ایک مرتبہ حضرت علی نے کسی کافر کو قابو کیا قریب تھا کہ اس کی گردن تن سے جدا ہو جاتی کافر عیار و چالاک تھا اس نے فی الفور آپ (رضی اللہ)کے چہرے مبارک پر تھوک دیا غصہ کی چنگاری ناقابلِ برداشت تھی انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی لیکن محض اس غرض سے ارادہ ترک کیا کہ پہلے میرا قتل کرنا لرضاء اللہ تھا اب اگر میں اس کا خون بہاتا ہوں تو میرا انتقام بھی شامل ہو جاتا ہے۔
کیسا کامل ایمان تھا ایک کافر کی جان لینے میں ادنیٰ سا شبہ آیا تو جان بخش دی لیکن آج کلمہ گو اپنی ذاتی عناد پر سربازار گولیوں کی بوچھاڑ کر دے،ریاست کے قانون کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں جب محافظ قاتل کا روپ دھار لے،ہمارے ملک کا یہ انوکھا واقعہ نہیں یہاں ہزاروں قاتل سڑکوں پر رقص کرتے نظر آتے ہیں
ایک 22سالہ جوان پولیس مقابلے میں قتل ہو گیا جب کہ خود پولیس کا بیان ہے کہ ہے کہ یہ بھیانک قدم اس لیے اٹھایا گیا کہ نوجوان گاڑی نہیں روک رہا تھا گاڑی کے پنکچر ہو جانے کا خوف تھا گولیاں گاڑی کے اوپر سے گزریں اور پھر یوٹرن لیتے ہوئے ونڈ سکرین کے راستے واپس ہوئیں اور نوجوان کے جسم میں پیوست ہو گئیں
گاڑی میں نوجوان سے کوئی آلہِ قتل برآمد نہ ہوا
اشبیلیہ (Seville)
۔”” “” “” “” “” “” “
اس کو سیویا اور سیولی بھی کہتے ہیں۔ یہ شہر رومیوں کا ہسپالس ہے۔ مسلمانوں کا اشبیلیہ اور ہسپانیوں کا سیویا میرے سامنے تھا۔
مؤرخین ١۵٠٠ء سے ٢٠٠٠ء تک پانچ سو سال کی تاریخ کو دنیا کا جدید ترین دور کہتے ہیں اور سیویا اس دور کا نقطہ آغاز تھا۔ امریکا اس شہر سے دریافت ہوا۔ سگریٹ، سگار اور بیڑی نے اس شہر میں جنم لیا، مکئی، آلو اور چاکلیٹ اس شہر سے جدید دنیا میں داخل ہوئے، افریقہ کے سیاہ فام غلام پہلی مرتبہ اس شہر سے امریکا پہنچائے گئے، کافی، گھوڑے اور گنا اس شہر سے لاطینی امریکا کا حصے بنے۔
یہ وہ شہر تھا جس نے پوری دنیا میں آتشک اور سوزاک جیسی جنسی بیماریاں پھیلائیں اور یہ وہ شہر تھا جو اندلس میں مسلمانوں کے زوال کی پہلی اینٹ بنا ۔۔۔ غرض آپ جدید دنیا کو جس زاویئے، جس اینگل سے بھی دیکھیں گے سیویا آپ کو درمیان میں نظر آئے گا۔ یہ شہر کرسٹوفر کولمبس، ابن بطوطہ اور ابن خلدون کا شہر ہے۔
سیویا کا پہلا حوالہ یونان کی رزمیہ داستان ہیلن آف ٹرائے میں ملتا ہے۔ داستان کا مرکزی کردار ٹروجن ہسپالس (سیویا) میں پیدا ہوا تھا۔ دوسرا اہم حوالہ مورش مسلمان ہیں۔ طارق بن زیاد کے قدموں نے ۷١١ء میں سپین کی سرزمین کو چھوا۔ وہ بربر غلام زادہ سپین میں جس جگہ اترا وہاں طریفہ کے نام سے شہر آباد ہوا۔ یہ شہر آج بھی تیرہ سو (١٣٠٠) سال سے قائم ہے اور یہ سپین اور مراکش کے درمیان اہم بندرگاہ ہے۔ مراکش کا شہر طنجہ (تانجیر) طریفہ سے صرف بیس منٹ کے آبی سفر کے فاصلے پر واقع ہے۔ طریفہ اور طنجہ کے درمیان ہر گھنٹے بعد فیری چلتی ہے۔ یہ فیری دو تہذیبوں کے ساتھ ساتھ یورپ اور افریقہ دو براعظموں کے درمیان رابطہ بھی ہے۔ بنو امیہ کے زمانے میں موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے کمانڈر اور گورنر تھے۔ طارق بن زیاد ان کا غلام تھا۔ طارق بن زیاد نے ۷١١ء میں جبل الطارق (جبرالٹر) فتح کر لیا اور وہ سپین کے اہم ترین شہروں کے طرف بڑھنے لگا۔ موسیٰ بن نصیر کا صاحبزادہ عبدالعزیز بھی طریفہ میں اترا اور وہ ہسپالس کی طرف بڑھنے لگا۔ عبدالعزیز بن موسیٰ نے ۷١٢ء میں ہسپالس فتح کیا اور شہر کا نام تبدیل کر کے اشبیلیہ رکھ دیا۔
