی کے بستر مرگ پر پڑے ہوئے جو معافیاں اس سے مانگی جاتی ہیں وہ اس کی زندگی میں ہی اپنی غلطیوں پر اس سے معافی مانگ لی جائے.
سوچیئے ذرا، اگر ایسا ہو جائے تو معاشرے اور ہماری زندگیوں میں کتنا سکون آ سکتا ہے ۔۔۔👇👇👇