یہ شہر پھر ٢٣ نومبر ١٢۴٨ء عیسائیوں کے ہاتھوں ختم ہونے تک اشبیلیہ ہی رہا۔ اشبیلیہ کی فتح کے دو سو سال بعد ٢ جنوری ١۴٩٢ء کو مسلمانوں کی آخری ریاست غرناطہ بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی۔ آخری مسلمان فرمانروا ابو عبداللہ محمد اپنے ١١٣٠ لوگوں کے ساتھ مراکش پہنچا۔ فیض گیا اور یوں سپین میں اسلامی ریاست کا پرچم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہو گیا۔
سیویا کا تیسرا حوالہ کرسٹوفر کولمبس ہے۔ وہ سقوطِ غرناطہ کے وقت عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کے ساتھ کھڑا تھا۔ کولمبس ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا۔ وہ فنڈنگ کے لئے یورپ کے تین بادشاہوں کے پاس گیا، مگر انکار ہو گیا۔ وہ آخر میں غرناطہ کے اسلامی سقوط پر نظریں جما کر کھڑا ہو گیا۔ جوں ہی الحمرا سے اسلامی پرچم اتارا گیا، وہ آگے بڑھا، ملکہ ازابیلا کا ہاتھ چوما، مبارک باد دی اور فنڈنگ کی درخواست کر دی۔ ملکہ اس وقت خوشی کی انتہا کو چھو رہی تھی، اس نے کھڑے کھڑے کولمبس کا منہ موتیوں سے بھر دیا یوں کولمبس تین اگست ١۴٩٢ء کو سیویا سے روانہ ہوا اور ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرتے کرتے دنیا کو نئی دنیا سے متعارف کرا گیا اور اس کے بعد پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا۔ دنیا صرف دنیا نہ رہی حیران کن دنیا بن گئی۔
سیویا ہائی وے کے دونوں طرف زیتون کے باغ موجود ہیں۔ اوپر جنوبی سپین کا نیلا آسمان تنا ہوا ہے۔ شہر کی پانچ سو سال کی جدید تاریخ تین حصوں میں تقسیم ہے۔ امریکا کی دریافت کا دور، یہ دور ١۵٠٠ء سے ساڑھے ١٨۵٠ء تک محیط ہے۔ سیویا ان ساڑھے تین سو سال میں دنیا کا امیر ترین شہر اور سپین رئیس ترین ملک بن گیا۔ کارلو فائیو (چارلس فائیو) ١۵١٦ء میں سپین کا بادشاہ بنا۔ یہ دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا۔ یہ تھائی لینڈ، ایک چوتھائی ہندوستان، آدھے یورپ اور پورے امریکا کا مالک تھا۔ چنانچہ سورج چل چل کر اور جل جل کر تھک جاتا تھا، لیکن کارلو فائیو کی سلطنت ختم نہیں ہوتی تھی۔ مگر پھر بحیرۂ ہند، یورپ اور امریکا کے زیادہ تر ملک سپین کے ہاتھ سے نکل گئے۔ امریکا اور ہندوستان سے تجارت ختم ہو گئی۔ ملک طوائف الملوکی کا شکار ہو گیا اور آہستہ آہستہ یورپ کا مردِ بیمار بنتا چلا گیا۔ یوں سپین کا پہلا سنہری دور اختتام پذیرہو گیا۔
سپین کا دوسرا دور ١٩٢٩ء میں شروع ہوا۔ بادشاہ الفانسو نے سپین کی معیشت کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے امریکا اور لاطینی امریکا کے ملکوں سے رابطہ کیا۔ کولمبس کا واسطہ دیا۔ نئی دنیا راضی ہوئی اور ١٩٢٩ء کو سیویا میں جدید دنیا کی سب سے بڑی نمائش شروع ہو گئی۔ لاطینی امریکا کے تمام ملکوں نے سیویا میں اپنے قونصل خانے بنائے۔ اپنے تجارتی جہازوں کا رخ سپین کی طرف موڑا اور یوں سپین ایک بار پھر ٹیک آف کرنے لگا۔
تیسرا دور ١٩٩٢ء میں شروع ہوا۔ بارہ اکتوبر ١٩٩٢ء کو امریکا کی دریافت کے پانچ سو سال پورے ہوئے۔ سپین کے و زیرِ اعظم فلپ گونزا لیز مارکوئز نے امریکی اقوام کو ایک بار پھر راضی کیا۔ سیویا میں امریکی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی ایک اور بین الاقوامی نمائش ہوئی اور سیویا کی مہربانی سے سپین ایک بار پھر جدید دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا۔ سپین آج جو کچھ ہے اس کی وجہ ١٩٢٩ء اور ١٩٩٢ء کی نمائشیں ہیں۔ سیویا کی مرکزی شاہراہ ١٩٢٩ء کی نمائش کے لئے تعمیر کی گئی تھی ۔
لاطینی امریکا کے زیادہ تر قونصل خانے اس سڑک پر واقع ہیں۔ سیویا میں چار مقامات اہم ہیں۔ مسلمان بادشاہوں کا محل القصر، کیتھڈرل، انڈین آرکائیو اور جدید محل۔
• القصر مسلمانوں کی آخری نشانی ہے۔ محل کی بیرونی اور اندرونی دیواریں آج بھی قائم ہیں۔ ان میں اسلامی دور کی خوشبو بھی موجود ہے۔ نیلی اور سفید ٹائلیں، وہی آبنوسی لکڑی کی چھتیں اور ان چھتوں پر اسلامی نقش، وہی وزنی منقش دروازے، وہی پتھر کے فرش، وہی قدیم لکڑی کے قدیم جھروکے، وہی کمروں کے اندر فوارے اور محل کے چاروں اطراف وہی سبز باغات ۔۔۔ مسلمانوں کی پوری تہذیب آج بھی القصر میں زندہ ہے۔
مسلمان اپنا طرز تعمیر مراکش سے لائے تھے۔ سپین کے عیسائی آرکی ٹیکٹس نے ان میں اپنا خونِ جگر ملایا۔ اور یوں دنیا میں اندلسی طرزِ تعمیر نے جنم لیا۔ آپ کو یہ طرزِ تعمیر قرطبہ میں بھی ملتا ہے، غرناطہ میں بھی اور سیویا میں بھی۔ اندلسی لوگ اونچی چھتیں بناتے تھے، دیواریں موٹی ہوتی تھیں اور ان پر مٹی میں چونا ملا کر ایک ایک انچ لیپ کیا جاتا تھا اور پھر اس لیپ پر سنگ مرمر کے ٹکڑے اور چھوٹی ٹائلیں لگائی جاتی تھیں۔ یہ ٹائلیں، سنگ مرمر اور آبنوسی لکڑی تینوں مل کر اندلسی فن بن جاتی تھیں۔
دالانوں، ڈیوڑھیوں اور کمروں کے درمیان سنگ مرمر کے فوارے لگائے جاتے تھے اور فواروں کا پانی سفید پتھروں کی نالیوں سے ہوتا ہوا صحن کے تالاب میں جا گرتا تھا۔ تالاب کے گرد سرو کے چھوٹے بڑے درخت، بوگن بیل اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں اور ان بیلوں میں رنگ برنگے پرندوں کے گھونسلے ہوتے تھے۔ یہ فن القصر میں اپنے تمام رنگوں کے ساتھ موجود تھا۔ بادشاہ کا حرم چھوٹا سا الحمرا محسوس ہوتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ عیسائی بادشاہ نے غرناطہ کے بادشاہ سے الحمرا کے معمار ادھار لئے اور محل کا یہ حصہ تعمیر کیا۔
کولمبس کا دفتر بھی القصر میں تھا۔ امریکا کی تمام تجارتی مہمات اسی دفتر سے روانہ ہوتی تھیں۔ کولمبس کے جہاز کا شناختی نشان اور کولمبس کی امریکا روانگی کی پینٹنگ دفتر کی دیواروں پر لگی ہیں ۔ پینٹنگ میں کولمبس کا دوست امریکانو ویسپیوسیو صاف نظر آتا ہے۔ امریکانو نے سرخ ٹوپی پہن رکھی تھی۔ امریکانو اطالوی تھا اور کولمبس کا دوست تھا۔ کولمبس موت تک امریکا کو انڈیا سمجھتا رہا۔ اس نے اسی لئے امریکا کے قدیم باشندوں کو ”ریڈ انڈین“ کا نام دیا تھا۔
امریکانو پہلا شخص تھا جس نے نقشے کی بنیاد پر ثابت کیا ”کولمبس نے انڈیا کا نیا راستہ نہیں بلکہ ایک نئی دنیا دریافت کی۔“ امریکانو کی تھیوری بعد ازاں سچ ثابت ہوئی چنانچہ نئے ملک کا نام امریکانو کے نام پر امریکا رکھ دیا گیا۔ بادشاہ فرڈیننڈ نے ١۵٠٨ء سیویا میں ”نیوی گیشن“ کی دنیا کی پہلی یونیورسٹی بنائی اور امریکانو کو اس کا سربراہ بنا دیا۔ یونیورسٹی کی عمارت آج تک موجود ہے۔ سپین کے تمام جہاز ران کولمبس کے اس دفتر سے اجازت لے کر امریکا جاتے تھے اور بادشاہ ان کے تجارتی سامان سے اپنا حصہ وصول کرتا تھا۔
کولمبس کے دفتر کے بعد محل کے دو ہال بہت اہم ہیں۔ پہلا کارلو فائیو کی شہزادی ازابیلا دوم کے ساتھ شادی کا ہال تھا۔ ازابیلا پرتگال کی شہزادی تھی۔ وہ ہال کے دائیں دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی جبکہ کارلو فائیو بائیں دروازے سے۔ دائیں دروازے پر آج بھی پرتگال کا جھنڈا اور شناختی نشان موجود ہے جبکہ بائیں دروازے پر سپین کا نشان اور جھنڈا تھا۔ یہ ہال خصوصی طور پر اس شادی کے لئے بنایا گیا تھا۔ دوسرا ہال تیونس کی فتح کی یادگار تھا۔
١۵٣۵ء میں ترک بادشاہ سلطان سلیمان اول تیونس تک پہنچ گیا۔ وہ سیویا فتح کر کے یورپ داخل ہونا چاہتا تھا۔ کارلو فائیو نے یورپی فوج بنائی، بحری جہازوں پر تیونس پہنچا اور عثمانی خلیفہ کو شکست دی۔ اس شکست نے فیصلہ کر دیا عثمانی خلافت شمالی افریقہ سے آگے نہیں آئے گی۔ کارلو فائیو نے فتح کے بعد یہ وکٹری ہال بنوایا۔ ہال کی تین دیواروں پر طویل قالین لٹک رہے تھے۔ قالین بافوں نے قالینوں میں جنگ اور فتح کا سارا احوال نقش کر رکھا تھا۔ یہ کارپٹ پینٹنگز تھیں اور یہ پینٹنگز ہر لحاظ سے ماسٹر پیس تھیں ۔۔۔👇👇👇
❤ جنرل نالج دلچسپ معلومات ❤
سوال1: ایسا کون سا جانور ہے جس کے دانت ساری عمر بڑھتے رہتے ہیں؟
جواب: ہاتھی اور چوہا
سوال 2: وہ کون سا جانور ہے جو ناک اور منہ کے علاوہ کھال سے بھی سانس لیتا ہے؟
جواب: مینڈک
سوال 3: وہ کون سا ملک ہے جہاں پیدا ہوتے ہی بچے کی عمر نو ماہ لکھ دی جاتی ہے؟
جواب: جاپان
سوال 4: وہ کون سا پتھر ہے جو پانی میں نہیں ڈوبتا؟
جواب: جھاواں پتھر
سوال 5: کس درخت کی جڑیں سب سے زیادہ گہری ہوتی ہیں؟
جواب: جنگی انجیر کی
سوال 6: دنیا کا سب سے بڑا صنعتی شہر کون سا ہے؟
جواب: شنگھائی
سوال7: دریاؤں کا مالک کس ملک کو کہا جاتا ہے؟
جواب: بنگلہ دیش
سوال8: سب سے پہلے نوٹوں کا آغاز کس ملک سے ہوا؟
جواب: چین
سوال9: دنیا میں سب سے بڑی سونے کی کانیں کہاں ہیں؟
جواب: جنوبی افریقہ کے شہر جوہنس برگ میں
سوال10: دنیا کے کس ملک کے ہر مرد اور عورت پڑھے لکھے ہیں؟
جواب: ڈنمارک
سوال11: بھیڑیا کس ملک کا قومی نشان یے؟
جواب: ترکی
سوال12: دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کون سی چیز ہے؟
جواب: سگریٹ
سوال 13: وہ کون سا جاندار ہے جس کے دو دماغ ہوتے ہیں؟
جواب: بندر
سوال14: دنیا کی سب سے بڑی معیشت کونسی ہے؟
جواب: امریکہ
سوال 15: وہ کون سا درخت ہے جس کا تنا بہت موٹا بھی ہو سکتا ہے مگر اس میں لکڑی نہیں ہوتی؟
جواب: کیلے کا
صحرا میں بھٹکا ہوا مسافر پیاس سے مرنے کے
صحرا میں بھٹکا ہوا مسافر پیاس سے مرنے کے قریب تھا، جب دور اسے ایک کمرے کا ہیولا سا نظر آیا۔ وہ اسے نظر کا دھوکا سمجھ رہا تھا۔ چونکہ سمت تو وہ کھو چکا تھا اس لئے اس دھوکے کی طرف نڈھال بڑھنے لگا۔ وہ کمرہ دھوکا نہ تھا بلکہ اس میں ایک ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا۔
مسافر نے جلدی جلدی ہینڈ پمپ چلانا شروع کیا، لیکن عرصے سے استعمال نہ ہوا ہینڈ پمپ پانی اٹھانے سے قاصر تھا۔ وہ مایوس ہو کر بیٹھ گیا۔ اچانک ایک کونے میں اسے ایک بوتل نظر آئی پانی سے بھری ہوئی بہت اچھے سے بند یہ بوتل اس نے اٹھائی اور بیتاب ہو کر پینے کو ہی تھا کہ بوتل کے نیچے ایک پرچہ نظر آیا۔ کھول کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا، ”یہ پانی پمپ میں ڈال کر اسے چلائیں اور برائے مہربانی استعمال کے بعد اسے واپس بھر کر یہاں رکھ دیں۔“
مسافر ایک امتحان سے دوچار ہو گیا۔ ایک طرف شدتِ پیاس تھی دوسری طرف خطرہ تھا۔ پتہ نہیں پمپ کام کرے یا نہیں..؟ ایسا نہ ہو کہ یہ پانی بھی کھو دوں؟ مسافر نے لیکن رسک لیا اور پانی پمپ میں ڈال دیا۔ کچھ دیر میں ہی پمپ نے کام شروع کر دیا۔ مسافر نے جی بھر کر پانی پیا، نہایا دھویا اور بوتل بھر کر واپس پرچے پر رکھ دی۔ لیکن ساتھ ہی ایک لکیر اور لکھ دی،
“ہمیشہ اللّٰہ تعالیٰ پر یقین رکھو۔”
زندگی کے صحرا میں ہینڈ پمپ کی طرح ہمیں بھی موقع ملتا ہے، اس پانی کی بوتل کی طرح ہمیں بھی رسک لینے کا امتحان درپیش ہوتا ہے۔ ہم بھی اسی مسافر کی طرح تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔ ہم بھی چاہتے ہیں کوئی ہمیں دلاسہ دے، کندھے پر تھپتھپا کر کہے تم کر سکتے ہو۔ اس تسلی دلاسوں میں لیکن سب سے اہم ہمارا یقین ہوتا ہے. اللہ ربُ العزت کی ذات پر یقین ہی اس سفر کی ضمانت بنتی ہے ۔۔۔👇👇👇
انسان کے عمل کی ریکارڈنگ :
۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
انسان کے عمل کی ریکارڈنگ زمین و آسمان میں ہو رہی ہے۔ انسان کی انگلیوں اور پاؤں کے نشانات کے ذریعہ ان کے اعمال نامہ کی ریکارڈنگ ہر لمحہ ہوتی رہتی ہے۔ اللہ کی خدائی کے منکر یہ یقین کرتے ہیں کہ مر جانے اور ہڈیوں کے سڑ گل جانے کے بعد کس طرح انسان کو اللہ اپنے دعوے کے مطابق اپنے سامنے لا کھڑا کرے گا۔ اس کے جواب میں خود اللہ نے ارشاد فرمایا ہے؛
اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَہٗ ؕ﴿۳﴾ بَلٰی قٰدِرِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ ﴿۴﴾
’’کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو اکٹھی نہ کر سکیں گے؟ کیوں نہیں، ہم اس بات پر قادر ہیں کہ (پھر سے) اس کی انگلیوں کے پور پور تک درست کر دیں۔‘‘
(سورۃ القیامۃ : ٣ تا ۴)
اسی طرح سورہ یٰسٓ میں انسان کے عمل کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں ارشاد باری ہے؛
اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ نَکۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمۡ ؕ ؑ وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ فِیۡۤ اِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۲﴾
’’یقیناً ہم مُردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو انہوں نے پیچھے چھوڑا اور ہر چیز ہم نے درج کر لی ہے ایک کھلی کتاب میں ‘‘۔
(سورۃ یٰسٓ : ١٢)
شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس آیت کریمہ کی تشریح میں فرمایا ہے کہ ’’وہ قدم کے نشانات بھی شامل ہو سکتے ہیں جو کسی عبادت کے لئے چلتے وقت زمین پر پڑ جاتے ہیں‘‘۔ اس طرح بروزِ قیامت انسان کے اعمال کی گواہی ان کے الفاظ و اقوال کے ساتھ ان کے قدموں کے نشانات بھی دیں گے جن کی مکمل طور پر ریکارڈنگ زمین اور فضا میں کی جا رہی ہے۔ سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ انگوٹھوں کے نشانات اور قدموں کے عکس زمین پر، کاغذ یا کپڑوں پر یا جس جگہ بھی ثبت ہوتے ہیں وہ ایک اہم ثبوت ہوتے ہیں، اس انسان کی مکمل شناخت کے لئے جن کے انگوٹھوں اور پاؤں کے نشانات ہیں۔
ان نشانوں کی اہمیت کے بارے میں انسان کو انیسویں اور بیسویں صدی تک کچھ پتہ نہیں تھا، مگر اس کی اہمیت اللہ نے قرآن کریم میں آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے بیان فرما کر قرآن کو فرمان الٰہی ہونے کا ثبوت قطعی فراہم کر دیا تھا۔ انگوٹھا کے نشان کی اہمیت کا پتہ سب سے پہلے ایک انگریز سائنس داں Henry Faulds کے مقالہ کے ذریعہ ١٨٨٠ء میں ہوا جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انگوٹھوں کے نشان زندگی میں کبھی بھی نہیں بدلتے ہیںاس تحقیق کی بنیاد پر ١٨٨۴ء میں پہلی بار ایک مجرم کو سزا ملی اور تب سے انگوٹھوں کے نشان کو قانون کی دنیا میں جرم کو ثابت کرنے اور اصلی خطاکار کا پتہ لگانے کا حتمی ثبوت مان لیا گیا ۔ ١٩ویں صدی کے قبل دنیا یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ معمولی انگوٹھا کا نشان انسان کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے بہترین اور آخری ثبوت کی حیثیت رکھے گا۔
اسی لئے اللہ نے کہا ہے کہ ہڈیوں کو یکجا کرنے کی بات کرتے ہو۔ ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمہاری انگلیوں کے نشان تک کو یا پور تک کو درست کر دیں گے۔ یعنی تمہاری تمام خطاؤں کو تمہارے سامنے انگوٹھوں کے ثبوت کے ساتھ پیش کر دیں گے کہ یہ سب تمہارا ہی کیا ہوا جرم ہے۔ انگوٹھا کے اس کرشمہ ساز ثبوت کے بارے میں سائنس نے تحقیق کر کے ١٨٨٠ء ہی میں پتہ لگا لیا تھا۔ مگر قدموں کے نشانات بھی ایک حتمی ثبوت کا درجہ رکھتے ہیں، اس کے بارے میں گیارہویں بارہویں صدی کی سائنسی تحقیق نے بتا دیا کہ انسان جب چلتا ہے تو اس کے قدموں کے نشانات جو لہروں کے ذریعہ چیزوں پر ثبت ہوتے ہیں وہ کسی اور کے قدموں کے نشان سے بالکل میل نہیں کھاتے ہیں۔ یعنی انسان کے قدموں کے نشان ریکارڈ ہوتے ہیں، منفرد ہوتے ہیں اور بدلتے نہیں ہیں۔
اس لئے اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ جو کچھ انسان مرنے سے قبل اپنے اعمال کو یکجا کرتا ہے، وہ سب کے سب ریکارڈ کئے جاتے ہیں ۔ قرآنی آیات کی تفسیر میں یہ بات آتی ہے کہ انسان کے اعمال ان کے قدموں کے نشانات کے ذریعہ بھی یکجا ہوتے ہیں، ریکارڈ ہوتے ہیں۔ قدموں کے عکس کے بارے میں گزشتہ دنوں کافی اطلاعات شائع ہوئی ہیں، جو قاری کی نگاہ سے گزری ہوں گی۔ ملک اور بیرون ملک کے مختلف روزناموں اور جریدوں میں اس کی اطلاع شائع ہوئی ہے ۔ سائنسی تحقیق کے مطابق ’’چونکہ پسینوں کے غدود کی نالیاں برادمہ (Epidermis) کی اُبھاروں کی چوٹیوں پر کھلتی ہیں، اس لئے جب کسی ہموار چیزوں کو چھوا جاتا ہے تو اسی پر انگلیوں یا پاؤں کے نشانات ثبت ہو جاتے ہیں۔ مگر اب تو یہاں تک ثابت کیا جا رہا ہے کہ انگلیوں، پاؤں، جسموں کی لہروں کے ذریعہ نشانات ثبت یا عکس درج ہو جاتے ہیں۔
میڈیکل ویب سائٹ MED کی رپورٹ کے مطابق جاپان کی ’’شن شو یونیورسٹی‘‘ کے ڈاکٹر جناب ’ تادپاتا سکی‘ جو اس طرح کی تحقیق کے اہم فرد ہیں، کہتے ہیں کہ ’’پاؤں ہمارے جسم کا ایسا واحد حصہ ہیں جو چلنے کے دوران اپنے ماحول سے براہِ راست رابطے میں آتے ہیں۔ چنانچہ معجزاتی طور پر پاؤں اپنی مخصوص چال کے نشان زمین پر منتقل کرتے ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے ہم اپنے جاننے والوں کو ان کی چال کی بناء پر دور سے ہی پہچان لیتے ہیں۔ چاہے وہ دور سے صاف طور پر دکھائی بھی نہ دے رہے ہوں ۔
ماہرین نے اپنے تجربات کے دوران ١٠۴ انسانوں کو ’فٹ میٹ طرز کے ایسے پلیٹ فارم پر سے گزرنے کو کہا جس میں ہزاروں سینسر نصب کئے گئے تھے۔ انہوں نے ہر انسان کے دس قدموں کا ڈیٹا ریکارڈ کر کے اس کا تجزیہ کیا جس سے پتہ چلا کہ ہر شخص کے قدموں کا الیکٹرانک گراف دوسرے شخص سے بالکل مختلف ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر پاتا سکی نے اپنے ریسرچ میں کہا ہے کہ ١٠۴ افراد کے ایک ہزار چالیس قدموں کے نشانات سے جو نتائج حاصل ہوئے ہیں، ان میں صرف ٣ غلطیاں تھیں جسے سُدھارا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو مختلف افراد کے پاؤں کے نمبر، جسمانی ساخت اور وزن چاہے ایک جیسا ہی کیوں نہ ہو مگر ان کے پاؤں زمین پر ایک دوسرے سے بالکل مختلف انداز میں دباؤ ڈالتے ہیں۔
اب تک کے تجربات میں ماہرین نے ننگے پاؤں چال کا الیکٹرانک گراف حاصل کیا ہے، لیکن ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی “لیور پول یونیورسٹی“ کے الیکٹریکل انجینئرنگ کے سائنسداں ڈاکٹر جان گولر ماس کہتے ہیں کہ انہیں توقع ہے کہ جلد ہی ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کر لیا جائے گا جس سے جوتے اتارنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی، کیونکہ جوتے کا سول اور اس کا ڈیزائن چاہے ایک جیسا ہی کیوں نہ ہو، زمین پر اس کے دباؤ کا انحصار اس پر ہے کہ وہ کس کے پاؤں میں ہے۔
ان سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ہر انسان زمین پر ایک مخصوص انداز میں اپنا قدم رکھتا ہے جس کی وجہ سے مختلف پاؤں زمین پر الگ الگ انداز میں الگ الگ دباؤ ڈال کر بالکل ایک دوسرے سے منفرد نتائج پیدا کرتے ہیں۔ انسان کے پاؤں میں (تلوے میں) ایک لاکھ سے زیادہ ایسے مختلف حصے ہیں جن کی وجہ سے زمین پر پاؤں ڈالنے کا دباؤ الگ الگ ڈھنگ سے اور طریقہ سے پڑتا ہے اور ان کی نشانیاں محفوظ ہو جاتی ہیں، جنہیں دوبارہ ریکارڈ کے ذریعہ دیکھا جا سکتا ہے اور اس آدمی کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے جدید سائنسی دور میں چال اور قدموں کے نشانات کی اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے اور کسی بھی فردِ واحد کے قدموں کے نشان کے ریکارڈ سے جسمانی طور پر انسان کو روکے بغیر اور انہیں چیک کئے بنا اس کی شناخت ہو سکتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پرانے زمانے میں کھوجی یا تفتیش کنندہ مجرموں کی تلاش میں انسانوں اور جانوروں کے پاؤں کے نشانات سے کام لیتے تھے اور مجرموں کے راہ گذر کا پتہ لگا لیتے تھے۔ کھوجی یا جاسوس اتنے ماہر ہوتے تھے کہ وہ جانوروں کے کُھروں کے نشان دیکھ کر ان کے بارے میں غیر معمولی حد تک درست اندازہ لگا لیا کرتے تھے۔ مثلاً یہ کہ گھوڑے، ہرن یا کسی دوسرے جانور کی جسامت کیسی ہے، وزن کتنا ہے، اس کے چلنے کا قدرتی انداز کیا ہے اور یہ کہ اس پر سوار شخص اسے کس انداز میں چلانے کی یا دوڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر یہ نشانات تو زمین پر بظاہر نظر آ جاتے تھے، اب سائنس نے تحقیق کر کے یہ بتا دیا ہے کہ انسان کی جسمانی لہریں فضا میں ثبت ہو کر اپنا ثبوت عکس کر دیتی ہیں، جنہیں ریکارڈ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اس وقت حساس مقامات پر مشکوک افراد کی نگرانی کے لئے ویڈیو کیمرے وغیرہ لگا کر مجرموں کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ ’ڈاکٹر گرلرماس‘ کا کہنا ہے کہ اگر ایسے حساس مقامات کے راستوں یا گزرگاہوں پر پریشر پوائنٹ ریکارڈ کرنے والے فٹ میٹ بچھا دیئے جائیں تو وہاں سے گزرنے والے ہر شخص کی شناخت کمپیوٹر اپنے ڈیٹا ریکارڈ کر کے اطلاع بہم پہنچا دے گا اور اس طرح مجرم کی اپنی ذاتی اطلاع کے بغیر یا ان کو بھنک لگے بغیر انہیں گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔ یعنی انسان جہاں کہیں بھی جاتا ہے، اٹھتا بیٹھتا ہے، چلتا پھرتا ہے۔ ان تمام جگہوں پر اپنے پاؤں کے نشانات کے ذریعہ اپنے حق میں یا اپنی مخالفت میں ثبوت پیدا کرتا جاتا ہے ۔
یہ تمام ثبوت زمین پر اور فضاؤں میں ثبت ہو جاتے ہیں، لہٰذا قرآنی تشریح کے مطابق انسان جو کچھ عمل آگے بھیجتا ہے یا جو کچھ عمل وہ پیچھے چھوڑتا ہے وہ سب کے سب ایک محفوظ کتاب میں درج کر لئے جاتے ہیں ۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ بندہ جو کچھ بولتا ہے، عمل کرتا ہے یا جہاں جہاں اپنے قدموں سے چل کر جاتا ہے وہ سب کے سب ریکارڈ ہو رہے ہیں اور یہ تمام ثبوت انسان کے حق میں یا ان کے خلاف ریکارڈ کی شکل میں بروز حشر پیش کئے جائیں گے۔ سائنس نے اس بات کی توثیق کردی ہے کہ
• انگوٹھوں کے نشانات ایک مکمل ثبوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
• قدموں کے نشان بالکل نا قابلِ تنسیخ ثبوت ہیں۔
• انسان کے تمام حرکات و سکنات کی ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔
• زمین اور فضا میں تمام ثبوت ریکارڈ کئے جا رہے ہیں۔
اللہ نے اپنی کتاب میں فرما دیا ہے کہ ہر ایک ذی روح کے لئے نگراں اور محافظ مقرر ہے جو ان کی کارکردگی کا لیکھا جوکھا تیار کرتا رہتا ہے۔ زمین انہیں ریکارڈ کو اپنی زبان سے خدا کے حضور بیان کرے گی، جیسا کہ سورہ زلزال میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سورہ طارق میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کی تشریح کے مطابق انسان کا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ ہم نے مکمل ایمان کی وجہ سے ان دیکھے خدا کے غیب کی تمام باتوں پر یقین کیا ہے۔ یہی ایمانی تقاضہ ہے۔ وہ جو ان سب باتوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے سائنسی تحقیق ببانگ دہل اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ قرآن کریم اللہ اور صرف اللہ کی کتاب ہے جو درست اور سچ ہے ۔۔۔👇👇👇